GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
قاضی نثار مرحوم کاسفرِ آخر
یہ مناظر ہیں میرے قلب ونگا ہ کی ا ک متاع

حیاتِ انسان تلخ و شیرین یا دوں کی مرکب ہوا کرتی ہے۔ یادیں…جو انسان کے قلب و ذہن پر اس قدر اثر انداز ہوتی ہیں کہ حال کیااس کے مستقبل کی راہیں بھی انہی سے متعین ہو جاتی ہیں۔ یہ یادیں نہ جانے کتنوں کو خود و خودی سے بیگانہ کرکے تاریک راہوں میں گُم کردیتی ہیں تو کہیوں کو اصل و اصول سے آشکار ا کرکے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کے لئے انہیں شہابِ ثاقب بنادیتی ہیں۔

اتوار کا دن تھا۔ اسکول کی تعطیل کے سبب میں پُر مگن سویا تھا کہ میرے کا نوں میں دردوکرب کی فلک شگاف چیخیں جو لمحہ بہ لمحہ بلند سے بلند تر ہوتی جارہی تھیں ،چبھنے لگیں۔ میں جاگ اُٹھا۔ بستر سے بھاگتا ہوانیچے آیا تو میری نظر میری پھوپھی کی طرف گئی جو چیخ چیخ کر زار و قطار رورہی تھیں، سینہ کو بی کا یہ عالم تھا گویا سینے میں درد کی کوئی چٹان کاغیرمعمولی بوجھ پڑا ہو جس کو اپنے ہاتھوں کی ضربوں سے وہ توڑنے کی کوشش کررہی ہوں۔ ان کی آنکھوں سے آنسوا س قدر بہہ رہے تھے کہ ان کی پوشاک کے کندھوں کے پاس کا حصہ بالکل تر تھا اور رونے کی آواز میں خراش بھی محسوس ہورہی تھی…ان سے نظر ہٹی تو نانا جان کی ٹوٹی گھڑی پر ٹھہری جو ماتھا پیٹنے کے سبب ٹوٹی تھی کیونکہ پیشانی پر ہلکا سا زخم بھی عیاں تھا، داڑھی کی بکھر ی حالت سے احساس ہوتا تھا کہ وہ اس وقت خود سے بالکل بیگانے ہوچکے ہیں۔ دیوانوںکی طرح سیڑھیاں چڑھنا ، کمرے کے اندر آنا اور واپس آکر پھر اُترتا، باہر جانا نہ جانے کیوں میرے اضطراب کو بڑھا رہا تھا ……آہیں، آنسوں، سسکیاں، ہچکیاں،دردو کرب ، نالہ و فغاں…… ہر سو یہی عالم تھا۔میری نظر جامی (میری والدہ کا عرف) پر پڑی تو محسوس ہوا جیسے پتھر کی کوئی مورت ہو… کوئی حرکت تھی اور نہ کوئی احساس کی جنبش…گویا ایک جسم تھا لیکن جان کے بغیر ۔ جامی جو عموماً پردے کا اہتمام کرتی تھیں،اس وقت ان کے سر پردوپٹہ بھی نہ تھا۔ ان کے چاروں طرف عورتیں انہیں دیتے کرتی نظر آرہی تھیں لیکن وہ تھیں کہ اس عالم سے جیسے بے نیاز ہو چکی ہوں۔ میں ان کی طرف بڑھا۔انہوں نے مجھے دیکھا ضرور لیکن وہ دیکھنا شاید احساس میں تبدیل نہ ہو سکا جیسے انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں ۔ میں نے انہیں آوازدی … زور زور سے انہیں پکارا۔ جامی ! جامی! … لیکن جواب ندارد۔

میں نے جہاں بھی نظر دوڑائی ہر طرف آہ و بکا اور گریہ وزاری… لیکن اس سب کے باوجود معلوم نہیں یہ میری کم عمر ی تھی یا حواس باختگی کہ میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ شاید کمسنی ہی تھی کیونکہ کسی نے جب چیخ چیخ کر قاضی صاحب مرحوم کا نام پکارا تو مجھے لگا شاید انہیں جیل لے گئے ہیں لیکن چند پل کے بعدمجھے محسوس ہوا کہ حقیقت اس سے بڑھ کر بھیانک تھی۔

اس دوران میںصحن کی طرف دوڑا تو یہاں ہر طرف لوگوں کا ہجوم نظرآیا جن کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا۔ اس عالم بدحواسی کو دیکھ کر میں باہرکی طرف دوڑپڑا۔ ایک ہجوم کسی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں بھی بغیر سوچے سمجھے اس کے ہمراہ ہو لیا۔ عیدگاہ کے قریب پہنچ کر میں نے اپنے ماموں جان کو برہنہ پا سڑک پر بیٹھا پایا۔  جب ان کی نظر مجھ سے ٹکرائی تو ان کی آنکھیں بھر آئیں لیکن آنسوئوں کو چھلکنے سے روک دیا۔ میں ان کے قریب پہنچا تو انہوںنے مجھے گلے لگایا اور بہت روئے،چیخ چیخ کر روئے…اتنا روئے کہ سارے ہجوم کے رونے کی آواز ان کی آواز میں مدغم ہوئی اور ہر طرف خاموشی طاری ہوگئی۔

ہجوم نے جلوس کی صورت اختیار کی اور ہم اس کے ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ کچھ ہی دور چلے تھے کہ میرے ایک قرابت دار جاوید صاحب نے مجھے ایک ایمبولنس میں بٹھادیا اور حسن پورہ (جہاں پر میری پھوپھی جان کا سسرال تھا) پہنچا دیا…  رات وہاں قیام رہا… اور ساری رات تحیر آمیز سوالات موج در موج ذہن کے سمندر میں تلاطم بپا کرتی رہیں۔ سوالات … کچھ ایسے… جن کے جوابات کسی کے پاس نہ تھے یا پھر کوئی جواب دینا نہیں چاہتا تھا۔ کچھ ایسے سوالات جن کے بوجھ تلے میں دبا جارہا تھا۔ ایسے سوالات اتنی  بھیڑ میں بھی مجھے تنہائی کااحساس دلارہے تھے اور کچھ ایسے سوالات جن کی  وجہ سے شور و غونما کے باوجود میرے اطراف واکناف میں ایک مکمل سکوت طاری تھا۔ 

کیا یہ جھوٹ نہیں ہو سکتا ۔ کشمیر میں تو افواہیں پھیلتی رہتی ہیں۔ قاضی صاحب ہی کیوں……؟ وہ تو اپنا ہو یا غیر ہر کسی کے بہی خواہ …… یتیموں کے سرپرست ، ناداروں کے غمگسار، بیواؤں کے کفیل… تحریک کشمیر کے علمبردار اور سب سے بڑھ کر ظلمت کدوںکو علم کے نور سے منور کرنے والے…کاش! میرے ذہن تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کوشاں یہ حقیقت ایک خیالِ خام… ایک بھیانک ادھورا خواب ہی ثابت ہو۔ کاش یہ جھوٹ ہو۔ کاش…اے کاش ……!!

صبح سویرے مجھے عیدگاہ اسلام آباد پہنچایا گیا۔ جہاں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور بمشکل مجھے لوگوں کے ایک ٹھا ٹھیں مارتے سمندر کے درمیان سے اسیٹج تک پہنچا دیا گیا۔ یہاں میں نے وہ روح فرسا منظر دیکھا جو میں تادمِ حیات کبھی نہیں بھول سکتا ۔ قاضی صاحب سامنے لیٹے پڑے تھے… وہی بار عب چہرہ جس سے آنکھیںملانے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ چہرے کے ایک طرف اگرچہ بینڈیج بندھا تھا لیکن وہ چہرے کی نورانیت کو ذرہ بھر بھی زائل نہ کرتا تھا۔ لبوں پر نظر پڑتے ہی محسوس ہوتا تھا کہ ابھی ان سے وہ گر جدار آواز نکلے گی جس سے باطل کے ایوان لرز جاتے تھے۔ بدن میں ذرہ بھر بھی ڈھیلاپن نہ تھا۔ ہمیشہ کے طرح چُست ، درست اور تندرست نظر آرہا تھا لیکن جونہی میری نظر قاضی صاحب کی پیشانی پر پڑی تو ایک عجیب سی شکن نظر آئی…جیسے آپ کو کسی چیز کا اندیشہ لا حق ہو ، کوئی فکر آپ کو ستائے جارہی ہو، کسی غم میں پریشان ہوں… کسی اپنے کی فکر ، کسی قرابت دار کا غم… آخر آپ کو کون سی فکر دامن گیر تھی جو تاباں چہرے سے ہو یداتھی؟…اپنی کم سنی اور کم عمری کے باعث میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہا  لیکن بالیدگی میں ذہن کے دریچے جب واہوئے تو اس پر غور کرنا شروع کیا۔ میں نے سوچا شاید انہیںاس وقت اپنے بے کس و بے بس اہل و عیال کا خیال ستایا ہوگا لیکن نہیں… کیونکہ ان کیلئے تو ’’اُمت‘‘ سب سے بڑھ کر عزیز و رقیق تھی۔ اس وقت میرے ذہن میں وہ پرانی یاد تازہ ہوئی جب بابری مسجد شہید کئے جانے کے رد عمل میں قاضی صاحب نے جامع مسجد میں اپنے خطبہ کے دوران مجھے گود میں اُٹھا کر کہا کہ اگر اس سلسلے میں ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریںگے، چنانچہ پہلی قربانی یا سر کی ہوگی۔ شاید ادارۂ تحقیقات … ہاں یہ ان کا ایک تشنۂ تعبیر خواب تھا لیکن اگر اس کی فکر ہوتی تو روایتی لوگوں کی طرح سیاست سے یہ کہہ کر کہ’’ دین اور سیاست جُدا جُدا ہیں ‘‘اپنا دامن جھاڑا تے…… لیکن ان کے افکار و خیالات تو آفاتی تھے۔ چنانچہ مجھے احساس ہوا کہ آپ کے ماتھے کی وجہ شکن صرف یہ تھی کہ اس قوم کے بعض محافظین ہی گرگ زادے تھے جو ہمیشہ چیر پھاڑ کیلئے تیار رہتے تھے۔۔۔ انہیں فکر تھی اس ملت کی جس کے چند رہنما ہی رہزن تھے کہ کب کوئی اونگھے اور وہ اس پر جھپٹ پڑیں……وہ شاید دلبرداشتہ تھے… تحریک حریت کشمیر کے ان بزعم خویش’’خیر خواہ‘‘ ٹھیکیداروں سے جو اغیار کی سالہا سال کی محکومیت سے نجات پانے کے لئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے والی اس قوم پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے خواہاں تھے اور نہ جانے کتنے معصوم یہاں تک کہ تحریک نواز بھی اس عصبیت اور خویش پسندی کی بھینٹ چڑھے ۔

مجھے یاد ہے کہ قاضی صاحب کے چہارم پر مجھے ایک بھاری عوامی اجتماع کے رو برو بھی لا کھڑا کیا گیا… جہاں آہوں ، اشکوں اور نا لہ و فغان کے بیچ کچھ بزرگوں نے میری دستار بندی کی اور لوگوں کے اس عظیم اجتماع میں مجھے مرحوم کا جانشین  نامزد کیا گیا… ہچکیوں اور سسکیوں کے دوران لوگوں نے میرے کچھ ٹوٹے پھوٹے جملے بھی سنے۔

رنج و الم کی یہ تصویریں  میرے قلب و ذہن کے نہاں خانوں میں منقش تو ہو گئیں لیکن طویل عرصہ تک یہ اس حد کو نہ چھو سکیں جو جستجو ئے منزل کے لئے مشعل راہ بن سکیں۔ مجھے حصولِ علم کے لئے باہر لے جایا گیا جہاں اس دوران بڑے بڑے علمائ، مفکر و دانشور حضرات سے جب بھی شرف ملاقات کا موقعہ نصیب ہوا تو یہ حضرات جہاں مرحوم قاضی صاحب کے لئے رطب اللسان رہتے تھے وہاں مجھے ان کا سچا اور پکاجانشین بننے کی ترغیب بھی دیتے رہے۔ مجھ میں نہ اتنی قابلیت تھی اور نہ ہی وہ چاہ کہ جو مجھ سے اپنے والد کے خلا کو پُر کراتی … لیکن وقت کی گذاشت کے ساتھ ساتھ قلب و ذہن پر منقش ان یادوں نے وہ شدت اختیار کی کہ جس سے منزل متعین ہوئی……

 میں اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ ان یادوں نے مجھے قاضی صاحب کا مثیل بنا دیالیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ’’ امت ‘‘ کی فکر میری خواہشات پر غالب آ گئی۔

………

(مضمون نگار امت اسلامی جموں وکشمیر کے سربراہ ہیں)

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By