GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
ملازمین بمقابلہ حکومت
اِدھر اِن کی ضد ہے اُدھر اُن کی ہٹ

سرکاری ملازمین اور ریاستی سرکار کے درمیان جاری محاذآرائی میں کس کا فائد ہے اور کس کا نقصان ؟شاید اس کا سیدھا جواب ہے کسی کابھی نہیں ،کیونکہ جہاں ہمارے ملازم بھائیوں کی تنخواہ بھی چلتی ہے وہاںہمارے لیڈروں اور منسٹرصاحبان کی لال بتیاں بھی بارعب سائرن کے دَم پر پورے کروفرسے چلتی ہیں ۔اگر کسی کا اس سارے خودغرضانہ کھیل میں کچھ بگڑجاتاہے یا خسارہ لگ جاتاہے تو وہ ہے بے چارہ عام آدمی ۔ وہ تو ویسے بھی ’’گورننس‘‘ کے لفظ سے اس قدر متنفر ہوچکاہے کہ یہ لفظ سن کر ا سے نہ صرف اپنا آپ مظلوم ،مجبور اور محکوم نظر آتاہے بلکہ راشن کارڈ حاصل کرنے کے عمل سے لے کر ڈیٹھ سرٹیفکیٹ کے حصول تک پھیلے ہر معمولی کام بھی اس کی بے بسی کوانجام کا را سے ذہنی پریشانیوں کا تختۂ مشق اور ایک تھکا ہوا یا ہاراہوا کھلاڑی بنادیتے ہیں ۔یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن جہاں ملازم ہڑتال کی وجہ سے اسکول، اسپتال ، دفاتر اور دیگر انتہائی اہمیت کے حامل ادارے بند ہوجاتے ہیں اورعام آدمی کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے وہاں کئی ایسے محکمے بھی ہیںکہ عام لوگ دن میں دس بار عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگتے ہیں کہ ان محکموں کے ملازم یا آفیسر ڈیوٹی پر نہ آئیں ۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو دُور دَراز علاقوں میں موجود ایسی آبادی کارُخ کرکے وہاں کے عام لوگوں سے پوچھ لے کہ فاریسٹ گارڈ کے نوکرکا انہیں کتنا خوف ہوتاہے ،فاریسٹ پروٹیکشن فورس کے اہلکار جنگلات کے تحفظ کے نام پر کس قدر گوجرآبادی اور جنگلات سے ملحقہ مقامی آبادیوں کومختلف حربوں کے ذریعے تنگ طلب کرتے ہیں ۔جنگلات کے قریب بسنے والے لوگوں کے لئے جنگلات کی طرف دیکھنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی مرد کسی غیر محرم کے گھر کارُخ کرے۔کون نہیں جانتا کہ لکڑی سمگل کرنے والوں کو محکمہ کے اندر سے تعاون اور آشیرواد ملتاہے جب کہ کوئی غریب اگر اپنی مکان کی چھت بنانے کے لئے جنگل سے لکڑی لانے کے لئے مجبور ہوجائے تو اس سے نہ صرف متعلقہ اہلکاروں کی جیب گرم کرنا پڑتی ہے بلکہ اتنا کرنے کے باوجود بھی اکثر اوقات متعلقہ اہلکار اس کے خلاف ایف آئی آر تک بے خبری کے عالم میں درج کرتے ہیں ۔اس طرح محکمہ فشریز،جیالوجی اورمائننگ ،سری کلچر محکمے ایسے ناہنجار کام کرتے ہیں کہ عام آدمی کا ان سے فائدے کی امید رکھنا تو دور کی بات کم سے کم نقصان سے بچنے کے لئے دعائیں مانگتاہے ۔اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ان محکموں کی کوئی افادیت یا اہمیت نہیں ہے ۔ دراصل جس اعلیٰ مقصد کے لئے ان محکمہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ان مقاصد کے حصول کے نام پر متعلقہ افسران واہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاکر عام آدمی کے لئے راحت کے بجائے مصیبت کا باعث بنتے ہیں ۔ یہ سارا کچھ اپنی جگہ لیکن ملازمین کی طرف سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے بار بار کی ہڑتال کی کالیںہوں تو سول سیکرٹریٹ سے لے کر نائب تحصیلدار کے دفتر تک میں کسی کا بھی کام سرانجام نہیں پاتا۔ ویسے بھی لوگ اکثر دفاتر میں جب اپنے کسی کام کاج کے لئے جاتے ہیں تو انہیں دفتر کی عمارت کا دیدار تو ہوتاہے لیکن دفتر کے اندرشاذ وناذ ہی کوئی اہلکار نظر آتاہے اور اگرکسی خوش قسمت کوکبھی کسی دفتر کے کلرک یا بڑے یا منجھلے صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتابھی ہے تو بے چارہ سائل پہلی ہی ملاقات کے دوران اس نتیجے پر پہنچ کر مایوس ہوکررہ جاتاہے کہ جب تک کوئی معجزہ نہ ہو شاید ہی اس کا کام مکمل ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ پھر بھی اس محاورے کے مصداق کہ ’دنیا اُمید پر قائم ہے‘ ہر سائل اپنی اپنی مجبوری یا مسئلے کے حل کے لئے سرکاری دفاتر پر باقاعدگی کے ساتھ حاضری دیتاہے اور بار بارہڑتال سے عام آدمی کی تھوڑی سی بچی کھچی اُمید پر پانی پھیر دیتی ہے ۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتحال اورٹکرائو کے لئے ذمہ دارہے کون؟ ملازمین اور سرکار کو ایک دوسرے کے سامنے جنگ کی سی صورت حال کے لئے کھڑا کرنے کے پیچھے کس کا غیبی ہاتھ کارفرماہے؟ایسا جاننے کے لئے پہلے معاملے کی بنیادی نوعیت کا فہم وادراک کرنا ضروری ہوگا۔

دراصل سرکار اور سرکاری ملازمین کے درمیان مختلف امورات کے حوالے سے کبھی کشمکش کی حالت تو کبھی بات چیت کا میز سجا ۔ یہ سلسلہ عرصۂ درازسے جاری رہا ۔ 2009ء میں جب ملازمین کی مختلف تنظیموں کے عہدیداران وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملے تھے تو انہوں نے اکیس مانگیں ان کے سامنے پیش کی تھیں جنہیں پھر باہم بات چیت کے بعد وزیراعلیٰ کی ہی درخواست پر صرف چارنکات تک محدود رکھا گیا ۔ 15ستمبر 2011ء کے دن ملازمین لیڈروں اور وزیر اعلیٰ کے مشیر دیویندررانا کی سربراہی والی سرکاری مذاکرات کاروں کے درمیان چارنکات پرتفصیلی بات چیت ہوئی او رقرار پایا کہ چھٹے پے کمیشن کے لاگو ہونے کے وقت کے بقایاجات کو پانچ مساوی قسطوں میں اداکیاجائے گا ۔ریٹائرمنٹ کی حد 58سے 60سال کرنے کے متعلق تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد سرکار 28فروری 2012تک کوئی مناسب فیصلہ لے گی۔ ریاستی سرکار کے مختلف محکمہ جات کے اندر کام کرنے والے ایڈہاک ،کنٹریکچول اور Consolidated عہدوں پر کام کرنے والے سبھی ملازمین کی سروس کو بھی 28فروری 2012ء تک باقاعدہ بنایا کیا جائے گا ۔ کچھ محکموں اور عہدوں میں موجود تنخواہوں کی تفاوت (پے اناملی )کو دور کیا جائے گا ۔

دیانتداری سے دیکھا جائے تو صرف بقایاجات کی پہلی قسط حسب وعدہ اداکرنے کے علاوہ باقی تین نکات میں سے سرکار کسی بھی ایک مانگ پر نہ کوئی فیصلہ کرسکی اور نہ ہی ان کو دیانتداری اور سیاسی آداب کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے پورا کرسکی ۔ شاید ملازمین کے اس ایک مطالبے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں 2سال کا اضافہ کیا جائے ، کو چھوڑ کر باقی سبھی مطالبے نہ صرف سوفیصد ی جائز ہیں بلکہ اگر انہیں منوانے کیلئے ملازمین کا روّیہ سخت گیرانہ بھی ہوتو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینا ہر انصاف پسند کے لئے لازمی ہے۔یہ ایک برملا حقیقت ہے کہ اگر سرکاری دفاتر میں عام آدمی کا کام نہیں ہوتا ہے تو اسے رُکے پڑے کام کانپٹارا کرانے کے لئے رشوت دینا پڑتی ہے ۔اس طرز عمل سے انتظامیہ کے نظام میں ازحد درجہ خرابی پیدا ہوگئی۔ تاہم تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ملازمین کے جائز مطالبات سے بھی منہ موڑا جائے ۔ رشوت کے خاتمے اور ورک کلچر میں بہتری لانے کی غرض سے اگرچہ ملازمین پر اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں سے عبارت سی ایس آر عائد ہوتی ہے لیکن سرکار (یہاں سرکار سے مراد سیاسی قیادت ہے )اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے بھلا کس طرح اپنا دامن بچاسکتی ہے ؟یہ دیکھنا عمر عبداللہ ، ان کی کابینہ اور ایم ایل اے حضرات کا کام ہے کہ وہ کس طرح سرکاری ملازمین سے نہ صرف ان کی تنخواہ کے مطابق کام لے لیں بلکہ رشوت ستانی سے پاک انتظامی نظم ونسق عام آدمی کے لئے فراہم کرکے ان اُمیدوں پر پورا اُتریں جن کی انتخابی منثوروں میں خیالی جنت کھینچی گئی ۔اگر سیاسی قیادت اپنے طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں تو اس کا لازمی اثر ڈی سی لے لے کرچپراسی پر تک ضرور ہوگا۔ منسٹر صاحبان کی کوٹھیوں پر جس قدر بے تحاشہ فضول خرچیاں کی جاتی ہیں ، مختلف پروگراموں کے نام پر جس قدر شاہ خرچیاں کرکے خزانۂ عامرہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جاتاہے ،سرکاری گاڑیوں کو ذاتی کام کاج اور عیاشیوں کے کام پر لگا کر جس ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا جارہاہے اگر یہ سارا کچھ بند کرکے سرکار یہ دعوے کرے کہ وہ واقعی کنگال ہوچکی ہے اور اس کے پاس ملازمین کے جائز مطالبات ماننے کے لئے وسائل نہیں تو شاید ملازم تنظیموں کے پاس بھی سرکار کے عذرات کا جواب دینے کے لئے کچھ نہیں ہوگا لیکن جب کسی الیکشن میں سودو سو ووٹ لے کر انتخابات ہارا ہوا اُمیدوار سرکاری جپسی میں چند پولیس والوں کے ہمراہ ’’سیکورٹی رِسک ‘‘کا ڈھونگ رچا کر عام آدمی پر اپنا رعب جمارہاہو تو بھلا غریب ملازم کے جائز مطالبات ماننے کے بجائے اس پر رنگ چھڑکنا ، اس کی بے عزتی کرنا اور ا سے سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر مجرموں کا جیسا سلوک کرنا کس طرح جائز ٹھہرایا جاسکتاہے ؟ کیا کوئی منسٹر ، ایم ایل اے یا بیروکریٹ اس بات سے انکار کرسکتاہے کہ ان کا جو بھی دورونزدیک کا رشتہ دار شناسا یا منظورِ نظرکسی محکمہ میں ملازم ہو تو عام قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کرکس طرح اپنی من پسند جگہ پوسٹنگ کراتاہے یا پھر گھر بیٹھے ہی مختلف بہانوں سے خزانۂ عامرہ سے تنخواہ وصول کرتاہے۔ وزیراعلیٰ سے پوچھا جاسکتاہے کہ اگر انہوں نے ملازم تنظیموں کے ذمہ دارو ں کے ساتھ باضابطہ طور ایک معاہدہ کیا یا انہیں کوئی مثبت یقین دہانی کرائی تو اس سے منہ موڑنا ان کو کیونکر زیب دیتاہے ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وزیراعلیٰ نے خود اس بات کا اعلان کیا تھاکہ گزشتہ چودہ برس سے مختلف اداروں میں کام کرنے والے انچارج لیکچراروں،پرنسپلوں اور ہیڈماسٹروں کو 2011ء کے آخر تک کنفرم کیا جائے گا ۔ جب سرکار عوام الناس سے کئے گئے اپنے وعدوں سے مکر جائے اور اپنے معاہدوں کی پاسداری کے بجائے طاقت کے نشے میں چُور اپنے ہی دست وبازویعنی ملازموںکوعتاب کا نشانہ بنائے تو اسے المیہ کے سوا اور کیا عنوان دیا جاسکتاہے ؟ سرکاری ملازم نہ سماج سے جُدا ہیں نہ معاشرے سے لیکن سرکار سے بلکہ یوں کہیں کہ ملازم سماج، معاشرے اور سرکار کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اورجب ہماری بے بس قوم اپنے معماروں کو سڑک پر اپنے شاگردوں کے ہاتھوں پٹتے دیکھتی ہے ، ان پر رنگ چھڑکنے کاذلت آمیز نظارہ دیکھتی ہے تو اس کے پاس آہیں بھرنے کے سوا کوئی اور متبادل راستہ بچتا ہی نہیں ۔یہ دوسری بات ہے کہ اساتذہ کرام کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ جس دن وہ سڑک پر اپنے جائز مطالبات منوانے کے لئے ہڑتال اور مظاہرہ کرتے ہیں اس کاناکارہ اثر سرکار سے زیادہ ایک غریب کے بچے کے مستقبل پر پڑتاہے جب کہ خود استاد کا اپنا بچہ اُس ہڑتال کے دن بھی کسی پرائیوٹ اسکول میں معمولی تنخواہ پر کام کرنے والے استاد کے پاس پابندی کے ساتھ اسکول جاتاہے ۔ یہ وقت ملازم تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے لئے مناسب ہے کہ وہ کم از کم تعلیمی شعبے کو جس حدتک ممکن ہو اس حدتک ہڑتالوں سے مستثنیٰ رکھ کر پوری قوم کو یہ واضح پیغام دیں کہ وہ واقعی اپنی قوم کے دُکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ آج جوریاستی وزیرملازم تنظیموں کو دھونس دبائو اور دھمکیوں سے مرعوب کرنا چاہتے ہیں انہیں اس بات کا احساس کیوں نہیں کہ اپنے عوامی جلسوں کو کامیاب بنانے کے لئے وہ آنگن واڑی ورکروں سے لے کر آشاورکروں اور پی ایچ ای کے ڈیلی ویجروں سے لے کر محکمہ دیہی ترقی کے وی ایل ڈبلیوز کو بھی جلسہ گاہوں کی زینت بڑھانے کے واسطے اعلیٰ افسروں کے ذریعے ان میں شرکت کے لئے مجبور کراتے ہیں۔ریاست کے بجلی پروجیکٹوں کو جس طرح این ایچ پی سی کے حوالے کرکے یہاں کی معیشت کی کمرتوڑ دی گئی ہے ،اس سے سرکار کی اہم معاملات اور مسائل کے حوالے سے سنجیدگی کی پول کھل جاتی ہے ۔ بلاشبہ ریٹائرمنٹ کی حد 58برس کے بجائے 60سال کرناایک بحث طلب مطالبہ ہے جس پر لوگ مختلف آلاراء ہیں ۔بالخصوص جب چھ لاکھ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کا لشکر یہاں موجود ہو تو اس مطالبے پر خود ملازم لیڈروں کو بھی خالی الذہن ہوکر از سر نو غور کرنا چاہئے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جو ہزاروں پڑھے لکھے بے روزگار اس وقت سرکار کے جھوٹے وعدوں کے انتظار میں نوکریوں کے حصول کی آس لگائے بیٹھے ہیں انہیں ملازم طبقے کے اس مطالبے سے کافی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔ تاہم اس معاملے کو خواہ مخواہ طول دینے کے لئے بھی بہرحال سرکار ہی از خود ذمہ دارہے ۔ سرکار کا فرض بنتاتھاکہ وہ روزِ اوّل سے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافے سے صاف انکار کرتی اور اس کو کوئی مسئلہ بننے ہی نہیں دیتی اس کے برعکس کیا گیا۔دراصل بیروکریسی میں موجود ایک خاص طبقہ جو کہ ملازم لیڈراں اور سرکار دونوں میں اپنا اثر رکھتاہے ،اپنے ذاتی مفاد کے لئے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافے کی مانگ کے لئے اُکسارہاہے ۔ملازم تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ کوئی ایسا مطالبہ نہ کریں جس سے عام آدمی کو لگے کہ ان کی مانگ جائز نہیں ہے ۔ریاستی سرکار ویسے بھی ہرآئے روز کے ساتھ اپنے وقار اور اعتباریت کو ٹھیس پہنچانے کی راہ پر جانے انجانے تیزی کے ساتھ گامزن ہے، لہٰذا اس کے لئے بہتریہی ہے کہ ملازمین کے جائز مطالبات کو بغیر کسی مزید تاخیر کے پورا کرکے مزید معرکہ آرائی سے اجتناب کرے تاکہ دونوں سرکار اور ملازم عام آدمی کے دکھ درد کا کسی حد تک مداوا کرنے کی از سرنو کوششوں کا آغازکریں۔ریاستی حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ملازم لیڈروں پر ’تقسیم کرو اور راج کرو‘ کا بے حد خودغرضانہ فارمولہ اپنا کر ٹریڈیونین اِزم کو ایک ڈھکوسلہ ثابت کرے ۔ اس کے بجائے طرفین کو چاہئے کہ افہام وتفہیم اور صلح سمجھوتے سے ملازم مانگو اور مطالبات ماننے میں کوئی لیت ولعل نہ کرے ۔اسی میں عوام الناس کی بہتری کا راز مضمرہے ۔

----------------------

(فاضل مضمون نگار ایم ایل اے لنگیٹ ہیں۔)

ای میل :- mlalangate@gmail.com

موبائل نمبر :-9419003104

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By