GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
کُتے کُتے۔۔۔۔ ہر سُو کتے


ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے ، لیکن روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔ اس مصیبت پر قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہوسکتا ۔آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں اور کئی ایک تو موت کی کگار پر پہنچ جاتے ہیں۔آوارہ کتّے عادتاً چھوٹے بچوں پر چڑھ دورتے ہیں اور بچے بھی گھبراہٹ کے عالم میں جدھر کو راستہ ملے خود کو بچانے کے لئے اْدھر کی طرف بھاگنے میں عافیت سمجھتے ہیں اور یہ صورتحال بعض اوقات انتہائی رنجدہ سانحات کو جنم دیتی ہے۔آئے روز میڈیا کے توسط سے شہر سرینگر میں آوارہ کتوں کے ذریعہ خونچکانی کے واقعات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ گزرے ہفتوں میں جب وادی میں سڑکیں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں کتوں نے متعدد علاقوں میں کئی درجن شہریوں کو لہولہان کردیا۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ انتظامیہ نے ان سانحات کو ایک معمول سمجھ کر چپ سادھ رکھی ہے۔ آج ہمارے شہروں اور قصبہ جات میں  آوارہ کتّوں کی تعداد کے بارے میں ثقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں لیکن ظاہری طور پر جو تناسب دکھائی دے رہا ہے وہ کسی بھی مہذب سماج میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔پارلیمنٹ کی جانب سے کتوں کے مارنے پر پابندی عائید کئے جانے کے بعد لوکل باڈیز اداروں نے کتّوں کا صفایا کرنے کا کام بند کردیا ہے۔لیکن اس قانون کے تحت آورہ کتوں کی تعداد کو قابو کرنے کے لئے نس بندی جیسے دیگر ذرائع استعمال کرنے کی ہدایات موجود ہیں ،مگرریاست کے اندر انتظامیہ نے جہاں ایک جانب بستیوں کے اندر غول در غورل گھوم رہی اس موذی مخلوق کا صفایا کرنے کا کام بند کردیا ،وہیں دوسری جانب بار بار کی یقین دہانیوں اور اعلانات کے باوجود نس بندی کا کوئی منظم پروگرام عمل میں نہیں لایا ،یہ الگ بات ہے کہ جب کہیں پہ کتوں کے کاٹے کی شکایات بار بار سامنے آتی ہیں تو برائے نام اقدامات کرکے لوگوں کی برہمی کم کرنے کی کوشش پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔بہ ایں ہمہ صورتحال دن بہ دن بے قابو ہورہی ہے۔اس پر طرہ یہ کہ شہروں اور قصبوں میں ہزاروں ٹن کوڑا کرکٹ لتھڑاپڑا رہتا ہے، جو انکے فروغ کا ایک اہم سبب ہے۔ فی الوقت یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاست میں آوارہ کتّے ایک عوامی مصیبت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ہر روز کہیں نہ کہیں سے شہریوں پر کتوں کی جارحیت کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس پر نہ تو لوکل باڈیز انتظامیہ کا ردعمل سامنے آتا ہے اور نہ ہی حقوق حیوان کی تنظیموں کا ۔بلکہ اس کے برعکس حیوانوں کے حقوق کی تنظیموں نے مختلف اوقات پر ریاستی انتظامیہ پر دبائو قائم کرکے اپنی بات منوانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اگرچہ میونسپل قوانین کے مطابق انتظامیہ کو ایسے کتّوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ، جو سماج کے لئے مصیبت کا درجہ اختیار کریں ، لیکن عملاً ایسا نہیں کیا جارہاہے۔ خاص کر باؤلے کتوں کے حملوں کے سدباب کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔اگرچہ ماضی میں ایک مرتبہ صوبائی انتظامیہ نے باولے کتّوں گولی مارنے کا حکم جاری کیا گیاتھا ،لیکن حقوق تنظیموں کے دبائو میں آکر یہ حکم فوراً واپس لیا گیاتھا، حالانکہ باولے کتّوں کا دفاع کرنا قطعی طور پر ناقابل فہم ہے۔ تمام تر تحفظات کے باوجود موجودہ صورتحال عوام کے لئے قطعی قابل قبول نہیں ہوسکتی، لہٰذا انتظامیہ کو کوئی متبادل راستہ اختیارکرکے فوری طور پر موجودہ صورتحال کا ازالہ کرنا چاہئے۔فارسی کی کہاوت ہے کہ ’’ آواز ِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدارا‘‘یعنی کتوں کے بھونکنے سے کاروبار زندگی بند نہیں ہوتا، لیکن یہاں پر محاورہ اُلٹے معنوں میں صادق آتا ہے کہ لوگوں کے شور و غوغا کے باوجود کتے اپنا کام کررہے ہیں اورحکام کو اس کی کوئی فکر نہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By