GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  جمہ ایڈیشن
مدارس دعوت و تبلیغ کے مراکز
روشنی کے ان مناروں سے ہماری شان ہے

آج دین مکمل ہو گیا ، میں نے اپنی رسالت تمام کردی ، ایک دوسرے کے تم پر حقوق میں کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ، تم میں سے زیادہ فضیلت والا تم میں سب سے زیادہ متقی و پرہیز گار ہے ، آج میری یہ بات جو سن رہا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ دوسروں تک بھی یہ پہنچائے ۔ یہ وہ جملے ہیں جسے پیغمبر اعظم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر دوران خطاب ادا کئے تھے ۔ لاکھوں صحابی کی پاک و طاہر جماعت اس عظیم اور انقلابی خطاب کو شن رہی تھی ۔تاریخ اسلام میں یہ وہ دن تھا جسے ایک عظیم اور انقلابی دن سے بھی یا د کیا جاتا ہے ۔جہاں سے اسلام نے حجاز کی پہاڑو ں اور ریگزاروں سے نکل پوری دنیا میں اپنی ہمہ جہت اہلیت ، قابلیت اور صلاحیت کے ساتھ اپنے آپ کا تعارف کرایا۔ اپنی انفرادی حیثیت کو سب پر اجا گر کیا ۔ اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ دین ہے جو تمام انسان کے ماقبل اور ما بعد کی زندگی کے تمام تر پہلوؤں پر دسترس رکھتا ہے ۔دین نے سب سے پہلے بتایا کہ یہ پوری انسانیت کے لئے ہے ۔ یہ وہی دین ہے جس کی تبلیغ تمام تر انبیاء و رسل نے کی ۔ اسی دین کے پیغمبر عظیم کے آنے کی خبریں سبھی نے سنائی ۔ تما م مرسلین نے اپنے آنے والی قوم اور ان کی نسلوں کو ہدایت اور وصیت کی مرجع خلائق کی آمد آمد ہے ۔ جس کے آنے سے پہلے ہم انبیا ء کی جماعت تمہید ، خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے بھیجے گئے اب وہ آخری اور پہلا رسول آنے والا ہے ۔پیغمبر اعظم صلی ا للہ علیہ وسلم کی اس شان کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کا آخیر خطبہ اور اہم ہو جاتا ہے۔ اسی کے بارے میں قرآن عظیم نے بھی فرمایا ’’ اور آج میں نے تم پر تمہارا دین مکمل کر دیا ، اپنی نعمت کو تم پر تما م کر دیا اورتمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہو گیا ‘‘۔
حجۃ الوداع کے موقعہ پر پیغمبر اسلام ﷺ کا خطاب کئی اہمیتوں کا حامل ہے ۔ آج پوری دنیا مساوات کی بات کر رہے ہیں ۔پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، ان ممالک کے اہل علم و دانش نمائندے ،سائنسداں ، حقوق انسانی کے ذمہ دار ، اس بات پر ذور دے رہی ہے کہ بے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہونی چاہئے ۔یہ اور بات ہے کہ ان کے ا عمال ان کی باتوں کی تردید کرتے ہیں۔یہ ایک طرف مساوات کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ایک دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کیلئے خونی ماحول پیدا کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ یہ کیسی مساوات ہے ، اور مساوات کی یہ کیسی تحریک ہے جس کے لئے جنگیں ہو رہی ہیں۔ روزانہ جھگڑے ، فساد اور خونریزی ہو رہی ہے۔ جبکہ پیغمبر اعظم ﷺ نے اس مساوات کا فارمولہ تو اسی حجۃ الوداع کے موقعہ پر دے دیا۔صرف زبانی کہا نہیں بلکہ خود اس پر عمل کیا قیامت تک کے مسلمانوں پر لازم قرار دے دیا۔ فرما دیا کہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں یعنی کسی عربی کو کسی غیر عرب پر صرف عربی ہو نے پر کوئی برتری نہیں ہے ۔ آقا وغلام ، خادم ومخدوم کا معاملہ ختم ہو گیا اور آپس میں مساوات قائم کرنے کا حکم نامہ جاری ہو گیا ۔ فضیلت کا پیمانہ، برتری کا میزان ، دولت وشہرت ، مقام و مرتبت، حسب و نسب نہیں بلکہ خشیت واطاعت ہے ۔جو جتنا تقویٰ شعار اور عبادت گذار ہو گا اللہ کے نزدیک اس کی اتنی ہی قربت واہمیت ہوگی ۔
 قرآن نے فرمایا ’’ اللہ کے تم سے شرافت وفضیلت والا تم میں کا متقی وپرہیز گار ہے‘‘۔تقویٰ کی نشانی یہی ہے کہ جو جتنا متقی ہوگا خلق خدا کے ساتھ اس کا رشتہ اتنا ہی خوش گوار ہوگا ، نرم گفتاری اس کا شیوہ ، محبت اس کا پیغام ، امن وسکون اس کا مقصد ، اخوت ومساوات اس کا رویہ ، ہمدردی ورحم دلی ،اس کی عادت، انسانی اقدار کی پاسداری اس کی فطرت ۔ انسانیت کی خدمت اس کا مشن ہو گا ۔ کبر وغرور ، بغض وحسد ،نفرت وتشدد سے خالی ہوگا ۔ عبادتوں میں ریاکاری نہیں ہوگی ، سجدوں میں تکلف نہیں ہوگا ، رب کی بارگاہ میں گریہ وزاری میں شرمندگی نہیں ہوگی ، اطاعت میں تعین کی خواہش نہیں ہوگی ۔ فرمان خداوندی کے سامنے سر تسلیم کو خم کرنے سے گریز نہیں ہوگا ۔ خلق خدا کے لئے نفع بخش ہونا تقویٰ ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے قریبی وہ ہے جو اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہے۔خدمت خلق سب سے بڑا تقوی ہے ۔
 حجۃ والوداع کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا کہ ہماری باتوں کو عام کیا جا ئے۔ ہماری تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جا ئے ۔ لاکھوں کی تعداد میں صحابہ کی جماعت سامعین کی حیثیت سے موجود تھی ۔ سبھی اصحاب نے ذمہ داری کو محسوس کیا اورپیغمبر اسلام صلعم کی تعلیمات پر خود عمل پیرا ہوئے اور اس کو عام کرنے میں مصروف ہو گئے ۔تعلیمات کو اپنایا ،خود عمل کیا ، اہل وعیال کو اس سے آگاہ کیا ، اور دوسروں تک پہنچنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ چنانچہ قرآن نے بھی اسی مضمون کی بابت اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ اپنے آپ کو ،اہل وعیال کو جہنم سے بچائو‘‘!۔یہیں سے تعلیمات کی نشر و اشاعت کا ایک سلسلہ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھا ہر دور میں اس کے طریقے بدلتے گئے ۔ اسباب و ذرائع کی ترقی کے اعتبار سے انداز و اطوار میں تبدیلی اختیا ر کرتے گئے ۔موجودہ دور میں مدارس کا قیام اسی کی ترقی یافتہ صورت ہے ۔اسی تعلیم کی نشر و اشاعت کی کارکردگی آگے چل موجودہ دور میں باقاعدہ دعوۃ و تبلیغ کے نام سے منسوب ہوگئی ۔
یوں تو دعوت وتبلیغ کا سلسلہ پہلے سے بھی شروع تھا پیغمبر اسلام ؐ کی بارگاہِ رسالت میں حاضری کے بعد لوگ ان تعلیمات پر عمل کرتے تھے ۔ اپنے اپنے علاقہ میں واپس پہنچنے پر لوگوں کو نبوی تعلیم سے آگاہ کرتے تھے ۔دعوۃ و تبلیغ کا دائرہ مسلمانوں کی تعداد اور ضرورتوں کے مطابق وسیع ہوتا گیا ۔ضروریات دین ، تعلیمات نبوی ،قرآنی نظام ، اسلامی قانون، شرعی مسائل کے ساتھ عام مسلمانوں کی تربیت بھی اس میں شامل ہوگئی ۔اب تو باقائدہ تبلیغ کی ہی تربیت دی جاتی ہے ۔ تبلیغ کے آداب، تبلیغ کیسے کریں کے موضوع پر کئی کتابچوں کی مارکٹ میں موجودگی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب دعوۃ و تبلیغ باقائدہ فن ہو گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی فنی حیثیت سے کتنے لوگ واقف ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔آ ج کی دعوۃ و تبلیغ کی بدلی ہوئی صورت اس کا واضح ثبوت ہے۔یقینا اسلام کی دعوۃ اور اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت میں مدارس اسلامیہ کا اہم کردار رہا۔ علماء و مدرسین کی غیر معمولی خدمات ہیں۔لیکن موجودہ صورت حال ماضی کی خدمات کو فراموش کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ تعلیم و تدریس جو محض عبادت کا ذریعہ اور پیغمبر اعظم کے مشن کو آگے بڑھانے کی غرض و مقصد سے تھا آج وہ مکمل پیشہ بن چکا ہے ۔دین کے نام پر نام نہاد دین دار دینی اداروں ہی سے دین کو بے دریغ بیچ رہے ہیں۔
جیسے جیسے مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی، لوگوں کی رسائی پیغمبر اسلام ؐتک کم ہوتی گئی۔ اس کی وجہ سے ایک دوسرے تک پہنچنے کیلئے وسائل و ذرائع کا سلسلہ شروع ہوا ۔ حجۃ الوداع کے بعد لوگوں نے دوسروں تک اسلامی تعلیمات کو پہنچانے پر خصوصی توجہ دی۔ جب سب لوگوں تک لوگوں کا پہنچنا مشکل ہونے لگا تو ایک جگہ بیٹھ کر لوگوں کووہیں بلاکر درس دیا جانے لگا ۔ایک آدمی کئی جگہ جائے اس سے بہتر ہے کہ ایک جگہ کئی لوگ اکٹھا ہو جائیں۔ یہ طریقہ خود پیغمبر اعظم نے بھی اپنایا تھا ۔ حدیث پاک میں ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور عرض کیا ائے اللہ کے رسول آپ کا زیادہ تر وقت مردوں کے ساتھ گزرتا ہے ہم عورتوں کے لئے بھی کچھ وقت متعین کردیں تاکہ ہم بھی اپنی اصلاح کی خاطر آپ سے تعلیم حاصل کر لیا کریں ۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے ان کے لئے ایک دن مقرر کر دیا اور فرما یا کہ اس دن ساری عورتیں اکٹھا ہو جائیں ۔ مسجد نبوی کے ساتھ کئی مقامات پر درس ہونے لگے۔رسول اللہ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔اس طرح دھیرے دھیرے عرب وعجم ہر جگہ تعلیمات نبوی کے درس عام ہو گئے ۔ تمام خلفاء نے اس کا اہتما م کیا ۔ جب کتابت کی سہولت مہیا ہوئی تو باقائدہ کتابیں وجود میں آئیں ۔ مدارس کا قیام بھی اس کے بعد عمل میں ۔ایک وقت بغداد علمی میراث کی سب سے بڑی جگہ بنی۔تاریخ بتاتی ہے کہ جب بغداد کی لائبریری نذر آتش کی گئی تو کئی دن تک دریا کا پانی کتابوں کے جل جانے کی وجہ سے سیاہ رنگ اختیار کر کے بہتا رہا۔
یہ اسباب و ذرائع ہیں جن کی وجہ سے مدارس کا قیام ہوا۔اس عمل کے وجود میں آتے ہی لوگ آسانی سے تعلیمات نبوی سیکھنے لگے اور اس پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کیلئے نمونہ عمل بن کر سامنے آئے تاکہ انہیں دیکھ کر دوسرے لوگوں میں بھی وہ ذوق اور شوق پیدا ہو سکے ۔ پیغمبر اسلامؐ کے اس فرمان کو تما م اولیاء اللہ اورصوفیاء کرام اور بزرگان دین نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ۔پوری زندگی دعوت دین و تبلیغ رسالت میں مصروف رہے ۔خود عمل تمثیل بن کر لوگوں تک ہدایت پہنچاتے رہے ۔ ایک روایت کے مطابق ہندوستان میں سب سے پہلا مدرسہ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے صوفی حمیدالدین ناگوری رحمہ اللہ علیہ نے راجستھا ن کے ضلع ناگور میں قائم کیا ۔ مدرسہ کے قیام اہم مقاصد میں سے ایک تو اس علاقہ کے لوگوں کو تعلیم دینا تھا ۔ دوسرا ایسے افراد تیار کرنا تھا جو دوسروں کو تعلیم دے سکیں ۔ تعلیم و تربیت دونوں کام ایک ساتھ ہوتے تھے ۔ صوفیاء کی ان درسگاہوں میں تربیت اور ریاضت کی بہت اہمیت تھی ۔ صحابہؓ کا بھی یہی طریقہ تھا جب نبی اکرم صلعم کسی وحی کا ذکر کرتے اور آیت قرآنی سناتے تو صحابہؓ اس کو یاد کرلیتے پھر جب اس پر مکمل عمل پیرا ہو جا تے تو پھر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔ کئی برس کی محنت ، مسلسل استاذ کے ساتھ سفر کی تھکاوٹ ، قیام اللیل اور رات جاگنے کی مشکلات ،توکل علی اللہ ، فاقہ کشی کے حالات سے گذر کر شاگرد تعلیم حاصل کرتے تھے لیکن حصول تعلیم کے بعد اپنے استاذ کی مثال بن جاتے تھے اور بسا اوقات بعض مسائل میں تو استاد پر سبقت لے جایا کرتے تھے ۔ کل مدارس کم تھے ۔ استذہ کی تعداد کم تھی ، وسائل وذرائع محدود تھے ۔لہٰذا کم شاگرد فارغ ہوتے تھے لیکن پوری دنیا میں اسلامی محبت،اخوت ،امن ،مساوات ،رحم دلی اور ہمدردی انسانی اقدار کی پاسداری کے پیغام کے ساتھ تعلیم کو پہنچا دیا ۔جیسے جیسے اسباب و ذرائع کی آسانی ہوتی گئی الگ الگ مقامات پر مدارس کا قیام ہوتا گیا۔لوگ اسلام کی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوتے گئے۔ آج ہندوستان ہی میں کئی ہزار مدارس ہیں ، ہر سال کئی ہزار علماء ، حفاظ ،قاری اور مفتیان کرام مدارس سے فارغ ہوتے ہیں ۔تعلیمات کے فروغ کے لئے وسائل اور ذرائع بھی آسانی سے دستیاب ہیں پھر بھی ہماری قوم اس تعلیم سے دور اور اس کے اثرات سے محروم کیوں؟شاید شاعر مشرق ، جہاں دیدہ مفکر علامہ اقبا ل نے اسی جانب اشارہ کیا ہو ’’اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے ‘‘آج مدارس کی کثرت تو ہوگئی مگر کئی ایک مدرسے اپنی غرض و غایت سے ناآشنا نظر آ رہے ہیں۔ہماری قوم کے ذمہ داروں ، اہل مدارس ، منتظمین مدارس ، معاونین مدارس حضرات کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ورنہ یہی مدار س کب ہماری پسماندگی اور دین سے دوری کا سبب بن جائیں کہ ہمیں خود بھی پتہ نہیں چل سکے گا ۔ہمیں اگر فخر ہے کہ ہم مسلمان ہیں تو یہ ہماری ہی ذمہ داری ہوگی کہ اس مسئلہ پر غور کریں۔مدارس کے نام پر خیراتی کمپنیاں کھولنے کی بجائے  انہیں بالفعل تعلیم گاہیں اور تربیت گاہیں بنائیں تو شاید بہتر ہوگا۔وقت ہے غور کر لیں کیا پتہ کل دیر ہو جائے ۔
 Mob: 09582859382
 Email: abdulmoid07@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By