GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
گیارہ بج کر گیارہ منٹ ۲


مذہبی صحائف اور علماء کی بتائی ہوئی پیشین گوئیاں بہت کٹھن اور پیچید ہ الفاظ میں گھما پھراکر کہی جاتی ہیں ،اس لئے ان کا سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ جہاں تک مندر جہ بالا حوالہ جات کا تعلق ہے اگر پہلی پیشین گوئی پر بات کریں تو سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اُس کے ڈانڈے سائنس دانوں کی اُس بات سے ملتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سیڈناؔ سیارے پر میزائل داغنے سے جو ایک ٹکڑا زمین کے ساتھ ٹکرائے گا ۔اُس سے ایسی تباہی متوقع ہے کہ انسان پھر پتھر کے زمانے کی طرف لوٹ جائے گا اور جہاں تک دوسرے حوالے کا تعلق ہے اس بارے میں کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں شام کے ایک علاقے میں حضرت دانیالؑ کی میت کے ساتھ ایک صحیفہ ملا تھا ۔حضرت عمرؓنے میت کو بیری کے پتے ملے پانی سے غسل دینے ے بعد دفنانے کا حکم دیا تھا اور صحیفے میں مستقبل سے متعلق پیشین گوئیوں کے علاوہ یہ پیش گوئی بھی مذکور تھی کہ ایک ناپاک ریاست 45سال تک قائم رہے گی اور پھر تباہ ہوجائے گی۔ توراۃؔ کے اوپر مذکورہ دوسرے حوالے پر غور کیا جائے تو واضح ہوجاتاہے کہ یہودیوں او ریہودی ریاست کی تباہی سامنے نظر آتی ہے کیونکہ ریاست کو وجود میں آئے ہوئے پینتالیس سال سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔ اصولی طور پر پیشین گوئیوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہاجاسکتاہے ۔ (واللہ عالم)۔

اس سلسلے میں عالمی شہرت یافتہ مستقبل شناس اور حیرت انگیز پیش گوئی کرنے والے ناسٹرڈیمس کی سنچری -3قطعہ 97کو بھی اگر ملحوظ نظر رکھیں تو دلچسپی سے خالی نہ ہوگی ۔ وہ کہتے ہیں : -

A new law will occupy a new land around Syria, Judea and Palestine. The great Barbarian Empire will crumble before the century of the sun is finished.

اس پیشین گوئی کے معنی واضح ہیں۔ اس میں کہاگیاہے کہ شامؔ،جودیہؔاور فلسطینؔ کے آس پاس ایک نئی حکومت قائم ہوگی۔جابر وظالم عظیم سلطنت سورج کی صدی ختم ہونے سے قبل ہی ملیا میٹ ہوجائے گی ۔

چونکہ عالم الغیب وشہادہ صرف رب کائنات ہی ہے اس لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک پیش بین خدا کے دئے ہوئے علم اور کشف وکرامات سے جو پیش گوئی کرے وہ سو فیصد درست ثابت ہوجائے او راسی وقت پوری ہوجائے جس کو اُس نے متعین کیا ہو ۔ اب اسی پیش گوئی کو لے لیجئے اس میں صدی ختم ہونے سے قبل ہی یعنی سن 1999ء میں ہی اسرائیل ؔ کی بربادی مقدر بنائی گئی تھی اور ایک نئی سلطنت غالباً حکومت فلسطین وجود میں آنے کی بات کہی گئی تھی مگر یہ رب کائنات ،خالق کون ومکان ہی جانتاہے کہ کب کیا ہونا ہے ، کب کیا کرناہے کیونکہ وہی مالک وخالق علیٰ کُل شیئٍ قدیر ہے مگربہرصورت یہ عندیہ اس محاورے سے ملتاہے کہ بکری کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔ سن 2012ء ہی سہی انشاء اللہ اسرائیل کے دن اب گنے چنے ہی ہیں کیونکہ یہودنے اسلام کی بیخ کنی کے لئے ساری دنیا میں فسادبہت دیر ہوئی شروع کردیاہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ابتدائے اسلام سے ہی یہ اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔ قرآن حکیم کا فرمان ہے :

’’فساد نمایاں ہوگیا ہے بّر میں بھی او ربحر میں بھی لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ مزہ چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا شاید وہ سدھر جائیں ۔(سورہ روم ،۴۱)

جہاں تک اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے اُس بارے میں ایک اجمالی ذکر گزشتہ سطور میں ہوچکاہے۔ حضورصلعم نے قیامت کے بہت قریب ہونے کے بابت تو فرمایا مگر حتمی طور سن ، وقت یا زمانے کے بارے میں کوئی برملا ذکر نہیں فرمایا ۔البتہ برپا ہونے سے قبل تین سو کے قریب آثار قیامت ارشاد فرمائے جن میں دو سو سے زائد آثار تو آگے ہی پو رے ہوچکے ہیں مگر جوخاص آثار مثلاً دابتہ الارض کانکلنا ، امام مہدیؑ کا ظہور ، دجال کی فتہ سامانیاں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور وغیرہ ابھی ہونا باقی ہے ۔ اس لئے ان نظریات یا آثار کے روبرو قیامت ضرور بہ ضرور ہوگی ایسا ہمارا ایمان ہے مگر کب ہوگی ایسا ہم میں سے کوئی وثوق اور اتحاد کے ساتھ نہیں کہہ سکتا ۔البتہ یہ امر دُرست ہے کہ دنیا میں جب جب انسان کے جانب سے سرکشی حد سے تجاوز کرگئی تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں پر یامن حیث الجماعت قوموں پر عذاب کا کوڑا برسا ہے ۔

اہلِ مغرب خاص طور پر یہودونصاریٰ اور سائنس دان مذکورہ ممکنہ تباہی کو اپنے اپنے نقطہ نظر اور علم نجوم و علم ہیت کی رو سے دیکھ کر اس کو ایک سائنسی تبدیلی کے طور پر لے رہے ہیں جب کہ اجرام فلکی کی گردش سے کرۂ ارض پر آئے دن مختلف موسمی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ بھونچال آتے ہیں ،آتشی لاوے کا اخراج ہوتاہے اور کبھی کبھی سونامی یا سائیکلون بھی آتے ہیں مگر ہم کو بحیثیت مسلمان قرآن شریف میں مذکور اُن بستیوں اور قوموں کا حال بھی نظر میں رکھنا لازمی ہے جو صفحۂ ہستی سے اس لئے نیست ونابود ہوگئیں کیونکہ انہوں نے دنیا میں مظالم اور سرکشی پھیلائی ، بدی اور بداطواری کے مرتکب ہوئے ۔ اس لئے جب ظلم وسرکشی حد سے تجاوز کرتی ہے تو رب کی پکڑ لازماً ہوتی ہے ۔ قرون اولیٰ اور قرون وسطیٰ میں اہل مغرب نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا اُس سے قطع نظر تقریباً سابقہ ساٹھ برس سے ہم دیکھ رہے ہیںکہ اہل مغرب نے خصوصی طور پر مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور کیسا معاندانہ روّیہ اختیار کیا ۔ اس لئے اگر آنے والی ممکنہ تباہی خاص طور پر اہل مغرب کے لئے ہو تو کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے۔

جب ہم سابقہ ایام پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ محض بغض وعداوت کی وجہ سے تخت خلافت پر اہل مغرب نے آرا چلوادیا ۔عثمانی ؔ خلافت کی قلمرو کے تقریباً پچھتّر فیصد ریاستیں ،ملک ،شہر اور علاقے کو اہلِ مغرب نے بندر بانٹ کیا اور اُسی طریقے سے عربوں یا اہلِ فلسطین جو اُس سے قبل خلافت کے زیر نگراں تھے ، کو ایک آزاد ملک بنانے کا فریب دے کر اُن سے ملک ہتھیا لیا اور یہودؔ کو ہوم لینڈ دیا گیا ۔ وہاں صدیوں سے مقیم عربوں پر بھاری ٹیکس عائد کردیئے گئے تاکہ وہ وطن چھو ڑ کر بھاگ جائیں اور جنہوں نے ایسا نہیں کیا یا ٹیکس اداکرنے کے قابل نہ ہوسکے ،اُن سے مقررکردہ یہودی افسران کے ذریعے نجی زمین زبردستی چھین کریہودیوں میں تقسیم کی گئی ۔ اسی طرح جن عرب بستیوں کو آگ لگا دی گئی یا لام سے لوٹے یہودی سپاہیوں کے ذریعے قتل کروادیا گیا ، سوچنے کی بات ہے کیا اُن میں سے ایک فیصد بھی خدا کامقرب بندہ نہ تھا۔ جن بچوں کو سابقہ ساٹھ برس میں نیپام بموں سے بھون دیا گیا اور گولوں سے چھلنی کردیا گیا کیا اُن بچوں کی مائوں میں سے کوئی ایسی ماں نہیں تھی جس کی آہ ’’فلک پررحم لانے کے لئے ‘‘ نہ گئی ہو ۔کیا اُمت مسلمہ کی اُن بیٹیوں جو اسرائیلی جیلوں میں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ٹھونس دی گئی ہیں ، کوئی ایسی بچی نہیں ہے جس کی عفت وعصمت لٹ جانے پر فرشتوں تک نے بین نہ کیا ہو؟ کیا غزہ میں بھوکے ، ننگے اور دوا کے قطروں کے لئے ترستے اُن مرد وزن ،کبیر وصغیر میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کی آہ و بکارب نے نہ سن لی ہو ؟کیا دیارِ غیر میں فلسطینیوں کے مہاجرکیمپوں میں تپش وپیاس سے بے حال بھوکے تڑپتے انسانوں میں کسی کا ’’نالۂ نیم شبی‘‘مستجاب نہیں ہوا ہوگا ؟کیا آئے دن کی بمباری سے بے گھر و خانماں برباد ہونے والوں میں سے کوئی بھی ایسا سفید ریش بوڑھا نہیں رہاہوگا جس کے آنسوئوں سے تر داڑھی کو دیکھ کر آسمان کے فرشتے بھی تڑپ نہ اٹھے ہوں گے  ؟

مغربیوں ؔنے مل جل کر افغانستان اور عراق پر حملہ کردیا ۔ افغانستان پر دہشت گرد تنظیموں کی آبیاری کا الزام لگایا اور عراق پر پس پردہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کا الزام عائد کردیا گیا ۔ دنیا نے دیکھ لیا ،بلکہ چند انصاف پسند مغربی دانشوروں نے بھی دونوں الزامات کی تردید کی اور یہ سارا کھڑاگ جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا ۔ سازش صرف یہ تھی کہ اُبھرتی ہوئی اسلامی طاقتوں کاقلع قمع کرکے اُن ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جائے ۔افغانستان میں بے آب وگیاہ بنجر زمینوں تک کو بھی افغانیوں کے خون سے سیراب کردیا گیا اور اسی طرح عراق میں سربراہ مملکت کے سمیت لاکھوں لوگوں کو خاک چٹائی گئی اور ہزاروں کو بے خانماں برباد کردیا گیا ۔ عراق سے صدیوں پرانے آثار قدیمہ اورقدیم تہذیبی وتمدنی وراثت کو ،جو صرف اور صرف عراق میں ہی محفوظ تھی ،کو یا تو لوٹ لیا گیا یا ضائع کردیا گیا۔ان لاکھوں مہلوکین او رشہداء میں سے کیا کوئی بھی صحیح معنوں میں خدا کا بندہ نہ تھا ۔ صوم وصلوٰۃ اورشریعت کاپابند نہ تھا۔کیا کسی کی ’’دعائے سحر گاہی‘‘ دربار کرم والتفات میں اپنی جگہ نہیں بناتی تھی ؟

افغانی طالبان کو ٹریلروں میں بھر کر گرمی ،بھوک ،پیاس اور شکنجے کی سختی میں تڑپا تڑپا کر پانی کے بدلے اپنا ہی پسینہ پینے کے لئے مجبور کردیا گیا ۔گونتاناموبے اور ابوغریب جیل میں عصر حاضر کے نام نہاد متمدن ، انسان دوست اور امن پسند سگ وشگالوں نے دجال کے بیٹوں نے انسانیت کو اس طرح سے شرمندہ کیاکہ ہلاکوؔ کی ایذاء رسانیاں ، ہٹلر کی بھٹیاں اور رومیوں کے کولوسِیم کے انسانی شکار بھی اُن وحشت ناکیوںاور تعذیب رسانیوں کے آگے ماند پڑ گئیں ۔ اُن مسلمان نوجوانوں ،بوڑھوں اور بچوں میں جو وہاں کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کرکے اور برداشت کرکے زندہ بچے رہے یا وہ جوٹوٹ پھوٹ کرریزہ ریزہ بکھر کر شہید ہوگئے ، کیااُن میں سے ایک بھی ایسا خدا کاپیارا نہیں تھا ، خالقِ کون ومکان کا محبوب اور مخلص بندہ نہ تھا ؟ کیا اُس مستجاب الداوات نے ان کی دلخراش چیخیں اور ماہی ٔ بے آب کی طرح تڑپنا نہیں دیکھا؟کیا اُن بے قصوروں اور مظلوموں کی وہ آہ فغاں عرشِ بریں پر اپنے لئے کوئی جگہ نہ بنا سکی؟ایسا کیسے ہوسکتاہے………؟

تیونس،مصر ،شام ،لیبیا اور یمن ………یہ سارے مسلمان ممالک ہیں ۔ ان ممالک میں خانہ جنگی کس نے کرائی ؟ بہت پرانا حربہ ہے یہ مغربیوں کا ۔ آج بارہویں صدی عیسوی کا وہ دور پھر سے شروع ہوگیا ہے جب مسلمان کو یہود ونصاریٰ آپس میں لڑاتا تھا اور خودالگ کھڑا ہوکر تماشہ دیکھا کرتا تھا ۔

……جاری……

رابطہ :- پوسٹ باکس نمبر :691،جی پی او سرینگر - 190001، کشمیر؛

موبائل نمبر:9419475995

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By