GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
اورربڑکے پہئے چلتے رہے


چلی کے انقلابی شاعر ڈپلومیٹ اور نوبل انعام یافتہ ادیب  پبلو نورڈا کہتاہے کہ گویا میں اپنے ایامِ طفولیت میں ستاروں کے ساتھ گردش میں رہتا تھا او رہوا کے جھونکوں سے میرا دل بھی خوشی سے جھوم اُٹھتا۔یہی وہ وقت تھا جب شاعرانہ تخیل میری تلاش میں سرگرداں تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ خیالات کی یہ جولانی کہاں سے اُمڈآئی …سردیوں سے یادریا کی روانی سے ۔گلابی رنگ کی چونچ والا پرندہ…پوشہ نول ،کوئل ، فاختہ ، مینا اور سریلی چڑے… کی مدھرچہچہاہٹ بستر میں ہی مجھے آنکھیں موندنے پر مائل کرتی تھیں،وہ دفعتاً مجھے نیند سے بیدارکرتے اور بادِصبا کے ساتھیوں … ابابیل اور ’’زل گور‘‘(ربڑکا پہیہ)…کی یاد دلاتے ۔

وہ حقیقی معنوں میں بڑے اچھے دن تھے جب میں ربڑ کے پہئے کو ایک چھوٹی سی چھڑی سے گلی کوچوں میں چلاتے خوبصورت ابابیلوں کاپیچھا کرتا تھا ۔اُس وقت مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں ہی دنیا کی بلندی پر ہوںاور بسا اوقات ہم ربڑ کے اس پہئے کو لوہے کی چھڑی سے چلایا کرتے تھے جس کو ہم ’’کوو‘‘ (جس کا ایک سرا مڑا ہوا ہوتا تھا)جونہی ربڑکایہ مخصوص پہیہ رفتار پکڑتا تھاتو ہم اونچی آواز میں پکارتے تھے ’’بچو،بچو ‘‘جس طرح تانگے بان پکارا کرتے تھے۔خیال ہی خیال میں اپنے تخیل میں اکثر اِن عالی شان اُڑان بھرنے والے پرندوں کے ساتھ ہوا میں اُڑتا تھا ۔ میں غوطے لگاتا تھا اور ایف 22رسیٹپر جنگی جہاز کی طرح اپنے محلے کی سنسان سڑکوں پر اوپر ہی اوپر چلا جاتا تھا۔ وہ میرے بہترین ساتھی تھے ۔ حتیٰ کہ اُس وقت بھی جب مجھے اپنے چچا کے لئے ایک بہترین تمباکو فروش سے تمباکو کچھ دور سے لانا پڑتا تھا ۔ میں اکثر ان کے ہمراہ تمباکو فروش کی دوکان تک دوڑ لگاتاتھا۔

میں ابابیلوں کا بڑا شائق تھا۔ میں ان کو تیزی اور پروں کے لئے محبت کرتا تھا۔ میںنے اسی کالم میں کچھ عرصہ قبل لکھاتھاکہ میں کس طرح والد کے ’’ماتا مال‘‘(ننھیال) میں کافی وقت پرندوں کو دیکھتے گزارتا تھا۔ابابیل مٹی اور گھاس کے تنکوں سے نہایت پختہ گھونسلے بناتے تھے جیسے کہ یہ ماہرمستریوں نے ان کی اونچی منزل میں بنائے ہوں۔ اس پرندے کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے اس لئے ہمارے رشتہ داراِن پرندوں کو اپنے مکان میں گھونسلے بنانے میں مخل نہیں ہوتے تھے ۔میرے والد کے ممیرئے بھائی ’’کاک‘‘ جیسے کہ ہم اس کو کہتے تھے ، نے بچوں کو متنبہ کیا تھاکہ ان پرندوں کو کوئی گزند نہ پہنچائی جائے اور نہ ہی اوپری منزل کی کھڑکیاں بند کی جائیں۔ابابیلوں سے زبردست محبت کے پیش نظر وہ اکثر قرآن شریف کے سورہ الفیل کا حوالہ دیتے تھے جس کو تمام بچوں نے دل لگاکر حفظ کیا ۔ انہوںنے ہمیں اسلامی تاریخ پر ایک مبسوط وعظ سنایا ۔چنانچہ تمام ہم عمر بچوں کے لئے ابابیل متبرک تھیں اسی طرح ہد ہد بھی مقدس تھے ۔

ہم ’’زل گور‘‘ کو دوڑاتے او راس کی رفتار کے مطابق اپنے قدم تیز کرتے تھے ۔ ہمارے محلے کے تمام لڑکوں کا یہ ایک شوق تھا اور لڑکیوں میں مشکل سے ہی اس کا رجحان تھا۔ لڑکیاں اس کو لڑکوں کا کھیل سمجھتی تھیں اور وہ یہ کھیل کھیلنے سے شرماتی تھیں۔ انہیں ’’تولے لنگن‘‘…ایک کھیل جس میں دولڑکیاں اپنی پیٹھ ایک دوسرے کے ساتھ ملاتی تھیں اور ایک دوسرے کے بازئوں کو بڑی مضبوطی سے تھامے رہتی تھیں اور جھولا ہنڈولا کی طرح ایک دوسرے کواوپر اٹھاتی تھیں اور اپنی پیٹھ کو محوربناتی تھیں۔ پہلے پہل وہ ایک دوسرے کو آہستہ سے اوپر اٹھاتی تھیں جونہی اس میں تیزی آتی تھی تو وہ بڑی آواز میں کہتی تھیں ’’تولے لنگن تولان چھئس ، تولان چھئس‘‘۔

لڑکیوں کو بھی ہیکٹ کاشوق تھا…ایک طرح کا ناچ جس میں دولڑکیاں ایک دوسرے کے ہاتھوں کومضبوطی سے پکڑتی تھیں۔ان کے سر پیچھے کی طرف جھکے ہوئے ہوتے تھے اور اپنے سینے آگے کی طرف کرکے وہ ناچنا شروع کرتی تھیں ۔…بالکل اُسی طرح جیسے کہ مشہورمصری صوفی ناچتے ہیں…یہ دھیرے دھیرے رفتار پکڑلیتا تھا اور فرحت سے اونچی آوازمیں ترنم سے گاتی تھیں۔اس ناچ کی ایک ہی مصرعہ میرے ذہن پرمنعکس  ہے ۔ جو یہ ہے : ہکٹ مین روانیٔ ،لکٹ مین جوانی ۔

لڑکیاں ہمارے ساتھ ٹینچہ (کنکریوں کا ایک کھیل)کھیلا کرتی تھیں ۔ اس کے علاوہ چند کھیل ہوا کرتے تھے اور ان کے قواعد وضوابط بھی تھے ۔لڑکیاں پانچ کنکریوں والا کھیل پسند کرتی تھیں لیکن کئی اور کھیل بھی تھے جن میں پانچ سے زیادہ کنکریوں کوکھیلا جاتا تھا۔کچھ لڑکیاں ہمار ے ساتھ پہل دوج کھیلا کرتی تھیں مگر ہم یہ کھیل لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ ہماری ہم عمر ایک لڑکی ہمارے ’’زلہ گور‘‘ (ربڑ کاپہیہ)بڑی سڑک پر چلایا کرتی تھی ۔ اس کی ماں اس کو یہ کھیل کھیلنے کے لئے سرزنش کیا کرتی تھی کیونکہ یہ لڑکوں کا کھیل تھامگر وہ لڑکیوں کے ساتھ یہ کھیل کھیلا کرتی تھی ۔

مجھے یاد ہے کہ ہم اس ٹھوس ربڑ کے پہئے کو سوڈا بوتل کے ڈھکنوں سے سجاتے تھے ۔انہیں پہئے کے اندرونی حصے میں کیل ٹھونک کر بند کیا جاتا تھا ۔ ان ڈھکنوں کو محلے کی پان کی دوکان کے باہر جمع کرتے تھے ۔ ان ایام میں ہمارے محلے میں پان فروشوں کی کئی دوکانیں تھیں ۔ سوڈا ہی واحد مشروب ہوا کرتا تھا جس کو لوگ مزے لے لے کرپیتے تھے ۔یہ اکثر دوپہر کی پُرتکلف دعوت کے بعد پیا جاتا تھا ۔مجھے یاد ہے کہ اس مشروب نے شادی بیاہ اور لوک گیتوں میں جگہ پائی تھی جیسے کہ یہ اشعار ’’کٹھ گو ناپسند مٹھ منگ نوئے تَو‘‘(سوڈا ناپسند کیا گیا اب کوئی میٹھی چیز منگوائے) ، یتہ لاگنوتَو  ٹیلی فون (یہاں ٹیلی فون لگوادیجئے) ۔یہ اشعار میرے ذہن میں ابھی گونجتے ہیں۔ زل گور کے اندرونی حصے پر ڈھیلے طریقے پر ٹھوکے گئے بوتلوں کے ڈھکن سے موسیقی کی آواز نکلتی تھی ۔

چھٹیوں کے ایام اور اسکول اوقات کے بعد ہم ’’زل گور‘‘ (ربڑ کے پہئے) کی دوڑ کا اہتمام کرتے تھے ۔ کچھ اسکول بھی ایسی ہی دوڑ کا اہتمام کرتے تھے ۔اس دوڑ کے لئے سب سے اچھی سڑک خواجہ بازار سے رعناواری تک تھی ،جو تقریباًموٹر گاڑیوں کی آمد ورفت سے مبرا تھی ۔

zahidgm@greaterkashmir.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By