ؒلیہہ اپیکس باڈی، کرگل ڈیموکریٹک الائنس کا مشترکہ احتجاج لداخ کو لداخیوں کے سپردکرنے، ریاستی درجہ کی بحالی، چھٹے شیڈول کے نفاذ کا مطالبہ

نیوز ڈیسک
جموں// لیہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے جموں میں احتجاج کیا اور لداخ کو ریاست اور خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔پریس کلب جموں کے باہر جمع ہوئے لیہہ اور کرگل (لداخ یوٹی )سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے سیاسی نمائندوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرہ میں نوانگ ریگزن جورا،سجاد حسین کرگلی اور قمر علی آخون موجود تھے۔مظاہرین میں سے ایک نے کہا”ہم نے لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی مشترکہ میٹنگ کی جس میں چار مطالبات یعنی لداخ کو ریاست کا درجہ دینے، چھٹے شیڈول کا نفاذ، ملازمتوں کا تحفظ، علیحدہ پبلک سروس کمیشن اور لیہہ اور کرگل کیلئے لوک سبھا کی نشستیں مختص کرنے کیلئے پرامن احتجاجی مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا”۔مظاہرین نے کہا کہ انہوں نے 23 فروری 2023 کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے احتجاجی مظاہرے کو تیز کیا جائے گا۔ مظاہرین میں سے ایک نے ریاست کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا”ہم لداخیوں کو کسی بیوروکریسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ لہٰذا لداخ کو ان کی حکومت اور روزمرہ کے معاملات چلانے کے لیے لداخیوں کے حوالے کر دیا جائے‘‘۔مظاہرین نے کہا “مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے حقیقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے ہاتھ ملایا ہے تاکہ جموں و کشمیر میں جمہوری نظام کو بحال کرنے کیلئے لداخ کو ریاست کا درجہ دیاجائے”۔ انہوں نے یونین ٹیریٹر ی درجہ کی مخالفت کی۔