GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
قاہرہ قاصدِ انقلاب
ابھی ’عقل‘ کے امتحاں اور بھی ہیں

طویل سکوت کے بعد آخر الامر گلے میں اٹکی ہوئیں سسکیاں آوازِ حلق میں تبدیل ہوگئیں۔ جس سے عالمی سیاست کی فضاء میں ایک بڑا ارتعاش پیدا ہوگیا۔انسانوں کی ایک کثرت جو انفرادی سطع پر منتشر و پراگندہ تھی، دیکھتے ہی دیکھتے جم غفیر کی صورت میں جلوہ نما ہوئی۔اس کی جلوہ نمائی سے کور نگاہ آمریت کی آنکھیں چند پاں گئیںاور اس کی حالت ٹھوکر کھانے والی اُس ضعیف و لاغر بُڑھیا کی سی ہوگئی جو گر کر سنبھلے کی کوشش کررہی ہو۔ دفعتاً وہی خون جو ش مارنے لگا جو ایک عرصے سے منجمد تھااور رگوں اور نسوں میں ہی نہیں مصر کی گلی کوچوں میں احتجاجی مظاہروں کی صورت میں دوڑنے لگا ۔ یخ بستہ قصرِ شاہی کشیدہ حالات کی تاب نہ لاسکا ،آنِ واحد میں پگھل کر بکھر گیا اور عوام کی قدم بوسی کرنے لگا۔جن مصریوں کو سالوں سے کوئی پوچھتا تک نہ تھا،عالمی میڈیا بہ ہوش وگوش ان کی ہر ہر آواز سن کر تائید کرنے لگا ہے جن قیدیوں کو کال کوٹھریوں میں مدت سے کوئی پُرسانِ حال نہ تھا ۔وہ باہر آکر حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنے لگے۔ بظاہر آمریت کے جبر سے سرِتسلیم خم کرنے والے سروں میں جمہوریت کا سودا لیئے حسنی مبارک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گئے کہ تجھے اب مکاناتِ عمل کامزہ ضرور چکھنا ہوگا۔ وہی دبے کچلے مصری جو گزشتہ تین دہائیوں سے بزبانِ حال ’’ارحم ارحم یا مبارک‘‘ کہتے آئے ہیں انہی مصریوں نے ’’ارحل ارحل یا مبارک‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے حسنی مبارک کو نہ زمین کا رکھا نہ آسمان کا۔اخوان المسلمون کو عضوِ معطل سمجھنے والوں کو احساس ہونے لگا ہے کہ ممکن ہے کہ آنے والے کل میں یہی تنظیم ملک کا نوشتۂ تقدیر لکھنے پر مامور ہو ۔ حکم اور حکم کی تعمیل کرنے والے پہلی مرتبہ بغاوت کی لذت سے آشناہوئے ۔ وہ جو صرف اور صرف اقرار کے خوگر تھے، جرأت ِ انکار سے سر شار دکھائی دئیے،جہاں فکرو خیال پر بھی قدغن تھی وہاں اب ہزاروں زبانیں ایک ساتھ تکلم کا انقلابی ہنر سیکھ گئیں۔جنہیں نظامِ دار و رسن کی خفیہ ایجنسی کی دہشت نے ہمہ تن گوش بنایا تھا وہیں اب ببانگ دہل اعلان کررہے    ع

             ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں

 ارتقاء (Evalution)کی سُست خرامی پر چھوڑ دیا جاتا تو اس قدر تغیّر کے لئے صدیاںدرکار تھیں لیکن یہ ’’انقلابِ یاسمین‘‘ کی تیزرفتاری کا اعجاز ہے کہ وہ تیونس سے چل کر مصری سرحدوں کو عبور کرگئی؟ اورمصر کے تن مردہ میں انقلابی روح حلول کرگئی؟ پہلے پہل حسنی مبارک جیسے شاطردماغ کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی اور نہ ہی عمر سلمیان جیسے ’’ کر گسی نگاہ‘‘ رکھنے والے خطرناک شکاری کو یہ ’’دراندازی ‘‘دکھائی دی ! مانا کہ آج کا زمانہ بڑا ہی تیز رفتار ہے مگر زمانے کی دگرگوں خصلت بھی جمودزدہ افراد پر اثر انداز نہیں ہو پاتی ہے۔ بظاہر تو وہاں کوئی خمینی جیسا لیڈربھی نہیں جو اپنی شخصیت کے پَر تو سے خوف و دہشت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو زائل کردیتا تاکہ کو تاہ بین عام لوگ بھی اپنی منزل کا نزدیک سے مشاہدہ کر پاتے۔ غالباً جمال الدین افغانی کی سیمابی روح پھر سے مصر کی گلی کوچوں میں قدم رنجہ ہے؟ اور گھر میں دبک کر بیٹھے ہوئے مصریوں کو بار بار باہر آنے کی دعوت دے رہی ہے۔ کہیں کوئی شیخ محمد عبدہ جیسی قدوقامت والی شخصیت بھی نظر نہیں آتی جو اتحاد اور روشن فکری کی مشعل لئے نعرہ زن ہو   ؎

میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو

شرر فشاں  ہوگی  آہ  میری نفس میرا شعلہ بار ہوگا

کیا حسن البنا شہیدکی پُر سوز قیادت پھرسے اپنی قوم پر حرارت کا خزانہ لُٹا رہی ہے؟ کیا سید قطب شہید کی قلم کی روشنائی حسنی مبارک جیسے منحوس چہرے کو داغدارکرگئی؟ یا پھر علامہ اقبال نے عالم برزخ سے آکر فرمانِ پروردگار کو فرشتوں کے بجائے مصریوں کے گوش گزار کیا ہے   ؎

اُٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقین سے

کنجشک فرومایہ کو شاہین سے لڑادو

سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹادو

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو

یہ بھی تو ممکنات میں سے ہے کہ غزہ کے اُن شیرخوار بچوں کے آنسوؤں کے سیلاب نے آمر اور مطلق العنان مصری فرمانروا حسنی مبارک کا بیڑا غرق کردیا جس کی گرسنگی اور تشنگی کی ایک بڑی وجہ وقت کے اس ہٹلر کی کی سفاکی بنی۔

خیر سبب جو کچھ بھی رہا ہو، اس انقلاب نے قعرِ مذلت میں پڑ ے ہوئے مصریوں کو ملک و ملت کی تقدیر سازی کا موقع فراہم کیاکسی ملک و ملت کی تقدیر سنوارنے میں عوامی جوش و جذبے کی نسبت قیادت کی صلابت و صلاحیت کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ الیکس کارل ؔ نے لطیف نکتے کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہر مذہب و مکتب اور انقلابی تحریک کے اجزائے ترکیبی دو عناصر ہوتے ہیں عقل اور عشق۔ ایک روشنی کا ماخذ ہے اور دوسرا حرارت کا مخزن! ایک کا کام ہے جمود زدہ لوگوں کو متحرک کرنا اور دوسرا لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کرتا ہے، ان کو دانائی و بینائی عطا کرتا ہے۔‘‘

ا س کے ذیل میں ڈاکٹر علی شریعتی فرماتے ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں جب کوئی تحریک ابھرتی ہے یا کوئی فکری انقلاب رونما ہوتا ہے تو دانشور، خود آگاہ اور روشن فکر طبقہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے راہِ عمل کی نشاندہی کرے۔ اور عوام اس آگاہی کے نتیجہ میں اپنے جوش و جذبہ اور ذوقِ عمل کے ذریعے اس تحریک میں روح پھونکتے ہیں اور اسے حرکت و توانائی عطا کرتے ہیں۔‘‘

ان دو مفکروں کے مطابق عوام سراپا عشق و جذبہ کی علامت ہے اور قیادت دانائی و بینائی کے مترادف۔ لہٰذا بجا طور پر کہا جاسکتاہے کہ مصر میں عشق کی آگ (یعنی عوام کے جوش و جذبہ) نے نظام کہن کی بوسیدہ عمارتوں کو ان میں موجود دستور سمیت خاکستر کردیا۔ اب وہاں کے سیاسی، مذہبی اور فکری تعمیر گروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحدومنظم ہوکر آئین ِ نو کے حامل ایک سیاسی ڈھانچہ کی تعمیر و تنظیم کا اہتمام کریں۔ عوام نے جلوت میں آکر وحدت کی آہنی طاقت کا مظاہرہ تو کردیا، اب قائدین کو خلوت میں سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا تاکہ ایک صالح نظام کا خاکہ تیار کرلیں۔ جگر سوزی کا مرحلہ کسی حد تک عوام کے ذریعے خوش اسلوبی سے بڑی سرعت کے ساتھ طے ہوا ہے لیکن دماغ سوزی اور ہوشمندی کا مرحلہ طے کرنابھی باقی ہے۔ عوام نے جذبۂ قربانی،پا مردی، یقینِ محکم، تحمل و بردباری، نظم و ضبط سے طاغوت کے دانت کھٹے کردیئے۔ اب قائدین کی دور اندیشی کا امتحان ہوگا۔ ان میں خلوص کی پرکھ ہوگی۔ انہیں سامراج کی خفیہ اور اعلانیہ دھمکیوں کے سامنے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔عین ممکن ہے کہ ڈالروںکی جھنکار سے ان کو مسحور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ امریکی مفادات کی منڈی میں بڑے بڑے سروں کا تول مول ہوگا۔ اگر قائدینِ مصران مختلف کسوٹیوں پرکھرے نہیں اترے تو اب تک کے کئے کرائے پر بھی پانی پھر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ مصری انقلاب کو فی الحال’’ دِلّی ہنوز دُور است‘‘ کا معاملہ درپیش ہے۔ ایک دیگر پہلو سے بھی مسئلہ کی سنگینی سامنے آتی ہے۔ یہ کہنا ابھی شاید قبل از وقت ہوگا کہ حسنی مبارک کے چلے جانے سے مصری آمریت کلی طور فنا کے گھاٹ اتر گئی۔ کیونکہ مصر کی سیاسی بساط میں جبر پر مبنی باطل نظام نے اپنی جڑوں کا جال بُنا ہے۔ ان جڑوں کو مکمل طور اُکھاڑ پھینکنا کارے دارد والا معاملہ ہے۔ یہ زہر تو مصر کے رگ و ریشہ میں سرایت کرچکا ہے۔ اس کے اثر کو کاملاً زائل کرنا جس قدر مشقت طلب ہے اسی قدر اجتماعی سوجھ بوجھ کا بھی متقاضی ہے۔ امریکہ اور اُس کے قاسہ برداروں کے لئے یقیناً حسنی مبارک جیسے وفادار غلام کا حشر ایک بڑے حادثے سے کم نہیں لیکن یہ سمجھنا کہ صرف یہی تنہا شخص تھا جس نے امریکی اور اسرائیلی مفادات کیلئے تمام قومی وسائل سمیت خود کو وقف رکھا تھا، بہت بڑی غلط فہمی ہے بلکہ اس کے توسط سے مصر کا نظام حکومت اور اس نظام کو چلانے والے بہت سے کارندے بھی مغرب علی الخصوص امریکی استعمار کے آلۂ کار بن گئے ۔ علاوہ ازیں یہ نظام اتنا سخت جان ہوا کرتا ہے کہ سر کاٹے جانے کے بعد بھی اعضا و جوارح یک لخت کام کرنا نہیں چھوڑتے۔ وضاحتاً یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ مصر کی آمرانہ حکومت کا سر ( حسنی مبارک) کٹ کر دھڑ سے تو الگ ہوگیا مگر اس کے دست و پا ابھی تک سرگرم ہیں۔

یہاں پر امریکی استعمار کی یہ خاصیت ہرگز نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہزیمت کے روبرو ہوکر بھی یہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اوربآسانی ہتھیار نہیں ڈالتا۔ اس کے یہاں اگر ایک مہرا پٹ جائے تو دوسرے متبادل مہرے کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اعلانیہ کارندہ مات کھا جائے تو خفیہ کارندوں کو فوراً حرکت میں لایا جاتا ہے۔ حالیہ مصری انقلاب کے دوران امریکہ کا منافقانہ کردار اس حوالے سے منہ بولتا ثبوت ہے۔ قاہرہ کی عوامی تحریک کو خامو ش کرنے ،اس کے وسیع تر اثرات کو ناکارہ کرنے کیلئے واشنگٹن نے گرگٹ کی طرح کئی رنگ بدلے۔

۱۔ اولاً تاریخی گواہ ہے حسنی مبارک کا اقتدار انہیں کامرہونِ منت رہا۔ اس جبری اقتدار کو طول دینے کی خاطر امریکہ نے تمام وسائل بروئے کارلائے اور ہر اسے ممکنہ عسکری و اقتصادی امداد فراہم کی۔ حتیٰ کہ عوامی غیظ و غضب سے اپنے اس ایجنٹ کو بچانے کے سلسلے میں بہت سے پاپڑ بیلے۔ ’’تہران ٹائمز‘‘ میں چھپی ایک مصدقہ خبر کے مطابق جس وقت آزادی کے متوالے تحریر اسکوائر میں جوق در جوق جمع ہورہے تھے، انہی دنوں جنرل سِسَن (General Sesson) کی سربراہی میں تین امریکی اور دو اسرائیلی جنرل خصوصی طیارے کے ذریعے قاہرہ بھیج دیئے گئے تاکہ وہاں کی فوجی قیادت کو نئے ابلیسی ہتھکنڈے آزمانے کا گُر سکھائیں۔

۲۔جب استعمار کو یہ محسوس ہونے لگا کہ عوامی انقلاب کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لیتا اور اب حسنی مبارک کا زوال طے ہے اور عام مصریوں کی عالی ہمتی کے سامنے یہ سنگِ راہ تا دیر نہیں ٹک سکتا تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے ہدفِ کارواں تبدیل کرنے کا دوسرا پینترااستعمال میں لایا گیا۔ تحریک عزیمت کو کمزور معیشت کاردِ عمل بتلاکر اقتصادی اصلاحات کے راگ الاپے گئے۔

۳۔مندرجہ بالا دونوں پینترے جب ناکارہ ثابت ہوئے تو عالمی استکبار نے محمد البرادعی جیسے سکیولر غلاموں کو فرعونی منصوبے کی تکمیل کے لئے قاہرہ روانہ کیا۔ یہ وہی شخص ہے کہ جس کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے NOC کی سند حاصل ہے جب ہی تو وہ اقوام متحدہ کے ایک کلیدی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ سامراجی حربوں میں سب سے بڑا حربہ یہی ہوتا ہے کہ وقت کے فرعونی کارندوں کو کلیم الٰہی کے لباس میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کو قائد و سربراہ کے طور پروجیکٹ کرکے تحریک و انقلاب کو غیر محسوس طریقے پر ہائی جیک کیا جاتا ہے۔ دوست نما دشمن اور رہبر نما رہزن توانقلاب پذیر قوموں کیلئے اعلانیہ دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔لیڈرشپ کا خلا جواس وقت مصر کو درپیش ہے امریکہ یہ خلا بھی اُن کٹھ پتلیوں سے پر کرنا چاہتا ہے جنہیں وہ ایک عرصہ سے اپنے نہاںخانوں میں پالتاآیا ہے اور ایسا ہی ہوا تو مصر ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوگا جس کا احاطہ کرنا بڑے بڑے حکیموں کے بس سے باہر ہے حتیٰ کہ حکیم الامت نے بھی اس کی باریکی کے آگے بیان کے ناقص ہونے کا اعتراف کیا ہے    ؎

بہت باریک ہے امرضِ امم کے اسباب

کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیان کوتاہی

ہو اگر قوتِ فرعون کی درپردہ مرید

قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی!

بہر کیف امریکہ کو کسی نظامِ حکومت کے ساتھ اصلاًپرخاش تو نہیں ہے۔ طاغوتی مفاد کے حصول کی راہ میں جو بھی رکاوٹ بن کر حائل ہوجائے اس کی نظر میں وہی نظام گردن زنی کا مستحق ہے۔ اس لحاظ سے امریکہ کے لئے مصر کا متوقع جمہوری نظام بھی قابل قبول ہوگا بشرطیکہ اس کی ساخت و پرداخت میں آزادی پسند عناصر کا عمل دخل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آمریت کے پشتبانوں نے حسنی مبارک کے زوال پر جمہوری اقدار کی دہائی دینا شروع کیا۔دُنیا امریکی سیکرٹری ہیلری کلنٹن، نائب صدر جوبائیڈن اور خصوصی طور امریکی صدر بارک اوبامہ کے پرکشش الفاظ جو مصر کے حوالے سے سننے کو ملے وہ اصل میں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حسنی مبارک کے استعفیٰ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بارک اوبامہ نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ ’’ہماری زندگی میں ایسے بہت ہی کم مواقع نصیب ہوتے ہیں کہ جب ہم تاریخ کو بنتے دیکھتے ہیں،حسنی مبارک کا استعفیٰ بھی ان ہی چند موقعوں میں سے ایک ہے۔ مصری عوام نے پرامن طور اپنی آواز بلند کی اور اُن کی آواز سنی گئی۔ ‘‘ اس تقریر سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہزار چہرہ طاغوت کے پاس سینکڑوں زبانیں بھی ہوا کرتی ہیں۔ موقع محل دیکھ کر صوت در صورت میں تبدیلی کرنا اس کا خاصہ ہے۔ اس کی متلون مزاجی سے بڑے بڑے مردآہن (لیبیا کے کرنل قذافی، عراق کے صدام حسین اور سعودی عرب کے شاہ فیصل) بھی دھوکہ کھا گئے۔ یہ طاغوت ہر عوامی حرکت کیلئے پیشگی ہی سمت کا تعین کرکے رکھ لیتا ہے ۔ لہٰذا مصری انقلاب آج ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں پر وہ ندرت، تنوع، گہرائی و گیرائی کا تقاضا کرتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ نظام مملکت کا تغیر انجام پائے ، مصری قیادت کو اس بات پر گہری نظر رکھنی ہوگئی کہ کہیںامریکی لیبارٹری میں مفرور آمریت کی بوسیدہ ہڈیوں پر گوری جمہوریت کا گوشت و پوست تو نہیں چڑھایا جارہا ہے؟ کہیں یہ آدم خور ملک ایک بار پھر اُس شیطانی فارمولے کو استعمال تو نہیں کررہا ہے جس کی نشاندہی علامہ اقبالؔ نے اپنی مشہور نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں کی ہے۔ چنانچہ جب اس مجلس شوریٰ میں ابلیس کا دوسرا مشیر جمہوریت جیسی خوشنما تبدیلی کے تعلق سے پہلے مشیر کو زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو جواباًپہلا مشیر اپنی ایک قلابازی کا یوں انکشاف کرتا ہے۔  ؎

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

مصریوں کی خودشناسی اور خودنگری بھی اگر جمہوری لباس میں ملبوس شہنشاہی پر فریفتہ ہوگئی تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی حرکت و حرارت سے آمریت کے رتھ کے بجائے ’’طاغوتی جمہوریت‘‘ کا جدید انجن رواں دواں ہے۔

-----------------------------------

fidahussain007@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By