GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
۔27برس قبل پیش آئے سانحہ حول کی عبوری رپورٹ پیش
پولیس اور کرائم برانچ کی تحقیقات پر سوالیہ،سی آر پی ایف کی کورٹ آف انکوائری پر تحفظات

سرینگر// شہر میں 27برس قبل پیش آئے سانحہ حول سے متعلق تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانچ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ابھی تک چشم دید گواہوں کے بیانات ہی قلمبند نہیں کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں سی آر پی ایف کی کورٹ آف انکوائری کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر چہ3 افسران سمیت15اہلکاروں کو قصور وار ٹھہرایا گیا تاہم ابھی تک معلوم ہی نہیں ہوا کہ انکے خلاف کون سی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔کمیشن کے ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ آف پولیس مسعود احمد بیگ نے ایک روز قبل12صفحات پر مشتمل عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ماضی میں پولیس اور کرائم برانچ کی طرف سے اس سانحہ کے حوالے سے جو تحقیقات کی گئی اس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیااور اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ ابھی تک کسی بھی چشم دید کے بیانات کو قلمبند نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر شہریوںکے بیانات کو اشارہ سمجھا جائے تو سی آر پی ایف نے فائرنگ کے بعد جائے وقوع پر لاشوں کی بے حرمتی کی اور لوٹ مار کی،جو تحقیقاتی عمل کو مکمل کرنے اور سی آر پی ایف کے خلاف عدالت میں چالان پیش کرنے کیلئے کافی تھا۔ریاستی حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) بلال نازکی کو پیش کی گئی عبور ی رپورٹ کی ایک کاپی کشمیر عظمیٰ کے پاس بھی دستیاب ہے ، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ سی آر پی ایف نے21مئی1990کو حول اور گوجوارہ کے نزدیک میر واعظ مولوی فاروق کے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر کی گئی اندھا دھند فائرنگ کی تحقیقات عمل میں لانے کیلئے 3 اعلیٰ افسروں پر مشتمل ایک کورٹ آف انکوائری تشکیل دیا۔ کورٹ آف انکوائری کیلئے تین رکنی بورڈ آف آفیسرز میں آئی جی پی این ای ایس -سی آر پی ایف ایم پی سنگھ کے علاوہ ڈی آئی جی (پی) سی آر پی ایف این کے تیواری اور کمانڈنٹ 60ویں بٹالین سی آر پی ایف آر کے شرما کو شامل رکھا گیا ۔ایم پی سنگھ کی سربراہی والی کورٹ آف انکوائری ٹیم نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد 21مئی1990کوسرینگر کے حول علاقہ کے نزدیک پیش آئے واقعہ میںسی آر پی ایف کی 69ویں بٹالین سے وابستہ 15اہلکاروں کو ملوث پایا ، جن میں ڈی ایس پی لاکھن سنگھ ، سب انسپکٹر مختار سنگھ ، سب انسپکٹر راجندر سنگھ ، لانس نائک ستپال سنگھ ، کانسٹیبل ٹی اے پرم ،غالب سنگھ ، کانسٹیبل ڈی کرشنا ، کانسٹیبل دیش راج ، کانسٹیبل اوم سنگھ ، کانسٹیبل پریم سنگھ، کانسٹیبل وائی کرشنا رائو , کانسٹیبل وائے شکلا، کانسٹیبل بیلٹ نمبر 880900551، لانس نائک ڈی این سنگھ بیلٹ نمبر15اور لانس نائک اے کے متا ملوث شامل ہیں۔ ڈی ایس پی ایس ایچ آر سی نے سربراہ کمیشن کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شہری قتل عام میں ملوث 15سی آر پی ایف افسروں اور اہلکاروں کیخلاف بعد ازاں کوئی ایکشن لیا گیا یا کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی کہ نہیں ۔رپورٹ میں اس قتل عام کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے 50سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکت کی مناسبت سے پولیس تھانہ نوہٹہ نے ایف آئی آر زیر نمبر 35/1990کے تحت کیس درج کیا تھا اور اس حوالے سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد رفیق نے تھانہ پولیس نوہٹہ کو رپورٹ پیش کی تھی ۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 21مئی1990کو جب میر واعظ مولوی فاروق کے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں انتقال کی خبر پھیلی تو بڑی تعداد میں لوگ انکے جلوس جنازہ میں شامل ہونے کیلئے راجوری کدل اور دیگر علاقوں سے نکلے اور اس دوران اسلامیہ کالج کے نزدیک تعینات سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور اسکے نتیجے میں متعدد افراد از جان اور زخمی ہوئے۔ پولیس تھانہ نوہٹہ میں درج رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس روز تین مقامات سے اے کے47رائفل کے خالی کارتوس برآمد کئے گئے جو یہ واضح کرتے ہیں کہ یہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے ایڈیشنل ایس پی ہیڈ کواٹرس این سروادھانے اس معاملے میں اگرچہ سب سے پہلے تحقیقات کی تاہم وہ غیر جانبدارانہ تھی کیونکہ کسی بھی چشم دید گواہ کا بیان قلمبند نہیں کیا گیا اور سی آر پی ایف کے بیانات ہی قلمبند ہوئے۔ رپورٹ میں1990میں اس کیس کی تحقیقات کرنے والے اولین تحقیقاتی افسر ایڈیشنل ایس پی ہیڈ کواٹرس این سروادھا کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ مذکورہ افسر نے دانستہ طور پر غفلت شعاری کا مظاہرہ کیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ انٹر نیشنل فورم فار جسٹس محمد احسن اونتو نے ایک پٹیشن دائر کی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے سانحہ حول سے متعلق ریاستی حقوق کمیشن نے28فروری2014کو اس وقت کے قائمقام چیئرمین فدا حسین نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By