GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
پنچاتی راج کی مقصدیت
جذبۂ خدمت اور اختیارات کی غیر مرکوزیت

ہمارے یہاں جموں وکشمیر میں سیاستدانوں کا سیاسی بازار چلانے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔یہاں بعض پیشہ ورسیاستدان سیاسی بازاروں سے منفی سیاست زیادہ اور مثبت سیاست کم فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کاروبار عوام کے لئے باعث سردرد ثابت ہوتا ہے مگر اس قماش کے سیاستدان اپنی سیاسی دوکان چمکانے کیلئے اِس کا خوب استعمال کرتے ہیں۔ پنچایتی انتخاب کی تکمیل کے ساتھ ہی سیاستدانوں نے منفی سیاست کے بازاروں کو خوب جگمگایا اور خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے پنچایت اراکین کو اِس بے سود بازارکا گاہک بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔

ریاست کا ہر فرد بشر جانتا ہے کہ دیہی علاقوں کی مکمل تعمیر وترقی کاراز ’’پنچایتی راج نظام‘‘ میں ہی مضمر ہے۔پنچایتی ادارے جتنے فعال ہوں گے ریاست کا تعمیر وترقی کے لحاظ سے مضبوط ہونے کے امکانات اتنے ہی روشن ہیں۔ پنچایت راج حکمرانی کا ایک ایسا نظام ہے جس میں گرام پنچایتیں انتظامیہ کے بنیادی یونٹ ہیں۔ پنچایت راج برطانوی انتظامیہ کے دور میں شروع ہوا۔ لفظ ’’راج‘‘ کا مطلب گورننس یا حکومت ہے۔ واضح رہے کہ یہ حکومت کی ایک ایسی فارم ہے جس میں ہر گاؤں اپنی تعمیر وترقی اور فلاح بہبود کے معاملات کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے۔ پنچایت راج نظام جو کہ خود حکمرانی کا ایک دلچسپ باب ہے ، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہاتھ سے ہاتھ ملاکر جمہوریت کے اِس بنیادی نظام کو کامیاب بنائے۔ کیا ہم بحثیت ذمہ دار شہری ایسا کرتے ہیں؟ ذرا اس نکتہ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔

ہمارے یہاں پنچایت اراکین میڈیا کی خبروں میں اِس قدر حصہ بنے رہیں کہ آج تک ممبران اسمبلی کبھی بھی میڈیا کی خبروں کے اِس طرح حصہ دار نہ بنے۔ سیاسی جماعتیں جہاں چاہتی ہیں وہاں اِن کو اپنے اغراض کی تکمیل کے لئے استعمال میں لاتے ہیں۔ کچھ اُنہیں لنگڑے بطخ اور کچھ قربانی کے بکرے بنانے میں مصروف ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ عناصر نے سیاسی اور ذاتی مفادات کے خاطر اب پنچایت اراکین میںمختلف طریقوں سے خوف و ہراس پیدا کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔ میں ذاتی طور اِس بات کا یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے یہاں لوگ پنچایت راج کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے ہیں ۔ بہت کچھ جان بھی چکے ہیں۔ بدقسمتی سے پنچایت راج کچھ سیاسی جماعتوں کی من گھڑت کہانیوں سے منفی حیثیت میں اخباری سرخیوں میں چھایا رہا۔جس پیمانے پر اِس کو سرخیوں میں ہونا تھا ویسے نہ ہونے دیا گیا۔ کیا یہ لاجواب بات نہیں ہے کہ لوگوں نے دور دراز علاقوں مثلاً شمالی کشمیر کے گریز، جنوبی کشمیر کے کپرن اور کرگل کے دراس سے بڑے جوش وخروش سے پنچایت راج کے توسل سے خود حکمرانی کو قائم کیا؟ کیا اُن کے اِس نظام کو قایم کرنے کے سلسلے میں بڑھائے گئے قدم حوصلہ افزاء نہیں ہیں؟

مجھے وہ دن اب بھی یاد ہے جب میں بحیثیت میونسپل کارپوریٹر منتخب ہوا تھا۔ اُن دنوں کارپوریشن کو دہائیوں کے بعد وجود میں آنا تھا اور ہم نے تعمیر وترقی کے سینکڑوں خواب دیکھ رہے تھے۔ چونکہ میرا موضوع ’’پنچایت راج ‘‘ ہے، میں اِس سے ہٹنے کی ذرا بھر بھی کوشش نہیں کروں گا نہ میں اس کی گہرائی میں جاکر آپ کے ذہن پر بوجھ بننا چاہوں گا بس میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اُس وقت ہم میونسپل کارپوریشن کی بااختیاری کیلئے بھیک مانگ رہے تھے اور وقت کے ارباب اقتدار ٹس سے مس بھی نہ ہوتے تھے ۔ سالوں بعد ایک نان فنگشنل ڈیپارٹمنٹ کو ایس ایم سی کی تحویل میں دیا گیا تھا وہ بھی صرف ’برائے نام‘۔ میں نے اپنے آپ کوعاجز پاکر استعفیٰ دینے کو ہی ترجیح دی کیونکہ وقت کے ارباب اقتدار نہ صرف کارپوریشن کو بااختیار بنانے میں ذرا بھر بھی دلچسپی رکھتے تھے بلکہ اِس ادارے کو کمزور کرنے کی راہیں تلاش کرتے تھیں۔

اب ذرا ایک اور زاویہ نگاہ سے اس مسئلے پر غور کرتے ہیں کہ موجود سرکار نے پنچایت راج کیلئے کیا کیا اور کیا نہ کیا۔ میں کسی بھی صورت میں جانبداری سے کام نہیں لوں گا کیونکہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا ہر ایک شہری کی اخلاقی اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سارے عناصر جمہوریت کے اِس بنیادی ادارے کو کمزور کرنے کیلئے بے تاب ہیں اور پنچایت الیکشن کے انعقاد کو ناکام کڑی میں پیش کرکے اپنی پہچان بھی ظاہر کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنا پنچایت الیکشن منعقدکرانا تاریخی اہمیت کا حامل تھا اُس سے زیادہ تاریخی لحاظ سے اِس ادارے کو بااختیار بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا کیونکہ تین ماہ کے اندر اندر ہی اِن اداروں کو بااختیار بنانے کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ اِس سے کسی بھی فرد کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنچایت کو بااختیار بنانے میں ذاتی دلچسپی لی تاکہ دیہی علاقوں کی تعمیر وترقی کے ساتھ ساتھ انتظامیہ میں شفافیت آسکے۔ ملک کی دوسری ریاستوں کے برعکس جموں وکشمیر میں پنچایتوں کو تاریخی اختیارات دیئے گئے ۔ میرا ماننا ہے کہ جوں ہی پنچایت ممبران پنچایت کے طریقۂ کار سے واقف ہوجائیں گے وہ خود بہ خود اُن کو حاصل اختیارات کو تاریخی قرار دیں گے۔ اِس بات میں شک کی کوئی گنجایش نہیں کہ پنچایت چناؤ میں ۸۰ سے ۹۰ فیصدی تک رائے دہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا، جو تاریخ میں سنہری حروف سے رقم کرنے کے قابل ہے۔ کچھ سیاستدان پنچایتوں کو اختیارات تفویض کرنے میں تاخیر محسوس کررہے ہیں میں ویسا محسوس نہیں کررہا ہوں۔ میراایسا محسوس نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اب پنچایت کو سرکاری طور14سرکاری محکموں کی نگرانی کا کام سونپ دیا گیا ہے۔ سرکار نے ریاست میں پنچایت گھروں کی تعمیر اور خستہ حال پنچایت گھروں کی مرمت کیلئے 56کروڑ روپے واگزار کئے ہیں۔ علاوہ ازیں پنچایت ارکان کو ترقیاتی کاموں کیلئے 400سے 500کروڑ روپے صرف سالانہ فراہم ہوںگے۔ 25ہزار روپے پہلے ہی ہر ایک پنچایت گھر کی مرمت اور دیگر اخراجات کیلئے مختص رکھے گئے ہیں۔ ہر ایک رکن کے لئے فنڈس ممبر پارلیمنٹ، اسمبلی و کونسل کے طرز پر مختص رکھے جائیں گے۔ سب سے زیادہ دلچسپ امریہ ہے کہ ہر ایک سرکاری کام کیلئے پنچایت ممبر کی تصدیق ضروری ہے۔ اُن کی تصدیق کے بغیر نہ تو کوئی کام شروع ہوگا اور نہ ہی اُن کے دستخط کے بغیر ٹھیکہ داروں کی چکیں بنک سے کیش ہوں گی۔ اِس سارے اہتمام کا مدعا ومقصد صرف اور صرف انجام کاموں کی تکمیل میں صاف وشفافیت لانا ہے۔ پنچایت کے بنیادی اراکین اپنے اپنے حلقوں میں ہر ایک معاملے پر نگرانی رکھنے کے مجاز ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ اب سرکار کے کام کاج کا لازمی حصہ بن گئے ہیں اور کورپشن جیسی وباء پر لگام دینے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، تو پھر میں کیونکر دوسرے سیاستدانوں کے غلط نظریہ کی کورانہ نقل کروں۔ 

اب عنقریب ہی محلہ کمیٹیوں ، حلقہ کمیٹیوں اور بلاک کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ اِن کمیٹیوں خصوصاً بلاک ڈیولپمنٹ کمیٹیوں کے قیام سے تو پنچایتوں کے اختیارات میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ بی ڈی سی کے قیام سے وایس چیئرمین بنیں گے جو وزراء کے ساتھ مل بیٹھ کر ضلع ترقیاتی پلان مرتب دیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریاست میں پنچایت کو پوری طرح کار پرداز بنانے میں تاخیر ہوئی مگر ساتھ ہی اِس بات کا ہر ایک کو اعتراف کرنا ہوگا کہ 40سال بعد یہ انتخاب عمل میں لانے تھے اور ہمارے یہاں لوگوںکیلئے یہ ایک نیاہی عمل ہے۔ بچے جنم لینے کے ساتھ ہی ٹانگوں پر کھڑے ہوکر چل نہیں پڑتے ہیں بلکہ مہینوں کے بعد رینگنا سیکھتے ہیں اوربعد میں برسوں بعد آہستہ آہستہ ٹانگوں پر کھڑا ہوتے ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ کہ نئے پنچایتی نظام کو سمجھنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ راقم السطور کے بشمول  پنچ و سرپنچ اور ریاستی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کچھ سیاستدان فریبی سیاست سے نظام پنچایت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

آج کل 73ویں ترمیم کو لاگو کرنے کے سلسلے میں چرچا کا بازار گرم ہے۔ جو لوگ اِس ترمیم کے بارے میں ذرا بھر بھی علمیت نہیں رکھتے ہیں وہ بھی بیان بازی میں مصروف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 73ویں ترمیم کو لاگو کرنے سے کچھ اہم معاملات میں ریاست کے اِس ادارے پر سے اختیارات ختم ہوںگے۔ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں73ویں ترمیم کو دفعہ 40 کی وجہ سے لاگو کیا گیا جس کی رُو سے ولیج پنچایت کا انعقاد اور بعد میں مکمل خود حکمران بنانا مطلوب تھا۔ چونکہ دفعہ 40کامیاب نہ ہوا تو پالیسی سازوں نے 73ویں ترمیم کو وجود میں لایا۔ ہمارے یہاں قانونی ماہرین اِس کو کئی نقطہ نگاہ سے پیش کرتے ہیں اور خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں وہیں کچھ سیاستدانوں نے اِس کو جادوئی چھڑی سمجھا ہے اور اِس کو لاگو کرنے کے لئے گھٹنے ٹیک رہے ہیں۔

میں خود کوئی سیاسی ماہر نہیں ہوں پھر بھی 73ویں ترمیم کو لاگو کرنے کے ساتھ اختلاف رکھتا ہوں لیکن اُس کی  بھی وجوہات ہیں۔ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بارہا وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہا کہ پنچایت راج کو نہ صرف پنچایت راج اداروں کے درجے تک بااختیار کیا جائے گا بلکہ اِس سے بھی زیادہ،جب وزیر اعلیٰ نے بھروسہ دلایا ہے کہ وہ پنچایت کو 73ویں ترمیم کے بغیر ہی مکمل طور بااختیار بنائیں گے،جب وزیر اعلیٰ نے پنچوں اور سرپنچوں کے مشاہرہ فراہم کرنے کی پہل شروع کی ہے،جب ہر ایک حلقہ کیلئے زرِکثیر رقوم مختص رکھی جارہی ہیں۔ جب 14دفاتر کو سرکار طور پرپنچایت کی نگرانی میں دیا گیا ہے، تب وہ سیاستدان کیوں کر منفی سیاسی حربے آزماکر اُن لوگوں کے دل مجروح کرتے ہیں جنہوں نے بے حد تکالیف برداشت کیں مگر حکومت کے اِس طریقہ کار کو پروان چڑھایا اور ریاست کو ترقی پر گامزن کرنے کی راہ ہموار کی۔

ہم سب کو منتخب پنچایت ممبروں پر پورا بھروسہ ہے اورہم دل میں یہ اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ریاستی عوام کو کسی بھی صورت میں مایوس نہیں کریںگے۔ ہم سب کو سیاسی وابستگی، مذہب، ذات پات اور رنگ ونسل کی حد بندیوں سے ماوراء ریاست کی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا جس کیلئے وقت سازگار اورموسم خوشگوار ہے۔ میں ہی نہیں بلکہ اور ریاستی عوام اِس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر منتخب پنچایت اراکین ریاست کی معاشی اور سیاسی صورت حال میں تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوںگے تو پھر یہ کسی اور سے یہ توقع کرنا بے سود ہوگا۔

آخر پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب ریاست کو حاصل دفعہ 370کی حقیقی شکل میں بحالی اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی مسئلے کے سیاسی حل کے لئے  برسرجہد ہیں تو پھر ہم کیوں کر 73ویں ترمیم کو لاگو کرکے ایک اور مرکزی قانون کو ریاست پر نافذ کرنا چاہیں گے؟کیا وہ لوگ جو 73ویں ترمیم کو لاگو کرنے کی خاطر بیان بازی میں مصروف ہیں نہیں جانتے کہ ہم سب ریاست پر نافذ مرکزی قوانین کو ہٹانے کا مطالبہ دہائیوں سے کرتے آئے ہیں جن سے ریاست کا اپنا قانون کمزور ہوگیا ہے اور جن کو نافذ کرنے کا سلسلہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ہڑپ کرنے کے ساتھ ہی شروع کیا گیا تھا؟ ہمارے یہاں لوگ، ذہین، دور اندیش اور عقلمند ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کیوں کر کچھ سیاستدان 73ویں ترمیم کو ریاست پر نافذ کرانا چاہتے ہیں اور اگر کوئی ابھی تک نہ جانتا ہوںتو برائے کرم وہ اِس پر سوچ بچار کرئے گا۔

…………

مضمون نگار جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس پارٹی ترجمان ہیں ۔

رابطہ:- tanvirm123@yahoo.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By