،۔8ماہ میں 71شہری ہلاکتیں

 سرینگر//وادی میںشہری ہلاکتوں کا گراف میں امسال اضافہ ہوا ہے۔ امسال8 ماہ کے دوران 71 شہری ہلاکتیں رونما ہوئیں،جن میں 35 افراد جائے جھڑپوں کے نزدیک مارے گئے۔ امسال جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ شہری ہلاکتیں رونما ہوئیں،جو50 سے تجاوز کر گئیں ہیں۔جنوری میں7، فروری میں4اورمارچ میں5شہری لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اپریل  میں سب سے زیادہ17شہری جاں بحق ہوئے،جبکہ مئی کے نصف ماہ میں جنگ بندی کے باوجود14شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا اور جون کے نصف ماہ میں بھی جنگ بندی کے باوجود8شہری لقمہ اجل بن گئے۔ جولائی میں8شہریوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیاجبکہ اگست میں 7شہری لقمہ اجل بن گئے۔گزشتہ برس مجموعی طور پر قریب61عام شہری گولیوں کا نشانہ بن گئے جن میں ایک بچی سمیت9خواتین بھی شامل تھیں۔ امسال35افراد،جن میں2لڑکیاں بھی شامل ہیں، جائے جھڑپوں کے نزدیک گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ سرینگر میں2نوجوانوں کو گاڑیوں سے کچلنے کے علاوہ بڈگام میں دماغی طور پر معذور شہری کو گولی ماری دی گئی،ضلع گاندربل میں بھی2ہلاکتیں رونما ہوئیں،وسطی کشمیر میں8شہری جبکہ شمالی کشمیر میں11اور سب سے زیادہ جنوبی کشمیر میں52شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔جنوبی کشمیر کے شوپیاں میں سب سے زیادہ قریب24ہلاکتیں رونما ہوئیں۔ شہری ہلاکتوں میں سیاسی لیڈر غلام نبی پٹیل کے علاوہ مزاحمتی لیڈر محمد یوسف ندیم اور معروف صحافی شجاعت بخاری بھی شامل ہیں۔