GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
ہرفکر کو دھوئیں میں اُڑاتا چلا گیا


لوگ اسے پا گل کہتے ہیں،کو ئی ملنگ بتا تا، کو ئی مجنون کہتا۔کو ئی بھکا ری سمجھتا ۔ہا ں یہ بات عیاںہے کہ یہ غر بت اور افلاس کا ستا یا ہوا ایک انسان ہے۔وہ ہر صبح دس بجے بس سٹینڈ میں نمو دار ہو تا ہے اور شام پا نچ اور چھ بجے کے بیچ غا ئب ہو جا تا ہے۔پڑ وس کے ایک گا ئوں میں جا کر دکا ن کے تھڑے پر رات گزا رتا ہے۔ڈ یو ٹی کا پا بند نہ اتوار نہ شکر وار، سو فیصد حا ضری،نہ سر دی نہ گر می،۔ہڑ تال ہو یا جانچ پڑ تال،با رش ہو یا د ھوپ وہ ضرور اپنا روپ د کھا تا ہے۔ نہ کھبی سر دی ز کام نہ بخا ر کی شکا یت نہ دوانہ شر بت، بس سٹینڈ اس کا آفس ہے۔اس کی ریا ست ہے، سلطنت ہے ،جا گیر ہے، جس پر وہ بلاشرکت غیرے حکو مت کر تا ہے۔ا س کا تخت وہ فٹ پا تھ ہے، جہاں اکثر وہ لیٹ جا تاہے،اور آ سمان کی طرف تکتا رہتا ہے۔کبھی مسکرا تا ہے کھبی بڑ بڑا تا ہے۔اکثر وہ دن بھر کھڑا رہتا ہے،کھبی ادھر تو کھبی ّا دھر،کہیں کیلے کا چھلکا ملے توچپ چاپ اٹھاکر ایک طرف رکھ د یتا ہے۔دکا نداروں کا پھینکا ہواکچرا ہو یا کا غذاُٹھا اُ ٹھاکر پھا ڑ دیتا ہے،کبھی کبھی جمع کر کے اس میں آ گ لگا دیتا ہے۔کبھی را ستے میں پتھر یا کو ئی ضرر رساں چیز دیکھے تو ا ٹھا کر ایک مو زوں جگہ پر رکھ دیتا ہے،اور پھر وہاںسے ا ٹھا کر دو بارہ با زار میں بکھیر دیتا ہے،وہ بھیک بھی نہیں ما نگتا ہے۔کو ئی اسے کھا نے کی کو ئی چیز دے تو وہ ایک دم پھینک دیتا ہے۔دینے وا لے کو ڈا نٹتا ہے،ہاں بس چند جا ن پہچان کے لو گو ں سے سوا لیہ اندار میں ما نگتا ہے:آپ کے پا س دس رو پیہ کا نوٹ ہو گا؟اور وہ لوگ دس کا نوٹ نکا ل کر اسے دے دیتے ہیں،وہ ہا تھ میں لے کربڑ بڑا تا  وا چلا جا تا ہے۔ایک د کا ندار کے پاس جا کر اس سے صرف ما چس ما نگتا ہے۔جب اس کے د ما غ کا پا رہ چڑھ جا تا ہے تو ڈ نڈا ہا تھ میں لے کر گا ڑ یاں تو ڑ تا ہے،لو گوں کے پیچھے بھاگ دوڑ تا ہے۔تشدد کر نے لگتا ہے،اتنا غصہ کہ لگتا ہے کہ ابھی پو رے عا لم کو جلا کر را کھ کر دے گامگر چند منٹ بعد ٹھنڈا ہو کر ٹھنڈی جگہ جا کر بیٹھ جا تا ہے۔پھر مسکرا تا ہے۔ کبھی خود کلامی تو کبھی خو بصورت مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتا ہے۔ مو سم بر سات کی طر ح رنگ بد لتا ہے،جب گر جتا ہے تو جم کے گر جتا ہے، اکثر صرف بڑ بڑاتا ہے، اس کی باتوں میں ابہام ہو تا ہے، وہ کبھی بھی صاف لفظوں میں بات نہیں کر تا ہے، کبھی ہاں تو کبھی نا، اس ہاں اور نا کے چکر میں اس کی پو ری ز ند گی ا جڑ گئی۔کبھی بھی وہ اپنے اندر چھپا پٹا رہ نہیں کھو لتا ہے۔ اسی لئے کچھ لوگ اسے پا گل سمجھتے ہیں،اور کچھ اس کی با توںکو رو حا نی نسخہ سمجھ کر اپنے سینے میں محفو ظ کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھی اتنی ا چھی با تیں کر تا ہے کہ سننے والا سمجھتا ہے اس دور کا افلا طون یا سقراط ہے۔ ہا ں !یہ بات عیاں ہے کہ اس بستی کا سا را درد اس کے جگر میں جمع ہو گیا ہے اور پھر اس درد کا اظہا ر وہ کبھی پتھر مار کر، کبھی گا ڑ یا ں تو ڑ کر، کبھی منھ مو ڑ کر،کبھی اپنے ہی دانت تو ڑ کر،کبھی ہا تھ جو ڑ کر،کبھی سڑ کو ں پر دوڑکر کرتا ہے، شا ید ز ند گی کے حا د ثات اور واقعات نے اس کو حال مست بنایا ہے، وہ جب اس فٹ پاتھ پر لیٹ جا تا ہے اور گھورگھورکر آ سما ںکی طر ف دیکھتا رہتا ہے تو بس مسکرا تاجاتا ہے۔کبھی غم و الم کے بحر بیکراں میںڈوبا ہوا، شا ید اپنے خستہ مکا ن کی گری ہو ئی دیوا روں پر نظر پڑ تی ہوگی یاپھر متا عِ کا رواں لٹتا دیکھ کر ا فسر د گی کے گھنے با د لو ں میں گم ہو جا تاہو،کبھی ا پنے ما  ضی کی کتاب میں کھو جا تاہو تو کبھی مستقبل کی ما یو سی دیکھ کر ما یو س ہو جا تاہو۔دن بھر فٹ پا تھ پر کتاب زندگی کا گہرا ئی سے مطا لعہ کر نے کے بعد شام کو جا کردکا ن کے اس تھڑے پر گہری نیند سو جا تا ہے اور گنگناتا ہے    ع

ہرفکر کو دھوئیں میں اُڑاتا چلا گیا

mjlone10@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By