GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
درجوابِ آں غزل
تنقید کوتنقیص کا جامہ نہ پہنائیں

"یہ وفائوں کا صلہ ہے یا جفائوں کا بدل ‘‘ کے زیرعنوان راقم السطور کے مضمون پر ہمارے دو لیگی بھائیوں نے اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا ہے ۔اُن کی تحریرات سے ناراضگی صاف جھلکتی ہے ۔الزام لگایا ہے کہ ’’انصاف کے ترازو کو چھوڑ کر من چاہی تاویلات‘‘ سے قلم کی پیاس بجھائی گئی ہے جس سے قوم میں ذہنی انتشار پیدا ہوتاہے۔کہا گیا کہ  اس قسم کی تنقید سے عوام کا اعتماد لیڈروں پر سے اُٹھ جاتاہے ۔ چوراہوں پر مسئلوں کواُچھالنے کے بجائے ’’گھرکی چاردیواری‘‘ کے اندر حل کرنے کی فہمائش کی گئی ۔ ’’بلاوجہ اختلافات کو اُچھال کر ایک مخصوص طبقہ خیالات کے جذبات کو مجروح کرنے ‘‘ کا فتویٰ بھی صادر کیا ۔ذاتی پسند اور ناپسند کا معیار اپنا کر ایک شخص کو’’چھوٹا دکھانے‘‘ کی کوشش کی گئی ہے۔’’ڈکٹیشن پر قلم چلانے ‘‘اور طنزیہ انداز اپنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔بعض لیڈروں کے ساتھ ذاتی تعلقات پر قلم کی جانب داری کا سوال اُٹھایا گیا ہے ۔قلمکار کے بجائے ’’حق کا علمبردار‘‘ ہونے کی تلقین کی گئی ہے اورپھر حریت کی کمزوریوں کو اُچھالنے کے بجائے حریت میں شامل ہونے کا ’’زرّیں‘‘ مشورہ دیا گیا ہے۔

تنقید سے کوئی بالا تر نہیں اور اس کالم نے اب تک یہی انفرادیت قائم رکھی ہے ۔اس میزانِ حق اور عدل کی کسوٹی میں اپنوں کے لئے ایک قسم کے پیمانے اور غیروں کے لئے دوسرے پیمانے ہوں ، اس قسم کی قلمی تجارت کے لئے میرا قلم پہلے بھی غریب رہاہے اور آج بھی اسی طرح غریب ہی ہے لیکن اس افلاس میں جو قلبی سکون اور ضمیر کی آسودگی حاصل ہوتی ہے اس کے لئے میں اپنے آپ کو سب سے زیادہ خوش نصیب سمجھتاہوں (الحمد للہ) ۔ ایک بشر کی حیثیت سے قلمی تسامح کا صدور ہوسکتاہے ۔ کسی شخص کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی زندگی کے تمام اوراق پر پوری نظر نہیں رہی ہوگی ، اس لئے کبھی اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہوگی ، ایسا ممکن ہے لیکن جان بوجھ کر اس قسم کی زیادتی کی گئی ہو ،یہ سوچ اس کالم کے ساتھ بجائے خود زیادتی ہے ۔ حریت لیڈرمحمد مصدق عادل کی زبان سے نکلے وہ بے ساختہ کلمات ،میں سمجھتا ہوں ، اس کالم کی صحت اور صداقت پر سوفیصد فٹ آتے ہیں جو انہوں نے چند برس پہلے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے صحن میں مجھ سے ملاقات میں کہے تھے ۔ انہوں نے کہا ’’زینہ گیری صاحب ! آپ کی لکھی ہوئی تحریروں کے ساتھ اختلاف ہوسکتاہے لیکن ایک چیز طے ہے آپ کسی کے چہرے کو دیکھ کر نہیں لکھتے ‘‘۔ فی الحقیقت اسی ایک مختصر لیکن بلیغ فقرہ سے میری قلمی کاوشوں کا ادراک کیا جاسکتاہے ۔ لگتاہے جیسے کہ عادل صاحب نے میرے خیالات کوپوری طرح نچوڑ کر رکھ دیاہو اور میرا برین میپنگ (Brain Mapping)  کیا ہو اور ہاں میں چہروں کو دیکھ کر نہیں ،علمی کارکردگی کے لحاظ سے تنظیموں اوران کے قائدین کو قارئین کے سامنے لا کھڑا کرتاہوں ۔چہروں سے تب تک ہی وفا ہوسکتی ہے جب تک وہ اس مقدس سنٹیمنٹ پر اپنی تمام ذاتی ،تنظیمی اور نظریاتی وفاداریاں قربان کریں ، جس سنٹیمنٹ کی آبرو رکھنے او ر اس کا حق ادا کرنے کی قسمیں کھاکر ان لیڈروں نے عزت ، شہرت ، نام او دولت کمائی ۔حصولِ مقصد کے لئے ’’مذاکراتی عمل‘‘فائدہ مند ہو تو آخرزندانوں او رٹارچر سلوں میں سڑنے کے لئے کوئی کیوں ٹینڈردے ۔مظفر آباد روڈ پرحریت بس دوڑ پڑی اور دلّی کے ساتھ مذاکرات کی مشق شروع ہوئی تو اس گھاٹ کا پانی پی کر ہم نے دیکھ لیا کہ ٹال مٹول اور وقت کے زیاں کی یہ لایعنی پالیسی ہے جس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور جس سے ’’انتہا پسند‘‘ کہلانے والی سیاسی قوتوں کے اسٹینڈ کی کامل تصدیق ہوجاتی ہے ۔اس بات کو گرہ میں باندھ کررکھ لیجئے کہ جب تک آپ مقامی ٹرف پرکاز کے حوالے سے جدوجہد کو اپنے تمام قوائے ذہنی وجسمانی سے تقویت نہیں پہنچاتے ، آپ کی کمٹمنٹ اس جدوجہد کے حوالے سے غیر معتبر اور مشکوک ہے او رکبھی یہ توقع نہیں رکھئے کہ دنیا تمہارے مبنی برحق کاز کے لئے دومیٹھے بول بولے ۔ ٹیبل پر وہی قوتیں جیت کر آتی ہیں جو میدانِ مزاحمت میں استقامت اور عزیمت کو اپنا شعار بناچکی ہوتی ہیں۔ گاندھی جیسے عدم تشدد کے علمبردار نے اسی میدان میں نہ بکنے ، نہ تھکنے اور نہ دبنے کی مثالیں رقم کیں ۔ ستیہ گرہ ،سالٹ ایجی ٹیشن اور کوئٹ انڈیا کا خالق کوئی اور نہیں یہ ’’فقیر منش‘‘ کانگریس لیڈر ہی تو تھا او راس کے ساتھیوں نے کبھی یہ کہہ کر وقت کی مزاحمتی تحریک سے علیحدگی نہ کی کہ جائو تم جانو اور تمہارا بھگوان جانے ۔

اس تمہید کے بعد اب ہم بعض اُٹھائے گئے اعتراضات اورالزامات کا جواب دیتے ہیں ، اگرچہ اس میں ہی بہت سے سوالات کا جواب پنہاں ہے۔ ’’من چاہی تاویلات‘‘ ۔ گویا میں اپنے ضمیر او رحقائق کا گلا گھونٹ کر وہی کہوں جو خواجگانِ سیاست کی پسند کے موافق ہو اور اگر ایسا نہیں کرتا تو یہ ’’من چاہی تاویلات ‘‘ ہوئیں ۔مختار احمد وازہ کی ذات سے مجھے کوئی پُرخاش نہیں ہے ۔ میں ان کی مثال دے کر نہ ان کے قدو قامت اور حریت میں ان کی سینارٹی (اب سینئر کا ٹائٹل ہرکوئی سیاست دان استعمال میں لاتاہے ، کوئی جونیئر کہلانے  کے لئے تیار نہیں)کو چیلنج کیا، نہ ان کو تحقیر کانشانہ بنایا ہے ۔میں نے حریت(ع) کے ایگزیکٹیو کونسل میں معیار رُکنیت پر سوال اُٹھایا ہے ۔ آخر پیمانہ کیاہے بعض تنظیموں اور لیڈروں کو یہ ’’اعزاز ‘‘ بخشنے کا اور بعض کو اس ’’اعزاز‘‘ سے محروم کرنے کا ؟ کس بنیاد پر آپ بعض کوبعض پر فوقیت دیتے ہیں ؟ یہ میں نے لیڈرشپ سے سوال پوچھا ۔ میں نے یہ لکھا کہ آپ مختار وازہ ’’جیسے ‘‘ (جیسے لفظ پر آپ ٹھنڈے دماغ سے غورکریں)حضرات کو اس میںجگہ دیتے ہیں تو نعیم خان ،اعظم انقلابی وغیر ہ جیسے لیڈروں کو باہر رکھتے ہیں،کیوں؟  یعنی جو قربانیاںمختار صاحب نے دی ہیں وہی قربانیاں آپ کو دوسرے لوگوں میں کیوں نظر نہیں آتیں اور پھرغورکیجئے ’’جیسے‘‘ لفظ کے دائرے میں پوری حریت(ع) کی ٹیم آتی ہے ۔ مختارصاحب کو میں ان کے دوسرے ساتھیوں سے الگ نہیں کرتا ہوں۔

چلئے مان لیتے ہیں میں نے کسی اور کا ’’ڈکٹیشن ‘‘ لے کر کسی سینئر حریت لیڈر کو ’’چھوٹا دکھانے‘‘ کی کوشش کی ہے ، تو کیا واقعی کوئی لیڈر جس کی عوام میں جڑیں ہوں اس قسم کے ’’پروپیگنڈے‘‘ سے عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھتا ہے ؟ ایک لیڈر اپنی مقبولیت اور عوامی کردار کے لئے قلمی بیساکھیوں کا محتاج نہیں ہوتا ،اس بیساکھی کے ٹوٹنے سے قائد کا سیاسی زیاں واقع نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی زیست پر لیڈر کی عظمت موقوف ہے ۔ یہ چیز حقیقت کا روپ دھارن کرلیتی تو آج تک اقتدار اور ثروت کے ایوانوں پرفائض لوگ کب کے عوام کی دھڑکنیں بن چکے ہوتے ؟ کس کو معلوم نہیں یہاں قلم کی دنیا میں بہت سارے سیاست کاروں نے اپنے ’’منہ بولے بیٹے‘‘ خرید رکھے ہیں مگر لوگوں کے دلوں میں پھر بھی وہ جگہ پانے سے قاصر رہے ۔

یقین رکھئے مجھے جوٹھا کھانے سے گھن آتی ہے ۔ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر سیدھی سادی زندگی گزارتاہوں ۔ملاوٹی اشیاء پر منہ پھیرنا میری طبیعت کو راس نہیں آتا ۔ میرا منہ اتنا ’’چھوٹا‘‘ ہے کہ اس میں میدان سیاست کے ’’شاہ سواروں ‘‘ کی ’’بڑی باتیں‘‘ سماہی نہیں سکتیں ۔ میں برہنہ پااستقلال اور عزیمت کے پائوں چومنے کے لئے آئوں گا لیکن جہاں مقدس لہو کے توہین کی محفلیں سجائی جاتی ہیں وہاں دوست اور احباب سے بھی الوداعی سلام کہنے میں بھی دیر نہیں کروں گا ۔ عوام میں اگر اس قسم کی طبیعت سے خدانخواستہ ’’ذہنی انتشار‘‘ پیدا بھی ہوجائے تو میرے پاس اس درد کی دوا نہیں۔ میری اس قسم کی تنقید سے عوام کا اعتماد ’’لیڈروں‘‘ پر اس سے اُٹھ جائے میں یہی چاہتاہوں او ریہی کرکے رہوں گا ۔ کھرا اور کھوٹا میں فرق کے لئے ہمیں ’’لیڈروں ‘‘ کے موج ظفر کو تنقید کی اسی بھٹی میں ڈالنا ہوگا تاکہ آئندہ کے لئے ’’22سالہ سیاسی آوارہ گردی‘‘ کی تاریخ کوئی دہرانے کی جرأت نہ کرے۔کسی بڑے سے بڑے لیڈر کے ساتھ ’’ذاتی تعلقات ‘‘ کی اساس یہی ٹھوس نظریہ اور اخلاص ہے ۔ یہ کمزور ہوا تو راہیں بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔ضمیر کو ذاتی مفادات کی حشیش پلائی گئی تو بے باکی اور حق گوئی قلم کے منہ سے نکلے ایسا ہرگز ممکن نہیں ۔

اورہاں !بڑے مزے کی باتیں آپ کرتے ہیں ۔مجھے بتائیے یہ ’’چوراہوں‘‘ پر جاکر کون لوگ اپنے سینوں کے بند دروازے کھول کے رکھتے ہیں ؟ ’’گھر کی چاردیواری‘‘ میں آپ لوگ ایک دوسرے کا گریبان بھی پکڑ لیتے تو آپ کی داخلی کدورتوں کا کچرا باہر نہیں نکلتا ۔ آپ مشاورت کرکے کوئی لائحہ عمل تیار کرتے ،حریت کی ری اسٹرکچرنگ پر مختلف آرا جمع کرتے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر باہم گفت شنید کرکے پھر کوئی مشترکہ اسٹینڈلیتے تو ظاہر ہے حریت(ع) داخلی انتشار کی شکار نہیں ہوتی ۔اس کی کریڈیبلیٹی پرانگلی نہ اُٹھتی ۔ آپ اس سب کے بجائے گھر کی لڑائی کو بڑی ’’جرأت‘‘ کے ساتھ باہر چوراہے پر لاتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ ہم کان اور آنکھ بند کرکے بیٹھے رہیں ۔ اس سے بڑا ’’زعفران زار‘‘ ار کیا سجے گا ۔

آپ ہمیں ’’حریت کی کمزوریوں کو اُچھالنے کے بجائے حریت میں شامل ہونے ‘‘کا مشورہ دیتے ہیں ، یعنی کوئی دوسرا آپ پر تنقید کی انگلی نہ اٹھائے اور اگر اٹھائے تو اس کا منہ بند کرنے کا آسان سا نسخہ یہ ہے کہ حریت جوائن کرنے کا ڈنڈا لے کر اس پر چڑھ دوڑیں تاکہ سوچ اور اپروچ کی اس پہراداری میں کوئی مخالف رائے پنپ نہ سکے ۔بہت خوب ! دوسرے الفاظ میں اپنے ضمیراورقلم کی زبان  گروی رکھوں یا چپ کے روزے رکھوں ۔ جارج آرول نے اپنے شہرۂ آفاق ناول ’’1984‘‘میں بڑے برادر (Big Brother)کے کردار کا جونقشہ کھینچا ہے ہمارے بعض  لیڈرحضرات  اسی ’’وحدت فکر وعمل‘‘ اور ’’مساوات‘‘ کے واعظ اور داعی بننے کے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔اقبال نے کیا خوب کہا   ؎

بحکم مفتی اعظم کہ فطرت ازلے ست

بدین صحوہ حرام است کارِ شہبازی

            یعنی فطرت اس کائنات میں مفتی اعظم اور اس کا فتویٰ یہ ہے کہ چڑیا کے دین (ضابطۂ حیات) میں شہباز کے طور طریقوں کو اختیار کرنا حرام ہے۔ ہم نے ہی شاید بعض لیڈروں سے زیادہ بلند توقعات رکھی تھیں، ہم نے ہی ان سے کار شہنازی کی اُمید رکھی تھی۔ مایوس ہم کو ہی کو ہوناتھا ، ہم ہی ہوگئے ۔ خطائیں ہماری ہیں ،یہ حضرات تو ’’معصوم عن الخطا‘‘ ہیں ۔سزا ہمیں ملنی چاہئے، انعامات ان کو۔تائب ہمیں ہونا ہے نہ کہ ان کو اور ہم تائب ہورہے ہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By