GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
جموں خطہ میں بجلی کا بحران
حقیقی سدھار کی ضرورت

جموں خطہ میں گزشتہ قریب دو ماہ سے لوگوں کو جس پیمانہ پر بجلی کی کمیابی کا سا منا کر نا پڑا ہے ، اس نے غالباً ماضی کے تمام ریکارڈ مات کر دئے ہیں ۔ جوں جوں درجہ حرارت میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے ، سرمائی راجدھانی جموں اور پورے جموں خطہ میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کٹوتی میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث صارفین انتہائی پریشانی کا سا منا کر رہے ہیں ۔ جموں شہر اور دیگر قصبہ جات میں آئے روز مختلف سیاسی اور سماجی تنظیمیں بجلی کی قلت کے خلاف احتجاج اب تقریباً معمول بن چکا ہے تاہم ایسا محسوس ہو تا ہے کہ متعلقہ محکمہ اپنی خو بدلنے کو تیار نہیں ہے اور اس کے حکام کے پاس وجوہات کا پٹارا ہر وقت موجود رہتا ہے جن کا وہ باری باری موقع محل کے مطابق استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی اس کے لئے ناردرن گرڈ سے سپلائی میں کمی کو موردِ الزام قرار دیا جا تا ہے ، کبھی غیر قانونی صارفین کی شر انگیزی یا تیکنیکی خرابی کا حیلہ تراشا جاتا ہے لیکن کیا مجال کہ کبھی اپنے اوپر کوئی بات لی ہو۔ رواں ماہ کے پہلے ہفتہ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک میٹنگ کے دوران پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے کمشنر سیکریٹری کو ہدایات دی تھیں کہ گرمی کی شدت کے پیش نظر جموں خطہ میں بجلی سپلائی کی مقدار میں اضا فہ کیا جائے نیز غیر اعلانیہ کٹوتیوں کا سلسلہ ختم کر نے کے کے لئے یقینی اقدامات کئے جائیں ۔انہوں نے صارفین کی شکایات کے ازالہ کے لئے کنٹرول روم قائم کر نے کے احکامات بھی دئے تھے لیکن 2ہفتے گزر جانے کے باوجود ان پر بہت کم عمل کیا گیا ہے ۔گزشتہ روز بھی وزیر صنعت و حرفت سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے سرمائی راجدھانی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران اعلان کیا ہے وزیر اعلی ٰ نے جموں خطہ کے لئے روزانہ 15سے20لاکھ یونٹ اضافی بجلی منظور کی ہے ۔ انہوں نے محکمہ بجلی کے افسران سے تلقین کی ہے کہ وہ بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے ایک ’’ جامع میکنیزم ‘‘ بنائیں تاکہ صارفین کو راحت نصیب ہو ۔ یہ اعلان بظاہر کافی خوش کن اور راحت افزا ہے لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں موجودہ منظر نامہ میں کسی بڑی انقلابی تبدیلی کی امید نہیں کی جا سکتی ہے ۔ البتہ اتنا فرق ضرور پڑے گا کہ چند روز غیر اعلانیہ کٹوتیوں کے دورانیہ میں ایک آدھ گھنٹے کی کمی ہوگی اور اس کے بعد ماضی اپنے آپ کو دوہرا نا شروع کر دے گا ۔ حالانکہ اس بات میں کسی تشکیک کی گنجائش نہیں کہ شمالی ریاستوں میں گرمی کی شدت میں اضا فہ کے باعث شمالی گرڈ نے ریاست کے لئے مختص بجلی کے کوٹہ میں 5سے7فیصد کٹوتی کر دی ہے لیکن جموں خطہ میں بجلی کے بحران کی صرف یہی ایک وجہ قرار دینا حقا ئق سے چشم ِ پوشی کی مترادف ہو گا ۔ بلکہ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ شمالی گرڈ کی یہ کٹوتی اصل مرض کا محض ایک اعشاریہ ہے ۔ اس بحران کی اصلی وجہ تلاش کرنی ہو تو محکمہ کی طرف سے بجلی کی تقسیم کاری کے نظام ، بوسیدہ بنیادی ڈھانچہ ، اور شہروں و قصبہ جات میں محکمہ کے ملازمین اور حکام کی ناک تلے اعلیٰ سطح پر بجلی کے غیر قانونی اور بے تحاشہ استعمال اس کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔خصوصی طور پر شہری علاقوں میں عام طور پر دیکھنے میں آرہا ہے کہ لوگوں نے اگر چہ ہزاروں کی تعداد میں ائر کنڈیشنر نصب تو کر رکھے ہیں لیکن ان کا سرکاری کاغذات میں کوئی کھاتہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کرایہ با ضابطہ طور پر سرکاری خزانہ میں جمع ہو پا رہا ہے ۔ بلکہ لوگوں نے محکمہ کے اہلکاروں سے مل کر ایک مختصر اور کم خرچیلا راستہ اپنا رکھا ہے جس میں صارف اور محکمہ کے مقامی ملازمین کے لئے راوی نے عیش ہی عیش لکھا ہے ۔البتہ یہی ملازمین جب کسی عام قسم کے صارف کوبجلی کے غیر قانونی استعمال میں ملوث پاتے ہیں تو وہ اس کے قہار ثابت ہو تے ہیں ۔ یہ صورتحال جموں شہر کے علاوہ مضافاتی علاقہ جات ، قصبوں اور نیم قصبہ جاتی علاقوں میں کم و بیش یکساں پائی جاتی ہے جس کا خمیازہ ان صارفین کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے جن کا اس میں کئی قصور نہیں ہے ۔حکومت اگر بجلی نظام میں مستقل بہتری کی خواہاںہے تو اس کے لئے اسے کچھ بنیادی تطہیری اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں اولین پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تنظیم نو ہے ۔علاوہ ازیں جہاں غیر قانونی صارفین کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے وہیں اس علاقہ میں تعینات فیلڈ عملہ کو بھی برابر کا قصور وار مان کر اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ اس کی ملی بھگت کے بغیر بجلی کی چوری مشکل ہی نہیں بلکہ قریب قریب ناممکن ہے ۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بوسیدہ بنیادی ڈھانچہ میں مرحلہ وار اور منظم طریقہ سے سدھار لایا جانا چاہئے تاکہ اس کی وجہ سے جو دوران ِ ترسیل بجلی ضائع ہوتی ہے اس میں ممکنہ اور قابلِ قبول حد تک کمی لائی جا سکے ۔بصورت دیگر بجلی کی مقدارمیں اضافہ اور ترسیل میں بہتری کے اعلانات محض زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں نکل پائیں گے اور نہ ہی عملی طور اس میں کوئی سدھار آئے گا بلکہ مستقبل قریب میں بھی پرنالہ وہیں پر گرتا رہے گا ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By