GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
دھمکاناالمناک فریب، مصالحت کی ضرورت: این سی


سرینگر//نیشنل کانفرنس نے فوج کے سربراہ کی طرف سے دئے گئے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیان سے وادی کی ابتر صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور نوجوانوں کا غصہ مزید بڑھنے کا احتمال ہے ۔پارٹی کے ترجمان جنید عظیم متو اور کار گزار صدرکے پولیٹکل سیکرٹری تنویر صادق نے پارٹی ہیڈ کوارٹر سے جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ نئی دلی ابھی بھی کشمیری نوجوانوںکے ساتھ دفاعی اداروں کے تو سط سے بات کررہی ہے جبکہ قت کا تقاضا تھا کہ ان کے ساتھ سیاسی سطح پر بات چیت کی جاتی۔ انہوں نے کہا ’مسلح جھڑپوں کے مقامات کی جانب نوجوانوں کا دوڑنا اور فورسز پر پتھرائو کرنا کشمیری نوجوانوں میں بدگمانی اور مایوسی میں اضافہ کی پریشان کن اور خطر ناک علامت ہے اوروقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر میں احساس تنہائی کی شدت کو سمجھا جائے اور اس سے دانشمندی اور وسیع القبی سے نمٹا جائے ۔نوجوانوں کو،جو پہلے سے ہی برافروختہ اور اپنی جانوں کے حوالے سے غیر معقول حد تک بے پراہ ہیں ،کوڈرانے اور دھمکانے سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ وہ مصالحت سے مزید دور ہوجائیں گے‘ ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جارحانہ اور اشتعال انگیز بیانات سے کشمیر میں مقامی سطح پر ملی ٹنسی کو مزید فروغ حاصل ہوگا اور نوجوانوں کو مصالحت کے عمل میں شامل کرنا ناممکن ہوجائے گا ۔انہوں نے کہا’کشمیر میں نوجوان ایسی تعداد میں مسلح عسکریت کاراستہ اختیار کررہے ہیں ،جو 1990ء سے آج تک نہیں دیکھنے میں آیا ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھاری برف کی وجہ سے لائین آف کنٹرول کے درے بند ہیں ،کشمیر میں ملی ٹنسی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اور نوجوان اور تعلیم یافتہ مقامی لڑکے بندوق ہاتھ میں لے رہے ہیں ۔بیان میں کہا گیا ’’ 2016کی تباہی اور خونریزی کے بعد بھی اگر نئی دلی یہ سمجھ ر ہی ہے کہ نوجوان کو دھمکانے سے کام نکلے گا تو یہ ایک المناک فریب ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ کشمیر کی نوجوان آبادی میں موجود ملی ٹنسی کے تئیںسماجی تقدس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اوریہ جذبہ کشمیری عوام کے ساتھ نئی دلی کے تعمیری رویے کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ‘۔بیان میں مزید کہا گیا ہے ’’سماجی تقدس کو ’عدم رحم‘کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا اور اگر کوئی شخص سوچتا ہے کہ اس سے مدد مل سکتی ہے تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ شخص اور وہ ادارہ کشمیر کے سیاسی بحران کی حالیہ تاریخ کا تجزیہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں‘‘۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ظلم اور بدلے سے صرف برہمی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔اُدھر ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے فوجی سربراہ کے بیان کواس بات کا اعتراف قرار دیا ہے کہ ہندوستان کشمیر میں لوگوں کے دلوں کو جیتنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے ۔ جمعرات کو کپوارہ میں نامہ نگارو ں سے بات کرتے ہوئے کہا اگر چہ سیکورٹی فورسز پہلے ہی کشمیریوں کے تئیں انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن جنرل راوت کا بیان اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ جنگجوئوں کو زمینی سطح پر زبردست عوامی حمایت حاصل ہے اورانہیں صرف دہشتگرد کہہ کر اصل معاملات سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی ۔ جہاں جنرل راوت کا بیان کشمیریوں کو کھلی دھمکی کے مترادف ہے وہاں نئی دلی کیلئے بھی اُن کے بیان میں کافی کچھ سمجھنے کیلئے موجود ہے اور اگر اُن کے بیان کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ بات انہوں نے صاف کر دی ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ عسکریت پسندوں کو مارنے کا نہیں بلکہ اس کا حل ہر حال میں سیاسی سطح پر ہی ممکن ہے ۔انجینئر رشید نے نئی دلی کو مشورہ دیا کہ جنرل راوت کے بیان کے پیچھے چھپے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By