GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
مسلکی مفاہمت وقت کی ضرورت
وحدت اُمت کا منظر کیوں ابھی تک خواب ہے

 شیعہ سنی اختلافات بنیادی طور پر مسلمانوں کی داخلی سیاسی کشمکش کی پیداوار ہیں لیکن بعد میں ان اختلافات نے جو شکل اختیار کی کہ انہیں اب دونوں فرقوں کی نظر میں محض فروعات ِدین میں اختلافات سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، تاہم اسے کفرو ایمان کا اختلاف قرار دینا بھی کسی طرح صحیح نہیں ہے ۔ اس اختلاف کو کم یا ختم کرنے کی جو سنجیدہ کوشش ماضی میں ہونی چاہئے تھیں، وہ بدقسمتی سے نہیں ہوسکیں۔ اب یہ اختلاف بیرون کشمیر بعض قوموں اور ملکوں میں اتنی سنگین کشمکش کی شکل اختیار کرچکی ہیں کہ اس کی زد میں آکر نہ جانے کتنی ہی جانیں ضائع اور نہ جانے کتنے ہی مال وا سباب تباہ ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے شد ت پسند حلقے اس اختلاف کو کفرو اسلام کے تناظر میں دیکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اس طرح دونوں فرقوں کے درمیان خلیج مزید بڑھتی جارہی ہے۔ دونوں فرقوں یا اس کے بعض طبقات کے اندر ایک دوسرے کے تعلق سے انتہا پسندانہ نظریات پائے جاتے ہیں۔کسی بھی جماعت یا قوم میں دوسری جماعت کے خلاف جوڈھلی ڈھلائی سوچ(Sterotypes)بن جاتی ہے اس کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی بھی فرقہ اپنے نظریاتی خول سے باہر آکر دوسرے فرقے کو خود اپنے طور پر سمجھے اوربرتنے کی کوشش نہیں کرتا۔ موجود دورمیں دونوں فرقوں میں سے باشعوراورحساس لوگوں پر مشتمل ایک طبقہ شیعہ سنی مکالمے کوفروغ دینے کاخواہش منداوراس کے لئے کوشاں ہے۔فرقہ وارانہ مفاہمت کے لئے سب سے اہم طریقہ مکالمے کا طریقہ ہے ۔ مکالمہ متفق علیہ امور میں تعاون اور مختلف مفید امور میں گفت وشنید کے نکات کی تلاش کا نام ہے۔ اس لئے وہ ہر انسانی گروہ کی ضرورت ہے ۔ چونکہ شیعہ سنی مفاہمت مسلمانوں کے لئے اپنے داخلی حصار کو مضبوط کرنے کی خاطر نہ صرف بہت ہی ضروری ہے بلکہ اہم بھی ہے ۔ اس لئے وہ زیادہ حساس بھی ہے ۔ اس کی حساسیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں فرقوں کا یہ اختلاف صدیوں پر پھیلا ہوا ہے ۔ ان اختلاف کو حل کرنے کے متعلق ماضی میں گفت شنید کی سنجیدہ کوششیں بہت کم ہوئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے جسم سے کسی بھی عضو کو کاٹنے سے ہرگز پر سکون نہیں رہ سکتے ۔ یہ فطرت کا ابدی اصول ہے ۔ فطرت دُشمنوں کو بھی دوست بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میںبھی اس کی تاکید کی گئی ہے۔’’ نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی، لہٰذا تم بُرائی کا جواب بہتر ین طریقہ سے دو کہ اس طرح جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے وہ بھی ایسا ہوجائے گاجیسے گہرا دوست ہوتاہے ‘‘ (سورۃ حمٰ السجدہ۳۴)
دنیا کے موجودہ سیاسی صورت حال میں شیعہ سُنی مفاہمت بہت سے سیاسی مسائل کے حل کی کلید ثابت ہوسکتی ہے ۔ یہ دونوں فرقے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ان کا باہمی تعاون امت مسلم کی اجتماعی قوت و اتحاد کے لئے ایسے دروازے کو کھول سکتاہے جواب تک تاریخ میں بند رہے ہیں۔شیعہ سنی مفاہمت کے عمل کو ایک دینی و ملی ضرورت کے طور پر آگے بڑھا نا وقت کا تقاضا ہے جس کا مقصد تصحیح فکرو تنقیح نظر کے ساتھ اسلامک آکٹوزم کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانا ہے ۔ دونوں فرقوں کے درمیان مکالمے کیلئے سب سے پہلے اس بات پر اتفاق ضروری ہے کہ شیعہ سنی اختلاف کا تعلق بنیادی عقائد اور ایسے اساسات دین سے نہیں ہے جو کفرو ایمان کی بنیاد ہیں۔تمام مسلمان قرآن مجید کے اس حکم کے مخاطب ہیں کہ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میںپھوٹ نہ ڈالو‘‘(آ لِ عمران ۱۰۳)قرآن مجید کے مطابق آپسی تنازعہ اور اختلاف کو اُمت کو قوت و اثر کے زائل ہونے کا سبب بتایا گیا ہے۔ ’’اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جائو گے ‘‘   (سورۃ انفال ۴۶)
قرآن مجید کے اس حکم پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں اُمت کی جو صورت حال ہے وہ سب پر ظاہر ہے ۔ ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت نو استعماری مغربی طاقتیں شیعہ سُنی اتحاد کو عملی شک میں ڈھلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ اس وقت غیر مسلموں ، عیسائی ، ہندو وغیرہ کے ساتھ مکالمے کا غلغلہ پایا جاتاہے اور اسلامی اور مغربی ملکوں میں اس پر کانفرنسیں اور سمینار منعقد کئے جاتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ہمارے اندر داخلی سطح پر اس نوع کی کوششوں کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ برصغیر میں پہلے ہی شیعہ سنی اختلاف نے اور بعدمیں دوسرے مشربی اختلافات نے مسلم اجتماعیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت اُمت کی سب سے اہم ضرورت اجتماعیت کا اہتما اور استحکام ہے اور اس کے لئے بین مسلکی مکالمے کی ہر سطح پر ضرور ت ہے ۔ مکالمے کے علاوہ دوسرا انتخاب ذاتی مطالعہ اور ذاتی غور وفکر ایک ایک طرفہ عمل ہے جس کا نتیجہ محدود او روقتی ہوتاہے۔ اس مفاہمت کے عمل میں سسب سے بنیادی رول شیعہ سنی دونوں فرقوں کے علماء اور اربابِ فکر کا ہے کیونکہ عوام کی فکری قیادت انہی کے ہاتھوں میں ہے لیکن یہ کام اہل فکر طبقے کے اشتراک و تعاون کے بغیر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتا ۔ فریقین کے درمیان نتیجہ خیزمکالمے کے لئے سب سے اہم یچ حسن ظن اور الدین النصیحۃ کے تحت خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ قرآن مجید میں بد گمانی کی مذمت کی گئی ہے۔ ’’اے ایمان والو بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض بناہ ہوتے ہیں‘‘ (الحجرات ۱۲)
حدیث کے مطابق بدگمانی سے بچنا چاہئے کہ بد گمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ مسلکی کشمکش میں سب سے زیادہ عمل دخل اسی بدگمانی کو ہے ،جو باہمی طور پر دوری بنائے رکھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنے کی وجہ سے عوام تو عوام، خواص کے بھی ذہنوں میں راسخ ہوچکی ہے۔ عوامی سطح پر شیعہ سنی اختلاف کے تعلق سے نہایت بے بنیاد باتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ حسن ظن کے ساتھ یہ اخلاقی علمی اور دینی تقاضہ ہے کہ اس کی حقیقت متعلقہ فریق کی مستند کتابوں اور معتبر علماء سے معلوم کی جائے ۔ دونوں فریق کے تعلق سے پائے جانے والی ڈہلی ڈھلائی سوچ (Stereoloy)کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اس تعلق سے سب سے اہم کام یہ ہے کہ دونوں کی مکاتب فکر کے لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ علمی مذاکرے اور عملی قربت وجود میں آئے۔ اشتراک فکر سے اشتراک عمل کی راہیں بھی ہموار ہوں گی ۔ دونوںفرقوں کے درمیان سماجی سطح پر دوریوں کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرن ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک دوسرے کے تہنیتی و تعزیتی پروگراموں ، میں شرکت کی جائے ایک دوسرے کی مسجدوں میں نماز کی ادائیگی اجتماعی افطار اس نوع کی دوسری سرگرمیاں دونوں فرقوں کو اشتعال انگیز باتوں سے آخری حد تک پرہیز کرنا لازمی ہے۔ ہندوستان میں لکھنو میں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں شیعہ سُنی کشیدگی میں اس بات کا بہت دخل رہا ہے کہ دونوں فریق اپنے نظریات پر سنجیدہ علمی ماحول میں غوروخوض کے بجائے انہیں عوامی سطح پر سڑکوں پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مخالفانہ اشتہارات بازی اور بھڑکاؤ جلسے جلوس جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ اسی روش نے غیروں کے اشارے پر پاکستان کو مسلکی کشمکش کا جہنم زار بنایا دیا ۔ اختلاف کرنے والے ہر دو فرقرں میں ایک حلقہ انتہا پسند وں پر مشتمل ہوتاہے ۔ ارباب حل و قعد کے لئے ضروری ہوتاہے کہ اس حلقے کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرے ۔ سماجی سطح پر اس حلقے کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے اجتماعی ذمہ داریوں سے اس حلقے سے وابستہ عناصر کو دور رکھے، نئی نسل کو اس سے خبردار کرے۔ اسی حلقے کو اسلام دشمن عناصر استعمال کرکے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔ ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو اس ذہنیت سے نکلنا ضروری ہے کہ فریق مخالف جب تک فلاںمخصوص نظریات سے دست بر دارنہ نہ ہوجائے اس وقت تک اس ساتھ مکالمہ اور تعلق سازی کی کوشش نہیں کی جاسکتی ہے ۔ حقیقت یہ کہ اس شرط کے ساتھ کبھی کوئی مکالمہ عمل میں آہی نہیںسکتا۔
شیعہ سُنی مفاہمت کے لئے ایک دوسرے کو اس کے اصل ماخذ کی روشنی میں سمجھنا ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتاہے ۔ دونوں فریقوں کے پاس اختلافی لٹریچر کا تقریباً ہزار سال سے زیادہ عرصے پر مشتمل ذخیرہ موجود ہے جس میں دونوں فریقوں کے یہاں بی مقدار میں رطبِ ویا بس جمع ہوگئی ہیں ۔ ان سے دامن بچاتے ہوئے بنیادی ماخذ تک رسائی اور اس کی روشنی میں اپنے اختلافات کا تجزیہ کرنا ایک دُشوار گذار عمل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں۔ اصل مسئلہ علمی حلقوں کی سہل پسندی اور اخلاص کی کمی کا ہے۔ جو علماء ذوقِ علم وتحقیق سے بہرہ ور ہیں ،وہ خاموش اور ان معاملات سے کنارہ کش ہیں او رکم علم و نام نہاد علماء واہل دانش اختلاف کی خلیج کے مزید وسیع کرنے کو علم کی معراج اور افتراقِ امت کے کام عبادت سمجھ کر اس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔
آج دنیا بھر کی طاغوتی قوتیں اسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مسلمانوں میںمنافر کا بیج بورہے ہیں۔ وہ اُمت مسلمہ میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ شیعوں اور سنیوں میں ٹکراو پیدا کررہی ہیں، کیونکہ شیعہ سنی اختلاف باطل کا ایک پُرانا آزمودہ نسخہ ہے جو دشمنان اسلام کی طرف سے اسلام کو کمزور کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور کفار کی ان تمام سازشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان انتشار اور بکھرائو کا شکار ہوگئے اور وحدت کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ دُشمن کا تو کما ہی دُشمنی کرنا ہے، اس سے کیا گلہ اور کیسی شکایت! افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم خود ہی دشمن کے لئے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور کفار کی مکروہ چالوں کا شکار ہوکر ایک دوسرے کا خون بہانے پر جگہ جگہ تُلے ہوئے رہتے ہیں۔ یہ کوششیں برابر ہماری سرزمین وطن جموں و کشمیر پر بھی ہورہی ہیں ۔ یہاں بھی مسلکی انتشار پھیلا کر یہاں پائے جانے والے اخوت اور وحدت بین المسلمین کے شیرازے کو بکھیرنے کی سر توڑ کاوشیں چل رہی ہیں تاکہ یہاں پر مسلط کردہ باطل نظام اور غاصبانہ تسلط کو برقرار رکھا جائے ۔ ایسی صورت حال میںضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ان طاغوتی سازشوں کو سمجھیں ، ان سے باخبر ہوں اور ان کا تدارک کریں اور ان کوششوں کو ناکام کریں۔ بہر حال احیائے اسلام ، غلبۂ دین اور وحدت ملت کے لئے شیعہ سُنی مفاہمت اور اتحاد وقت کی پکار اور اہم ضرورت ہے شرط ہے کہ اس رُخ پر مناسب انداز میں قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔
razandmc.1419@rediffmail.com
Ph.No: 9906610041

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By