GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا بیان
علیحدگی پسند اور مین اسٹریم لیڈران برہم

سرینگر//حریت کے دونوں دھڑوں کے سربراہان اور لبریشن فرنٹ چیئرمین نے بھارتی فوجی سربراہ کے بیان کو عام شہریوں کا قتلِ عام کرنے کی واضح دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں کشمیر میں 47ء سے ہی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بھارتی حکمرانوں کو صرف کشمیر کی زمین سے مطلب ہے یہاں کے لوگوں سے نہیں۔سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ فوجی سربراہ نے اپنے بیان میں جس نشۂ قوت اور غرور کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ہی سوچ والا وطیرہ جموں کشمیر میں جاری خون خرابے اور سیاسی غیریقینیت کا بنیادی سبب اور محرک ہے اور اسی کے خلاف پوری کشمیری قوم اور خاص طور سے ہماری نوجوان نسل اٹھ کھڑا ہوگئی ہے۔گیلانی نے کہا کہ عسکری معرکوں کے دوران جو صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اور جس طرح سے نہتے عام شہری سینہ تان کر بندوقوں کے دہانوں کے سامنے آجاتے ہیں، وہ بھارتی حکمرانوں اور فوج کے لیے غوروفکر کا باعث بن جانا چاہیے تھا اور انہیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ گنتی کے چند سرفروشوں تک بات محدود نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم بھارت کے قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور وہ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ’’کرو یا مرو‘‘ جیسے عزم کے ساتھ سامنے آگئی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ عسکری معرکوں میں قیمتی انسانی زندگیوں کا اتلاف کوئی اچھی بات نہیں ہے اور کوئی بھی ذی فہم شخص اس طرح کی صورتحال سے خوش نہیں ہوسکتا ہے، البتہ یہ صرف بھارت کا ہی غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہے جو اس طرح کی صورتحال کے لیے بنیادی اور اصل سبب ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے جنرل بپن راوت کے بیان کو کشمیر کے اصل حالات سے عدم واقفیت اور یہاں کی زمینی حقائق سے جان بوجھ کر انحراف پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں نے نہ تو شوقیہ طور بندوق اٹھارکھی ہے اور نہ یہاں کی نوجوان نسل کسی جنون میں آکر مظاہروں پر اتر آتی ہے بلکہ یہ اُس ظلم و جبر کا ردعمل ہے جو بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل اس قوم پر ڈھایا جارہا ہے اور خود کشمیری قوم کیلئے کشمیر کی سرزمین تنگ کی جارہی ہے ۔ میر واعظ نے کہا کہ کشمیری قوم پر قوم دشمنی کا لیبل چسپاں کرنے سے پہلے جنرل موصوف کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ کشمیری عوام کی لڑائی کسی قوم یا جماعت سے نہیں بلکہ یہ قوم ایک جائز حق کی لڑائی لڑ رہی ہے جس میں اب تک ہزاروں جانوں کی قربانی ، مال و جان کا زیاں ، سختیاں ، ٹارچر ، اذیتیں ، تعذیب خانوں کی سختیاں، انٹروگیشن، گرفتاریاں، قدغنیں ، حراستی ہلاکتیں اس قوم کا مقدر بنا دی گئیں۔ حتیٰ کہ تختہ دار پر بھی لٹکنا پڑا۔میرواعظ نے کہا کہ فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں پر لگام کسنے کے بجائے عام لوگوں کو مظاہروں کی پاداش میں سزا بھگتنے کی دھمکی پہلے سے خراب حالات کو مزید ابتر ی کی طرف دھکیلنے کا موجب بن سکتی ہے ۔محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ فوجی سربراہ کا بیان سیاسی ناپختگی پر مبنی ہے جسے مضحکہ خیزہی کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان نے بھارتی آرمی کی انسان کش ذہنیت کو بھی اجاگر کیا ہے نیز اس سے بھارتی حاکموں کی سیاسی ناپختگی کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی کہ یہ بیان پوری کشمیری قوم کو براہ راست دھمکی دینے کے مترادف ہے۔ملک نے کہا کہ ظلم ، جبر، تعدی، ترہیب ،ترہیب و تحریص اور دوسرے استعماری حربوں سے آج تک کسی بھی قوم کی تحریک آزادی کو دبانا ممکن نہیں ہوسکا ہے اور نا ہی مستقبل میں ایسا ہوسکتا ہے۔بھارتی فوجی سربراہ کے اس بیان کو کئی لوگوں کیلئے عسکری جدوجہد میں شامل ہوجانے کی کھلی دعوت قرار دیتے ہوئے ملک نے کہا اس بیان کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں اس کے نتیجے میں کشمیریوں پر مذید افتاد پڑسکتی ہے وہیں جوانوں کی بڑی تعداد پشت بہ دیوار ہوکر عسکریت کی جانب جاسکتی ہے اور یوں اس خطے میں تشدد کو مذید فروغ مل سکتا ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By