GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
کشمیری پنڈ توں کی نقل مکانی
۔90ہزار کنال اراضی اور17,138تعمیراتی ڈھانچے چھوڑ دئیے

بلال فرقانی // سرینگر// وادی سے کشمیری پنڈتوں کی جموں اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہجرت کرنے کے بعد گزشتہ27برسوں کے دوران ان کی 132کنال اراضی پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ سرینگر میں ایک استھاپن کی25کنال اراضی بھی غیر قانونی طور پر کچھ کشمیری پنڈتوں نے پٹے پر دیکرفروخت کی ۔نقل مکانی کرنے والے پنڈتوں نے وادی کے مختلف اضلاع میں تقریباً89ہزار927 کنال اور ساڈھے9مرلہ اراضی اور17138تعمیراتی ڈھانچے پیچھے چھوڑ دیئے۔ محکمہ امداد باہمی و باز آبادکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع بڈگام میں87کنال6مرلہ زراعی اراضی اور44 کنال 13مرلہ باغاتی اراضی پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے اور131کنال19مرلہ اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق ضلع بانڈی پورہ میں اگر چہ کوئی غیر قانونی قبضہ نہیں کیا گیا ہے تاہم ضلع کے سریہ ڈانگر پورہ میں انیل وانگنو اور دیگر لوگوں نے اپنے پیچھے زمین چھوڈ دی تھی جس پر کاشت کاروں نے دوبارہ قبضہ کیا اور یہ معاملہ اس وقت ریاستی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ محکمہ مال وباز آبادکاری کے ذرائع کے مطابق ضلع بارہمولہ، گاندربل،اننت ناگ،کولگام،کپوارہ، شوپیاں اور پلوامہ میں مہاجر پنڈتوں کی جائیدادپر کوئی بھی قبضہ نہیں کیا گیاہے۔ سرینگر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ گرمائی دارالحکومت میں پنڈت جائیداد پر کوئی بھی ناجائز قبضہ نہیں کیا گیا ہے۔تاہم ویژار ناگ نوشہرہ میں کچھ کشمیری پنڈتوں نے استھاپن کی25کنال اراضی غیر قانونی طور پر پٹے پر فروخت کی جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔دستیاب اعدادو شمار کے مطابق1997سے لیکر اب تک مجموعی طور پر11ہزار113کنال زمین کو فروخت کیا گیا اور ان سے متعلق دستاویزات کی توثیق بھی عمل میں لائی گئی۔ سرکاری دستاویزات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وادی کے جنوبی ضلع اننت ناگ میں نقل مکانی کرنے والے پنڈت مجموعی طور پر17ہزار کنال اراضی اپنے پیچھے چھوڑ کر چلے گئے جبکہ ضلع کولگام میں غیر منقولہ جائیداد میں مہاجر پنڈتوں نے7ہزار 900کنال اراضی چھوڑ دی۔ پلوامہ میں8 ہزار 23کنال زمین اور ایک ہزار 215ڈھانچوں کو بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ کول کمیشن کی رپورٹ کے مطابق شوپیاں میں مہاجر پنڈتوں نے5 ہزار 407 کنال زمین چھوڈ دی تاہم تعمیراتی ڈھانچوں کے بارے میں کوئی بھی تفصیل نہیں دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بالترتیب ان اضلاع میں2 ہزار624کنال339،کنال،604کنال اور2ہزار 28کنال اراضی کی فروخت سے متعلق دستاویزات کو1997سے توثیق کی گئی ہے۔دستیاب اعدادو شمار کے مطابق وسطی ضلع بڈگام میں نقل مکانی کرنے والے پنڈتوں کی مجموعی طور پر غیر منقولہ جائیداد9 ہزار 242کنال اراضی اور495رہائشی ڈھانچے ہیں جبکہ 2 ہزار 285کنال زمین کو فروخت کیا گیا ہے۔ضلع سرینگر کے بارے میںبتایا گیا ہے کہ گرمائی دارالخکومت میں6ہزار 695کنال زمین میں سے1997سے لیکر اب تک814 کنال فروخت سے متعلق دستاویزات کی توثیق کی گئی ہے جبکہ ضلع گاندربل میں مجموعی طور پر پنڈتوں کی غیر منقولہ جائیداد13ہزار 333کنال اور168تعمیراتی ڈھانچے ہیں جن میں سے بھی696کنال زمین پر1997سے لیکر اب تک تقریباً99سیلز ڈیڈ یا فروخت ناموں کی توثیق عمل میں لائی گئی ہے۔ شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے بارے میں دستیاب دستاویزات میں اس بات کی تفصیل فراہم کی گئی ہے کہ مجموعی طور پر نقل مکانی کرنے والے مہاجر پنڈتوں کی غیر منقولہ جائیداد میں10 ہزار343کنال اراضی ہے جن میں سے392کنال پرفروخت معاہدوں سے متعلق دستاویزات کی توثیق کی گئی جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں ایک ہزار206کنال زمین موجود ہے اور ضلع بارہمولہ میں10ہزار191کنال میں سے2 ہزار69کنال اراضی کو فروخت کیا گیا جس کی توثیق بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ کول کمیشن رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈتوں نے17ہزار138 ڈھانچے پیچھے چھوڑ دئیے۔ اعداد وشمار کے مطابق ضلع بارہمولہ میں ایک ہزار435، سرحدی ضلع کپوارہ میں ایک ہزار582 ،جنوبی ضلع اننت ناگ میں5ہزار 95،پلوامہ میں ایک ہزار582، ضلع سرینگر میں4ہزار396اور بڈگام میں2ہزار626 مکانات،دکانات،گائو خانے،کوٹھار اور دیگر شیڈ شامل ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے کشمیر پنڈت اپنے پیچھے51ہزار462اخروٹ کے درخت بھی چھوڑ کر چلے گئے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By