GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
تمام اقلیتوں کا احترام ہمارا دینی فریضہ: گیلانی
سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا وفد حریت چیئر مین سمیت کئی مزاحمتی لیڈروں سے ملاقی

سرینگر// حریت (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیر کوئی فرقہ واریت کی جنگ نہیں، بلکہ توڑے گئے وعدوں کا مسئلہ ہے اور اس تنازعہ کو حتمی طور حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں جاری سیاسی غیریقینیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ بھائیوں سمیت جموں کشمیر کی تمام اقلیتوں کا احترام کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے اور ہم پنجاب کے سکھوں کی اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ موصولہ بیان کے مطابق اپنی رہائش گاہ پر سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر پرم جیت سنگھ کی سربراہی میں آئے دس رکنی وفد کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ بھارت جنوبی ایشیاء میں ایک استعماری قوت کے طور ابھرا ہے اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم نے خطے میں جنگ جیسی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ جموں کشمیر کو اس نے زبردستی ہڑپ کرلیا ہے اور وہ اپنے ملک کی اقلیتوں کے ساتھ بھی دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک روا رکھ رہا ہے۔بیان کے مطابق گیلانی نے کہا کہ ہم بھارت کا کوئی جائز حصہ اس سے الگ نہیں کرانا چاہتے ہیں، البتہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی یہ حیثیت (Status) بین الاقوامی سطح پر مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 47ء میں زبردستی یہاں اپنی فوجیں اُتار دیں ہیں اور پھر آگے چل کر یہ ملک ہی اس قضیے کو یو این او میں لے کر گیا، جہاں عالمی برادری نے کشمیری قوم کے اس حق کو واضح الفاظ میں تسلیم کرلیا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے خود مجاز ہیں اور اقوامِ متحدہ کو انہیں یہ سہولیت فراہم کرنے کے لیے جموں کشمیر میں رائے شماری کا انعقاد کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان قراردادوں پر خود بھارت نے دستخط کئے ہیں اور ان کو عملانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ البتہ بعد میں بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا اور اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر اس نے عالمی برادری کے فیصلے کو بھی کسی خاطر میں نہیں لایا۔ بیان کے مطابق گیلانی نے سکھوں کے وفد سے کہا کہ بھارت کی اس ہٹ دھرمی نے خطے میں سیاسی غیریقینیت کو جنم دیا ہے اور اس کی وجہ سے کشمیریوں سمیت پورے جنوبی ایشیاء کے عوام مصائب اور مشکلات اٹھانے پر مجبور ہورہے ہیں۔ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیرمین نے سکھ وفد سے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کو دبانے کے لیے اپنی تمام تر ملٹری پاور کو استعمال کررہا ہے اور اس کی افواج جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں میں ملوث ہے۔ چھٹی سنگھ پورہ واقعے کی کسی بین الاقوامی ادارے کے ذریعے سے تحقیقات کرانے اور قصورواروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے گیلانی صاحب نے کہا کہ اس وقت امریکی صدر بھارت کے دورے پر آرہے تھے اور بے قصور سکھ بھائیوں کو محض اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ دنیا کو کشمیر کی تحریک کے بارے میں گمراہ کیا جائے اور اس مسئلے کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جائے۔بیان کے مطابق گیلانی نے کہا کہ جس ملک کی افواج کا کردار اس قدر بھیانک اور خونخوار ہو، اس کے جمہوری دعوے کھوکھلے ثابت ہوجاتے ہیں۔ گیلانی صاحب نے مزید کہا کہ ہم خود مظلوم ہیں اور دوسرے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس حیثیت سے ہم بھارت میں بودوباش رکھنے والے سکھوں پر ہورہے مظالم کے بھی خلاف ہیں اور ہم انکی بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ بیان کے مطابق اس موقعے پر سکھ لیڈر پرم جیت سنگھ نے وفد کی طرف سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں اور ہم ان کے حقِ آزادی کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارا سمجھنا ہے کہ بھارت کا اس خطے پر قبضے کا کوئی جواز نہیں ہے اور وہ محض طاقت کی بنیاد پر یہاں قابض ہے۔ سکھ راہنما نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے سکھوں کے ساتھ بھی دھوکہ کیا ہے اور 47ء میں ان کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے، ان کا ایفاء بھی اس نے نہیں کیا۔ پنجاب میں بڑے پیمانے پر بے قصور لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور آج تک قصورواروں کو کوئی سزا نہیں دی گئی ہے۔ دوسری اقلیتوں کی طرح  سکھوں کے ساتھ بھی سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور ان کے شہری حقوق کو بڑے پیمانے پر پامال کیا جارہا ہے۔ اس موقعے پر سکھ وفد نے حریت چیرمین گیلانی کی اس بات کے لیے بڑی تعریف کی کہ وہ اپنے اسٹینڈ کے حوالے سے ایک مستحکم آدمی ہیں اور انکی جرأت اور ثابت قدمی دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے متعلق بھی گیلانی  کے رول کو سراہا اور کہا کہ وہ ان کے لیے ایک بڑا سہارا ہیں۔

سرینگر// موصولہ بیان کے مطابق پنجاب کے سکھ لیڈر پر م جیت سنگھ کی قیادت میں سکھوں کے ایک وفد نے کل مزاحمتی لیڈران شبیر احمد شاہ،نعیم احمد خان ،ظفر اکبر بٹ ،یاسمین راجا ،جا وید احمد میر اور محمد یوسف نقاش سے ملاقات کی ۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں طرف کے لیڈروں نے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی ۔اس موقعہ پر شبیر احمد شاہ نے سکھ قوم پر ہو ئی سرکاری زیادتیوں کا ذکر کیا اور کہا کشمیر ی قوم پر بھی بہت زیادتیاں ہو ئی ہیں اور کہا سکھ قوم اور کشمیر ی قوم دونوں ظالم کے ظلم کے شکار ہیںاور دونوں ستائے ہو ئے ہیں ۔بیان کے مطابق اس موقعے پر شبیر شاہ نے کہا ظالم حکمرانوں نے جو وعدے سکھ قوم کے ساتھ کئے تھے انہوں نے ان وعدوں کو نہیں نبھایا اور یہی صورت حال ہماری بھی ہے جو وعدے بھارتی حکمرانوں نے ہمارے ساتھ کئے تھے انہوں نے ان کو پورا نہیں کیا ۔بلکہ جب سکھوں نے بھارت سرکار کو وعدے پورے کر نے کو کہا تو سرکار نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کر کے سکھوں کو خاموش کردیا ۔بیان کے مطابق شبیر شاہ نے سکھ لیڈران کے ساتھ بات چیت میں مزید کہا کہ جب ہم نے بھارتی حکمرانوں کو ہم سے کئے وعدے یاد دلائے تو ہمیں بھی طاقت کے بل پر خاموش کر نے کی کوشش کی گئی ۔شاہ نے کہا ہم سب مظلوم ہیں ہمارے انسانی حقوق سلب کر دئے گئے ہیں لہذا ہم سب کو اسنانی حقوق کی پا ما لیوں کے خلاف آواز اٹھانی چا ہئے ۔انسانی حقوق کی پاسداری کرانے کے سلسلے میں طے پا یا کہ پنجاب اور کشمیر میں ایسی کا نفرنسیں مناظرے اور مباحثے منظم کرانے کی ضرورت ہے جن میں انسانی حقوق کی پا مالیوں کے خلاف اور ان کی پاسداری کے حق میں رایہ عامہ کو ہموار کیا جا سکے ۔بیان کے مطابق شبیر شاہ نے پنجاب کی سکھ لیڈر شپ کی سیاسی دوراندیشی اور جرت مندی کی تعریف کی اور کہا کشمیر سکھوں کو کشمیر ی پنڈتوں کیطرح کشمیر سے بھگانے کی بڑ ی کو ششیں ہو ئیں تا کہ کشمیر یوں کی تحریک آ زادی کو فرقہ دارانہ رنگ دیا جا تا لیکن سکھ قیادت نے کشمیر ی سکھوں کو مسلمان برادری کیساتھ کشمیر میں رہنے کا مشورہ دیکر مسلم سکھ برادری کی قدیم روایت کو زک پہنچنے نہیں دیا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By