GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
سپریم کورٹ فیصلے کے بعدپاکستان میں سیاسی بحران
گیلانی نا اہل قرار نئے وزیراعظم کے لئے مشاورت شروع

اسلام آباد//پاکستان میں اُس وقت ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوگیا جب پاکستانی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ان کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کیلئے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر مشاورت کا آغاز کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے حوالے سے دائردرخواستوں پر سنایا۔وزیراعظم گیلانی کی نااہلی سے متعلق اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کو آئین کی دفعہ63(2) کے تحت جو اختیارات حاصل ہیں،وہ مجلس شوریٰ کی کارروائی کو حاصل تحفظ کے تحت نہیں آتے، چنانچہ یہ عدالت عدالتی جائزے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے 25 مئی کے حکم (سپیکر کی رولنگ) کی تحقیقات کر سکتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 7رکنی بنچ نے26 اپریل کو گیلانی کو آئین کی دفعہ 204(2) کے تحت توہین عدالت کا مرتکب پایا تھا اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا سنائی تھی اور اب جبکہ اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی، گیلانی آئین کے آرٹیکل 63(1G)کے مطابق 26 اپریل کے عدالتی فیصلے کے اعلان کے وقت سے قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔عدالت کے مطابق وہ اسی تاریخ سے ملک کے وزیراعظم بھی نہیں رہے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ26 اپریل سے ہی رضا گیلانی کی مجلس شوریٰ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔فیصلے کے آخر میں کہا گیا کہ صدرِ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ آئین کے مطابق ایسے اقدامات کریں کہ ملک میں پارلیمانی نظام کے تحت جمہوری عمل جاری رہے۔اس سے قبل ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستانی چیف جسٹس،جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر توہین عدالت کے مقدمے میں سات رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کردی جاتی تو ہو سکتا تھا کہ وزیر اعظم کی نااہلی کچھ عرصے کے لئے رُک جاتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا کہ سات رکنی بنچ کے فیصلے کی سکروٹنی کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل248 کا حوالہ نہ تو این آر او کے کیس میں دیا گیا اور نہ ہی توہین عدالت کے مقدمے میں۔اس سے قبل پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی رولنگ پر قومی اسمبلی میں قرارداد اس لئے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم جاری نہ کردے۔بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سپیکر کی رولنگ کارروائی کا حصہ تھی تو پھر قرارداد کیوں لائی گئی؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قرارداد اسلئے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم نہ دے دے۔عرفان قادر نے مزید کہا کہ اسمبلی کے کسی بھی رکن کو نااہل قرار دینا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سات رکنی بنچ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 248 کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹیکل وزیر اعظم امور کو فرائض سرانجام دینے کیلئے تحفظ فراہم کرتا ہے۔اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتی کیونکہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ دلائل دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سوئس حکام کو مقدمے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے رضا گیلانی کا خط نہ لکھنے کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو حکومت کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔اس معاملے کا آغاز سپریم کورٹ کی جانب سے رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کئے جانے سے ہوا تھا۔بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیںجس پر عدالت عظمیٰ نے منگل کو اپنا حتمی فیصلہ صادر کیا۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان میں کسی وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک نئے سیاسی بحران نے جنم لیا ہے۔اب وزیر اعظم کے عہدے کیلئے نئے امیدوار کی نامزدگی ناگزیر بن گئی ہے جس کیلئے پیپلز پارٹی کے اندر مشاورت کا سلسلہ شروع ہوچکاہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By