GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
فیس کی عدم ادائیگی اور بجلی چوری کا اصل مرتکب کون؟
سرکار900کروڑ کی بقایادار

نیوز ڈیسک
جموں//شدید ترین بجلی بحران اور بجلی شعبہ میں مالی خسارے کیلئے سرکار کی جانب سے بجلی چوری اور صارفین کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی کا واویلا مچانے کے بیچ اس بات کے انتہائی اہم اعدادوشمارسامنے آئے ہیں کہ لو گو ں پر بجلی چو ری کا الزام اور فیس کی عدم ادا ئیگی کا طعنہ محض جھوٹ کا طومار ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ خود سرکاری اداروں،حکومت چلانے والے وزیروںاورعوامی نمائندوں کے علاوہ سرکاری دفا تر کے ذ مہ محکمہ بجلی کے900 کرو ڑ روپے واجب الا داہیں۔
صوبہ کشمیر
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کشمیر صوبہ میں قائم 52سے زاید سرکاری محکمے بجلی فیس کی ادائیگی کے تعلق سے 271 کروڑ ،5لاکھ 87ہزار روپے کے مقروض تھے۔بجلی فیس ادانہ کرنے والوں میں محکمہ آب پاشی و انسداد سیلاب 184کروڑ روپے کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ صرف کشمیر یونیورسٹی اور محکمہ اعلیٰ تعلیم نے پیشگی فیس ادا کررکھی ہے۔کشمیر صوبہ کے محکمہ جات میں صحت محکمہ کے پاس 14کروڑ 5 لاکھ 11 ہزار، تعمیرات عامہ کے پاس 1کروڑ 31 لاکھ 22 ہزار، محکمہ مال کے پاس 2کروڑ 74لاکھ 43ہزار، پشو پالن محکمہ کے پاس 1کروڑ 22لاکھ 79ہزار، محکمہ تعلیم کے پاس 2 کروڑ 54 لاکھ 79ہزار، محکمہ آبپاشی کے پاس 46 کروڑ 50 لاکھ 34 ہزار ، اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول کے پاس 137 کروڑ 29 لاکھ 74 ہزار، دیہی ترقی محکمہ کے پاس 98 لاکھ 98 ہزار، تکنیکی تعلیم محکمہ کے پاس 72 لاکھ 35 ہزار، محکمہ خزانہ کے پاس 37 لاکھ 39 ہزار، محکمہ ابریشم میں 6لاکھ 54 ہزار، باغبانی میں 66 لاکھ30 ہزار، ایس آر ٹی سی ٹرانسپورٹ میں 15 لاکھ 55 ہزار وائلڈ لائف محکمہ کے پاس 11 لاکھ 57 ہزار، سیلز ٹیکس کے پاس 4 لاکھ 47 ہزار، جوڈیشری کے پاس 18 لاکھ 42 ہزار، بلدیاتی اداروں کے پاس 243 لاکھ 77 ہزار، میونسپل کمیٹیوں اور نوٹیفائیڈ کمیٹیوں کے پاس 4 کروڑ 95 لاکھ 10ہزار، پولیس محکمہ کے پاس 13کروڑ 58 لاکھ 54 ہزار، محکمہ اطلارعات کے پاس 5لاکھ 95 ہزار، محکمہ سیاحت کے پاس 1 کروڑ 58 لاکھ 15 ہزار، جے کے ٹی ڈی سی کے پاس 1 کروڑ 94 لاکھ 70ہزار، محکمہ بجلی کے پاس 2 کروڑ 80 لاکھ 39ہزار، پی ڈی سی کے پاس 1کروڑ 27لاکھ، محکمہ جنگلات کے پاس 1کروڑ 7لاکھ 15ہزار، مچھلی پالن محکمہ کے پاس 40لاکھ 99ہزار، گلبانی محکمہ کے پاس 1کروڑ 70لاکھ 77ہزار، محکمہ تواضع کے پاس 23 لاکھ 32ہزار، سماجی بہبود محکمہ کے پاس 15 لاکھ 15ہزار، دستکاری محکمہ کے پاس 9لاکھ 16ہزار، سڈکو اورسیکاپ کے پاس 10 لاکھ 39ہزار، شیپ ہسبنڈری کے پاس 1لاکھ 80ہزار، صنعت و حرفت کے پاس 58لاکھ 47ہزار، LAWDA کے پاس 2 کروڑ 10لاکھ 24ہزار، محکمہ جائیداد کے پاس 1کروڑ 68 لاکھ 49ہزار، فوڈ اینڈسپلائز محکمہ کے پاس 12 لاکھ 91ہزار، قانون ساز اسمبلی اور ممبران اسمبلی کے پاس 6لاکھ 30ہزار، سٹیٹ موٹر گراجز کے پاس 3لاکھ 37ہزار، گورنمنٹ پریس کے پاس 2کروڑ 20لاکھ 20ہزار، زرعی یونیورسٹی کے پاس 45لاکھ 96ہزار، گورنمنٹ وو لن اینڈ سپنگ ملز کے پاس 2کروڑ 27لاکھ 48ہزار، سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کے پاس 4لاکھ 76ہزار، فائر سروسز کے پاس 43 لاکھ 65 ہزار، جیل خانہ کے پاس 1 کروڑ 46 لاکھ 13 ہزار، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پاس 3 کروڑ 12 لاکھ 30 ہزار، صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے پاس 1 کروڑ 18 لاکھ 28 ہزار جبکہ دیگران کے پاس 3 کروڑ 40 لاکھ 89 ہزارروپے واجب الادائ ہیں تاہم کشمیر یونیورسٹی اور محکمہ اعلیٰ تعلیم ایسے دو محکمے ہیں جن کے پیشگی پیسے محکمہ بجلی کے پاس پڑے ہوئے ہیں۔ دونوں محکموں کے بالترتیب 81 لاکھ 23 ہزار اور 14 لاکھ 38 ہزار روپے محکمہ بجلی کے پاس پڑے ہیں۔جبکہ اسی عرصہ کے دوران کشمیر میں قائم ان محکموں سے 69 کروڑ 58 لاکھ 85 ہزار روپے بطور فیس وصول کئے گئے ہیں۔

جموں

جہاں تک جموں صوبہ کا تعلق ہے تو اس صوبہ میں مختلف سرکاری کے پاس 629 کروڑ روپے بطور بجلی فیس واجب الادا ہے۔محکمہ وار اعدادوشمار کے مطابق میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے پاس 23 کروڑ 69 لاکھ 62 ہزار 6سو، پولیس محکمہ کے پاس 5 کروڑ 14 لاکھ55 ہزار 2سو، محکمہ تعلیم کے پاس 6 کروڑ 15 لاکھ 27 ہزار، ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کے پاس 2 کروڑ 19 لاکھ 75 ہزار، تکنیکی تعلیم محکمہ کے پاس 2 کروڑ 12 لاکھ 43 ہزار 6سو، محکمہ کتب خانہ کے پاس 4لاکھ 35ہزار، محکمہ ہینڈی کرافٹ و ہینڈلوم کے پاس 14 لاکھ 93 ہزار، زراعت محکمہ کے پاس 4 کروڑ 34 لاکھ30 ہزار 5سو، باغبانی محکمہ کے پاس 25 لاکھ 6سو، جنگلات محکمہ کے پاس 2 کروڑ 45لاکھ 99 ہزار 8سو، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمہ کے پاس 1 کروڑ 14لاکھ 76ہزار 9سو، محکمہ مال کے پاس 1 کروڑ 31لاکھ 47ہزار 5سو، شیپ ہسبنڈری کے پاس 29 لاکھ 96 ہزار 3سو، محکمہ تعمیرات عامہ کے پاس 30 کروڑ 4لاکھ 24ہزار، لفٹ اری گیشن محکمہ کے پاس 49 کروڑ  33لاکھ 63 ہزار 8 سو، انسدداد سیلاب محکمہ کے پاس 75 لاکھ 92 ہزار 7 سو، محکمہ خزانہ کے پاس 15 لاکھ 17 ہزار ایک سو،محکمہ دیہی ترقی کے پاس13کروڑ9لاکھ12ہزر2سو،ڈائریکٹر کمانڈ ائریا دیولپمنٹ کے پاس1لاکھ60ہزار8سو،محکمہ اطلاعات کے پاس22لاکھ64ہزار 7سو،سماجی بہبود محکمہ کے پاس64لاکھ20ہزار9سو،صنعت محکمہ کے پاس70ہزار2سو،سٹیٹ موٹر گراجز کے پاس48لاکھ 70 ہزار 4سو، مچھلی پالن کے پاس 80لاکھ29ہزار6سو،محکمہ بجلی کے پاس1کروڑ76لاکھ51ہزار2سو،گوجر و بکروال بورڈ کے پاس45 لاکھ 87ہزار2سو،سیاحت محکمہ کے پاس20کروڑ3لاکھ22ہزار5سو،آبپاشی محکمہ کے پاس362کروڑ80لاکھ81ہزار2سو،میونسپل کارپوریشن جموں،نوٹیفائیڈ ائریا کمیٹی وٹائون ائریا کمیٹیوں کے پاس48کروڑ42لاکھ96ہزار1سو،پشوپالن محکمہ کے پاس 2کروڑ 18 لاکھ 69ہزار6سو،فائر سروسز محکمہ کے پاس20لاکھ83ہزار9سو،جوڈیشری کے پاس 1کروڑ88لاکھ58ہزار8سو،فوڈسپلائز محکمہ کے پاس7لاکھ2سو،محکمہ امور نوجوان و کھیل کود کے پاس89لاکھ9سو،جیالوجی اینڈ مائننگ محکمہ کے پاس8لاکھ20ہزار8سو،سٹیشنری محکمہ کے پاس87ہزار 4سو،محکمہ ابریشم کے پاس20لاکھ55ہزار8سو،محکمہ روزگارکے پاس9لاکھ94ہزار7سو،کلچرل اکادمی کے پاس 5لاکھ 66 ہزار4سو،میکا نیکل انجینئرنگ محکمہ کے پاس2کروڑ10لاکھ77ہزار،محکمہ شماریات کے پاس30لاکھ 81ہزار 7سو، DPAP/IRDPکے پاس3لاکھ20ہزار،محکمہ امداد باہمی کے پاس16لاکھ70ہزار5سو،آرٹی او کے پاس94 لاکھ 72ہزار 3سو، محکمہ امور مزدوران کے پاس37لاکھ35ہزار7سو،محکمہ ناپ وتول کے پاس37ہزار3سو،محکمہ جائیداد کے پاس6کروڑ 30 لاکھ 58ہزار1سو،محکمہ بازآبادکار ی کے پاس83کروڑ70لاکھ12ہزار4سو،جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی ،یوڈی اے کے پاس 2کروڑ51لاکھ51ہزار1سو،گلبانی محکمہ کے پاس1کروڑ98لاکھ20ہزار9سو،ایس ایس آر بی کے پاس1لاکھ58ہزار،ملک سپلائز محکمہ کے پاس11لاکھ47ہزار9سو،یو ای ای ڈی سیوریج محکمہ کے پاس51لاکھ39ہزار8سو،یونیورسٹیوں کے پاس19لاکھ60ہزار 9سو،جے کے ٹی ڈی سی کے پاس72لاکھ48ہزار،محکمہ تواضع کے پاس75ہزار،ایس آر ٹی سی کے پاس81لاکھ48ہزار3سو،سیوا پن بجلی پروجیکٹ کے پاس87لاکھ52ہزار8سو،پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پاس90ہزار1سو،سیکاپ کے پاس3لاکھ79ہزار8سو،کھادی ولیج محکمہ کے پاس1لاکھ79ہزار9سو،ضلع سینک بورڈ کے پاس47ہزار4سو،جے کے پی سی سی کے پاس14ہزار9سو،انکم ٹیکس محکمہ کے پاس2لاکھ61ہزار2سو،سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کے پاس10ہزار9سو،ٹائون پلانر کے2سو اورسیلز ٹیکس محکمہ کے پاس27لاکھ42 ہزار روپے بطور فیس واجب الادا ہیں۔اس عرصہ کے دوران ان محکموں سے مجموعی طور124کروڑ12لاکھ روپے بطور فیس وصول کئے گئے۔ اس سے قبل مارچ2011تک ریاست جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر1100کروڑ روپے واجب الادا تھے جن میں سے ریاستی صارفین کے پاس صرف350کروڑ بقایا تھے جبکہ 750کروڑ روپے سرکاری محکموں ،جن میں سیکورٹی فورسز بھی شامل ہیں ،کے نام واجب الادا تھے‘‘۔ اگست 2011 میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ ریاست میں سرکاری محکموں کے پاس عام صارفین سے زیادہ یعنی 508 کروڑروپے کی بجلی فیس واجب الادا ہے جبکہ 22اضلاع میں رہائش پذیر لاکھوںصارفین کے پاس محض 152کروڑ روپے بقایاتھے۔2009میں بھی سرکاری محکمے1300کروڑ روپے کے مقروض تھے جبکہ 2008میں یہ رقم576کروڑ تھی۔حساب و کتا ب کی اس جمع تفریق سے یہ با ت ثابت ہوجاتی ہے کہ ریاست میں صارفین سے زیادہ سرکاری محکمے ہی الیکٹرک ڈپا رٹمنٹ کے قرضو ں میں ڈو بے ہو ئے ہیں۔

وزرا اور ارکان اسمبلی بھی مقروض

 اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جموں اور کشمیر صوبوں میں وزراء  اور ممبران اسمبلی کی سرکاری اور نجی کوٹھیوں کا تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کا بجلی فیس واجب الادا ہے ۔اعدادوشمار کے مطابق کشمیر میں اس حوالے سے 16لاکھ 98ہزار 634 روپے جبکہ جموں میں 1کروڑ 39ہزار روپے جنوری 2012تک مختلف وزراء اور ممبران اسمبلی کی کوٹھیوں میں واجب الادا ہے۔ اس دوران اس بات کی جانکاری دی گئی کہ وزیر سیاحت کے علاوہ سابق و موجودہ نائب وزیر اعلیٰ کے علاوہ مختلف بورڈوں کے وائس چیئرمینوں اور کچھ سابق وزراء کے سرکاری مکانوں میں بجلی کی بلیں وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ سے بہت زیادہ ہے جبکہ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ کشمیر میں اس بجلی فیس کی رینج 273سے 6لاکھ 55ہزار 642اور جموں میں کچھ ہزار سے لیکر 9لاکھ روپے تک ہے۔ اس سلسلے میں وزیر سیاحت نوانگ ریگزن جورا کی سرکاری رہائش گاہ دوڑ میں سب سے آگے ہے، جس کا اب تک 10لاکھ روپے بجلی فیس واجب الادا ہے جبکہ اسی طرح سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ کی سرکاری رہائش گاہ کا 7لاکھ روپے سے زائد اور موجودہ نائب وزیر اعلیٰ تارا چند کی رہاش گاہ کا 5لاکھ روپے کی بجلی فیس واجب الادا ہے۔چیئرمین گجر بکروال بورڈ بشیر احمد ناز، چیرمین سوشل ویلفیئر بورڈ کھیم لتا وکھلو، چیئرپرسن ریاستی خواتین کمیشن شمیمہ فردوس کی سرکاری رہائشگاہوں کا بجلی بل بھی حیران کن طور پر نائب وزیر اعلیٰ تاراچند کے برابر ہے۔ان اعدادوشمار سے حکمرا نو ں کی سمع خرا شی نہیں ہو نی چاہئے کہ عام آ دمی بجلی فیس کی ادائیگی میں اتنا غیر ذمہ دار نہیں جتنا کہ اسے پیش کیا جا رہا ہے۔دراصل محکمہ بجلی کو یہ تو فیق نہیں ملتی کہ سرکا ری محکمو ں کی واجب الادا فیس کی اگرائی کی کو ئی زوردا ر مہم نہیں چلائی جاتی تاکہ خزا نہ عا مر ہ کی اما نت اس کے حوا لے ہوبلکہ الٹا صارفین پر ہی بجلی چوری کا الزا م لگایا جاتا ہے جو ان اعدادوشمار کی روشنی میں حقائق پر مبنی نظر نہیں آتا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By