GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
العالم ا لفقہ
محمد بن ادریس الشافعیؒ

 محمد بن ادریس امام الشافعیؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپؒ کا سلسلہ نسب بنو ہاشم سے ملتا ہے اور آپؒ کے جد اعلیٰ شافعی کے نام سے مشہورتھے جنہوں نے رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ پایا ۔ امام محمد الشافعی ؒکی ولادت ۱۵۰ھ میں غزہ میںہوئی۔ آپ ؒنے سات برس کی عمر میں قرآن مقدس حفظ کیا اور دس برس کی عمر مبارک میں امام مالک ؒ کی موطا یاد کی۔آپؒپندرہ سال کے ہوئے تو آپ ؒ کو اپنی والدہ ماجدہ نے تحصیل علم کے لئے مدینہ منورہ بھیجا جہاں آپؒ نے امام مالکؒکے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ امام مالکؒ اُس وقت مدینہ کے سب سے بڑے عالم مانے جاتے تھے۔امام الشافعیؒ  توبچپن سے ہی ذہین وفطین اور بے شمار اوصاف کے مالک تھے، بچپن سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا اور  قلب وذہن میں اشعار کا سیل رواں امڈ آتا تھا ۔ روایت ہے کہ ایک دن آپؒ کعبہ شریف کے سائے میں تنہا بیٹھے تھے کہ ایک غیبی ندا سنائی دی ،اما م صاحب فرماتے کہ میں نے غور سے سناکہ جیسے کوئی کہہ رہا ہے:اے محمد!اُس چیز کو اختیار کرو جو سچی ومستحکم ہے ،شعر و شاعری چھوڑ دو ۔آ پؒ کوخواب میںرسول اللہؐ کی زیارت ہوئی تو آپ صلعم نے اپنا لعاب ِمبارک امام الشافعیؒ کے دہن میں ڈالتے ہوئے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ برکت دے اور سعادت سے نوازے ‘‘ چنانچہ ایسا  ہی ہوا، آگے چل کر امام الشافعی ؒ امام الفقّہ ثابت ہوئے کہ ا نہوں نے تدوین ِفقہ میں عظیم کارنامے انجام دئے۔ آپؒ کے بارے میں اما م احمد بن حنبل  ؒ فرماتے ہیںکہ میں نے ناسخ ومنسوخ، مفصل و مجمل کا علم امام الشافعی ؒ سے سیکھا جب اُن کی صحبتِ نافعہ اختیار کی ۔ 
َََََََََََََََََََََََََِِِِِِِیوںتوامام الشافعیؒ کی جملہ حیات مبارکہ ایسے سبق آموز واقعات، پند ونصائح اور ایمان وعلم سے روشناس کرانے والے اسباق سے لبریز ہیں اور آپؒ کی حیاتِ مستعارکا مطالعہ انسان کے دل ودماغ کو متاثر کرتی ہے کہ یقینا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی سعادت اور عظمت عطا کی کہ اس سے آپ گوہر یکتاثابت ہوئے ۔ تاہم یہاں پر میں یہ قابل ذکربیان واقعہ نقل کرنا چاہوں گی۔امام احمد بن حنبلؒ ہر نماز کے بعد دُعا مانگاکرتے تو امام الشافعیؒ کے لئے الگ سے دُعا مانگتے تھے ’’اے اللہ! امام الشافعیؒکی عمر میں برکت عطا فرما‘‘ابن حنبل ؒ کی نو عمر بیٹی ایک عرصے سے اپنے والد کا یہ عمل دیکھتی رہی تھیں اور اُن کے لئے یہ بات حیرت اور تشنگی کا باعث بنی کہ آخر کہ ان کے والد گرامی امام احمد بن حنبلؒ جن کی زندگی غیر معمولی طور پر عبادت اور یاد ِالہٰی میں گذرتی ہے اور جن کے دن علم حدیث کی تدریس و ترویج اور راتیں رب کے حضور گریہ وزاری میں بیت جاتی ہیں تو بھلا امام الشافعی ؒ کس درجے کے عظیم انسان ہوں گے جن کے لئے اتنی دعا ئیں کی جاری ہوںاور روزمیرے والد محترم اللہ کے حضورامام الشافعیؒ کے لئے دست بدعاہوجاتے ہیں ۔ بنت ِاحمد بن حنبلؒ امام الشافعیؒ کی زیارت کے لئے تشنہ تھیں کہ کب اُن کی زیارت نصیب ہو۔ امام احمد بن حنبلؒ ان دنوں ابھی بغداد میں ہی قیام پذیر تھے جب کہ امام الشافعیؒمصر میں اقامت پذیر تھے ۔ انہی دنوں ابن حنبل ؒکو امام محمد ؒکی طرف سے ایک پیغام آیا کہ میں بغداد آنا چاہتا ہوں، اس لئے کہ بغداد میں ایک محدث کے علم میں ایک حدیث ہے اور اُن سے براہِ راست حدیث کی سماعت کرنا چاہتا ہوں۔ چونکہ یہ بزرگ چراغ سحری ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ دنیا سے کو چ نہ کر جائیں ،ساتھ ہی امام الشافعی ؒ نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ اس سفر کے دوران اُن کا قیام ابن حنبلؒ کے دولت خانہ پر ہی ہو گا۔ دن گزرتے گئے اور بنت ِاحمد بن حنبل ؒ کا اشتیاق دیداربھی بڑھتا گیا ۔وہ یہ دیکھنا چاہتی تھیںکہ آخر امام الشافعیؒ میں کو نسی ایسی خصوصیات ہیں کہ ان کے والد روزاُن کے لئے عمر درازی کی دُعا ئیں مانگتے ہیں۔ ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد بالآخر امام الشافعیؒ کا بغداد میں ورود ہوا ۔ وہ امام احمد بن حنبل ؒ کے گھر میں ہی قیام پذیر ہوئے ۔ احمد بن حنبل ؒ نے اپنی بیٹی کو خصوصی ہدایات دیں کہ وہ معزز مہمان کی مہمان نوازی میں کوئی خامی نہ رکھیں ۔ فرمان برادر بیٹی تو اس بات کی متمنی تھیں کہ امام الشافعیؒ  کا قریب سے مشاہدہ کریں اور اُن کی ہر اداء کو غور سے دیکھیں ۔ مغرب کے بعد جب دسترخوان لگا اور امام الشافعیؒ کھانا تناول کر نے لگے توبنت ِاحمد بن حنبل ؒ نے ان پر اپنی مشاہداتی نظریں لگائیں ۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں کہ امام الشافعیؒ نے خوب کھانا کھایا جب کہ اُن کے علم میں تھا کہ اللہ والے کم کھانا کھاتے ہیں اور اُن کے والد بھی کم خورتھے ۔ نماز عشاء امام الشافعیؒ نے مسجد میں ہی ا حمد بن حنبل ؒکے ساتھ ادا کی تو واپسی پرآرام کی غر ض بستر پر دراز ہوگئے ۔ بنت ِاحمدؒ وقفے وقفے سے اپنے والد کے کمرے کا جائزہ لیتیں کہ اُن کے والد تو مصلیٰ پر رب کے حضور مناجات اور گریہ وزاری میں مصروف ہیں جب کہ امام الشافعی ؒ بستر پر دراز محواستراحت ہیں ۔ اب بنت ِاحمدؒ نے سوچاکہ سفر کی تھکاوٹ ہوگی تو تہجد میں اُٹھیں گے لیکن فجر کی اذان ہوئی وہ بیدارہی نہیں ہوئے، جب ان کے والد صاحب نماز فجر کے لئے مسجد جانے لگے تو انہوں نے آوازدی شیخ جماعت تیار ہیں ، مسجد تشریف لے چلیں۔امام محمد بن ادریس الشافعی ؒنے اپنی چادر فوراََ پھینک دی اور مسجد کی طرف چل دئے۔ بنت ِاحمدؒ حیرانی سے یہ سارا ماجرا دیکھ رہی تھیں اور ہزاروں سوالات اُن کے دل ودماغ میں رقصاںتھے۔ من ہی من میں کہتی جارہی تھیں کہ ہمارے معزز مہمان نے تو خوب کھانا کھایا ، رات بھر آرام کیا،کیا معلوم میرے والدکیوں ان کے گرویدہ ہیں ۔
  صبح کا ناشتہ لا یا گیا تو امام احمدبن حنبل ؒ نے اپنے مہمان سے پوچھا شیخ رات کیسی گذری ؟ٹھیک طرح سے نیند آئی َ؟ الشافعی ؒ نے جواباً کہااللہ کے فضل و کرم سے آ رام سے گذری  لیکن امام احمد بن حنبلؒ کی سوالیہ نظریں امام الشافعیؒ کے چہرے پراَ ٹک گئیں اور تاڑ گئے کہ مہمان ایک لمحہ بھی نہیں سویا ہے ۔ انہوں نے پو چھا بے آرامی کی کیا وجہ ہوئی تو امام الشافعیؒ نے فرمایا: حضرت ! رات عشاء کی نماز میںآپ نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت کی ’’ــاگر مقروض آدمی تنگ حال ہو تو اُس کی خوشحالی تک مہلت دے دو‘‘ اس آیت ِمبارک کو سن کر میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس آیت سے اسلام کا قانون ِافلاس اَخذ ہو تا ہے اور یہ قانون بھی اخلاقیات کی بنیاد پر ہے ۔امام الشافعیؒ نے اس آیت سے جڑے سینکڑوں مسائل بتانے شروع کر دئے اور امام احمد سنتے گئے اور کہاجب میں ایک سو آٹھویں مسئلہ پر پہنچاتھا تو آپ نے مجھے نمازفجر کے لئے آواز دی۔بنت ِاحمدؒ یہ جواب سن کرجامدو ساکت کھڑی رہ گئیں اور جان گئیں کہ عالم دین کے لئے دینی مسائل اخذ کرنا بھی عبادت ہے لیکن ابھی اور سوالات جواب طلب تھے۔ امام حنبل ؒ نے پوچھا:اچھا شیخ یہ بتائیں آپ کا سفر کیسا رہا؟ سفر میںکوئی پریشانی تو نہ رہی ؟امام الشافعیؒ نے اُنگلیاں چاٹتے ہوئے جواب دیا کہ روانگی کے وقت میرے پاس جودرہم کی رقم تھی، وہ راستے میںہی گم ہوگئی اور اب میرے سامنے دو صورتیں تھیں: ایک قاہرہ واپس جاکے دوبارہ زادِ سفر تیار کرلو ں مگراس صورت میں قافلہ چھوٹ جانے کا اندیشہ تھا اور جس محدث کی خدمت میں پہنچنا مقصود تھا وہ چراغِ سحری گل ہوتا تو سب کد وکاوش بے سود تھی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ اللہ کا نام لے کرسفر پرروانہ ہوجائوں ، میں نے دوسری صورت کو ترجیح دی ۔امام الشافعی ؒ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا کہ میرے قافلے والوں نے میرے ساتھ اچھے معاملات کئے اور میری عزت وخدمت کی لیکن مجھے ان کی آمدنی کے جائزہونے پر شرح ِصدر حاصل نہ تھا۔ اس صورت میں شریعت کا حکم ہے کہ جب انسان کی جان پر بن جائے تو مشکوک آمدنی میں سے بحالت اضطرار بقدر ضرورت کھایاجاسکتا ہے، اس لئے پورے سفر میں شکم سیر ہوکر نہیں کھایا۔آج پہلی بار آپ کے دسترخوان پر مجھے حلال اور جائز آمدنی کا کھانا ملا ہے اور میں نے محسوس کیا کہ رزق حلال میں ایک خاص نور ہوتا ہے جس کا اندازہ دسترخوان پر بیٹھ کر ہو جاتا ہے۔ اس لئے میں نے خوب کھانا کھایا۔ یہ ساری بات چیت بنت ِاحمد ؒ غور سے سماعت کر رہی تھیں اور اُن کی نظر میں اب امام الشافعی ؒ کی قدرومنزلت اور زیادہ بڑھ گئی۔ آپؒ چند دن  بغداد میں قیام کے بعد پھرسے مصر روانہ ہوگئے۔  
 نوٹ :مضمون نگار جامعہ اسلامیہ مہدالمسلمات کی سربراہ ہیں ۔
 رابطہ : mubram@yahoo.co.in)  




 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By