GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
شہرخاص نظرانداز،بنیادی سہولیات کا فقدان


سرینگر// شہر خاص کو جہاں سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے حکومت کی طرف سے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیںوہیں یہاںبسنے والے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ایسے میں حکام کے یہ دعوے کسی مذاق سے کم نہیں۔پائین شہر کے مختلف علاقوں کا سرسری دورہ کرنے سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ سرکار نے اس علاقے میں تعمیر و ترقی کے کاموں کو سرے سے ہی نظراندازکر دیا ہے اور عوام کوہر بدلتے موسم کے ساتھ نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راجوری کدل ، عالی کدل ، نواکدل ، گوجوارہ،نوہٹہ کے اندرونی علاقوں میں گلی کوچوں کی تنگی اور انکی خستہ حالی اسی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ شاید سول لائنز کے خاص علاقوںکی تزئین میں حکام اس تاریخی علاقے کو بھول بیٹھے ہیں۔ راجوری کدل میں رہنے والے ارشاد احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگرچہ شہر کے بیشتر علاقوں میں گلی کوچوں میںٹائیلیں لگانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے تاہم پائین شہرمیںایسا کوئی کام نہیں کیا جارہا ہے۔ ارشادکا کہنا تھا کہ گرمی کے دوران تو جیسے تیسے لوگ ان گلیوں سے گزر ہی جاتے ہیں لیکن بارش کی پہلی بوندوں کے ساتھ ہی لوگ ان گلیوں میں پیر رکھنے سے گھبراتے ہیں۔ ارشاد کے مطابق علاقے میں کتوں کا راج قائم ہے اور ان گلیوں میں کئی بچے اور خواتین کتوں کے شکار ہو چکے ہیں ۔ اندھیراچھاتے ہی یہ گلی کوچے کسی بھول بھلیاں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ ان میں کسی بھی قسم کی روشنی کا کوئی انتظام نہیں اور یہاں سے گزرنے والے افراد کو اپنے ’من کی آنکھوں‘ کے سہارے ہی چلناپڑ تا ہے ۔ نواکدل میں  رہنے والے الطاف احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کے علاقے میں گذشتہ کئی سال سے ڈرنیج کا کام ادھوار چھوڑ دیا گیا تھا جسے اب مکمل کیا جارہا ہے تاہم علاقے کے گلی کوچوں کی خراب حالت کی طرف ہنوز کسی نے توجہ نہیں دی ۔ان کا کہنا تھا کہ ان کوچوں میں کئی گہری نالیاں بھی موجود ہیں جن کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور جن میں چھوٹے بچوں کے گر جانے کا ہمیشہ احتمال رہتا ہے۔ الطاف احمد کے مطابق کئی بار حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی تاہم اس ضمن میں کوئی بھی کاروائی انجام نہیں دی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے پائین شہرمیں فٹ پاتھوں کی حالت بھی قابل رحم ہے اور جہاں کہیں بھی یہ صحیح سالم ہیں وہاں ان پر دکانداروں کی طرف سے مال تجارت سجادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوگیاہے۔پائین شہر میں یہ تاثر شدت سے پایا جاتا ہے کہ ان کو سر کار کی طرف سے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بہائوالدین صاحب کے عبد الرشید نامی ا یک شخص نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ علاقے کی نمائندگی کرنے والے شہر میں ترقیاتی کاموں کے نام پر ایسے منصوبے تیار کر رہے ہیں جن سے چند مخصوص گھرانوں کو تو فائدہ پہنچتا ہے تاہم عوام کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے دوران بیشتر رائے یہ سامنے آئی کہ ان کے نمائندے جو اسمبلی میں بیٹھے ہیں صرف دعوے کرتے ہیں اوراپنے من پسندافراد کوفائدہ پہنچانے کی غرض سے مختلف دفاتر میں بیٹھے سرکاری افسران کوہم نوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر جن لوگوں کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، اُنہیں مکمل طورپرنظرانداز کیا جاچکا ہے اور اگر کبھی ان نمائندوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاتی ہے تو اُنہیں یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ اُنہوں نے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔اس ضمن میں جب عید گاہ حلقہ انتخاب کے ایم ایل اے مبارک گل سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں ڈرنیج کا کام پچھلے کئی سال سے جاری ہے ۔اس لئے دیگر تعمیر ع ترقی کے کام رکے پڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک بار ڈرنیج کا مکمل ہوجائے تو دیگر تمام سہولیات بھی بہم کی جائے گی ۔ مبارک گل کے مطابق علاقے کے عوام کے بنیادی مسائل سے وہ بخوبی واقف ہے اور ڈرنیج کا یہ بڑا پروجیکٹ مکمل ہوتے ہی ان تمام مسائل کا سد باب کیا جائے گا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By