GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
ملک ستربرس سے ترقی سے ناآشنا؟؟؟


   چند دن قبل اتر پردیش،اُتراکھنڈ،پنجاب ، منی پوراور گوا میں انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوا۔بی جے پی یہ زعم رکھتی ہے کہ نوٹ بندی کے بعد بھی لوگوں کی حمایت اُسے حاصل ہے۔مہاراشٹر اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات اور چنڈی گڑھ کے کارپوریشن کے حالیہ انتخابات میں اپنی جیت سے یہ بے حد سرشار اور پُر اعتماد ہے۔وزیر اعظم اپنی ریلیوں اور جلسوں نیز میٹینگوں میں اس کا اعادہ کرتے نہیں تھکتے اور اسے اپنی کامیابی سے معنون کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں ۔جس کالا دھن اور بدعنوانی کییہبات کرتے ہیں، اسی میں مبینہ طور خود یہ اور ان کی پارٹی کے لوگ گلے تک ڈوبے ہوئے ہیں۔یہ الزام راہل گاندھی نے عائد کیا ہے کہ سہارا اور برلا سے تقریباً۵۵؍کروڑ روپے مودی جی نے اُس وقت لئے جب ڈھائی برس قبل گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔اس کا مذاق جناب وزیر اعظم نے یوں اُڑایا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔حالانکہ جس کرسی پر یہ براجمان ہیں، اس کی مریادا یہ کہتی ہے کہ آپ اچھی زبان استعمال کریں  ، خواہ کسی کے لئے بھی ہو،مہذب بھی ہو اور معتبر بھی اور جس میں ایک وقارہو تو پھر کیا کہنے۔ جب راہل گاندھی اپنی ایک ریلی میں’’مودی مردہ باد‘‘جیسا قابل اعتراض اور معیوب نعرہ سنتے ہیں تو اپنے حامیوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ یہ نعرہ آپ لوگ نہ لگائیں کیونکہ مودی جی ہمارے وزیر اعظم ہیں ۔۔۔۔۔۔اور وہی مودی جی اپنی ریلی میں راہل گاندھی کا نام لئے بغیر ان کی تضحیک کرتے ہیں ،دو معیادوں یعنی ۱۰؍برسوں تک وزیر اعظم رہ چکے من موہن سنگھ کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہیں، جن کی علمیت اور دانائی کا ایک عالم معترف ہے اور وہیں ہندوستان کے بہترین دماغوں میں سے ایک دماغ رکھنے والے پی چدمبرم جن کا سیاسی کریئر انتہائی حوصلہ افزاء رہا ہے ،کی ملامت کرتے ہیں تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ پڑھے لکھوں اور کم پڑھے لکھوں میںکیا فرق ہوتا ہے۔خیر سے ہمارے وزیر اعظم کی ڈگریاں بھی مشکوک بنی ہوئی ہیں کیونکہ گجرات یونیورسٹی نے احمدآباد ہائی کورٹ میں یہ عرضی داخل کر رکھی ہے کہ مرکزی انفارمیشن کمیشن کے اُس حکم نامے کو ردّ کیا جائے جس میں وزیر اعظم مودی کی ڈگریوں سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ 
مودی جی کو یہ شکایت ہے کہ ۷۰؍برسوں میں ہندوستان میں کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔یہ جملہ ان کا تکیہ کلام بن گیا ہے۔اپنی ہر ریلی میں اس جملے کو دہرانا ضروری سمجھتے ہیں ۔ان کا اشارہ کانگریس کی طرف ہوتا ہے کیونکہ کانگریس نے تقریباً ۶۰؍ برس تک حکمرانی کی ہے۔۷۰؍ برس کہتے ہوئے واجپائی جی کی چھے ساڑھے چھے سالوں کی مدتِ حکمرانی کو یہ بھول جاتے ہیں ۔گویا کہ واجپائی جی نے بھی اپنی مدّتِ کار میں صرف گھاس ہی چھیلے!دراصل مودی جی خود پرستی میں انتہا کو چھو رہے ہیں جبھی تو اڈوانی جی نے پارلیمنٹ کے تعطل پر جب استعفیٰ دینے کی بات کی تو ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں تھا۔اگر وہ استعفیٰ دے بھی دیتے تو بی جے پی یا آرایس ایس سے بھلے ہی کوئی انہیں منانے چلا جاتا لیکن مودی جی اس کی قطعی پروا نہیں کرتے کیونکہ ڈھائی برسوں کا ان کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ یہ اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔اردو میں جسے نرگسیت کہتے ہیں ، اسی کے یہ شکار نظر آتے ہیں ۔در اصل جس زعم میں یہ مبتلا ہو گئے ہیں وہ تو اسی وقت اب ختم ہوگا جب یوپی میں یہ شکست سے دوچار ہوں گے اور اگر شکست سے دو چار نہیں ہوئے تو اس زعم میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا اور پتہ نہیں آگے پھر کیا کیا ہوگا؟؟
بات ہورہی تھی ۷۰؍ برس کی کہ ان برسوں میں ہندوستان نے کوئی ترقی نہیں کی ۔ ہر میدان میں یہ پچھڑا رہا اور خاص کر جہالت اور افلاس دور کرنے میں ناکام رہا اور مودی جی کا کہنا ہے کہ اس کیلئے تمام تر کانگریس ذمہ دار ہے۔جزوی طور پر بات صحیح ہے لیکن یکلخت یہ کہنا کہ ہندوستان نے کوئی ترقی نہیں کی اور کانگریس نے ملک کو بربادکیا بالکل ہی حقائق کے منافی بیان ہے۔دراصل مودی جی کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ جس قدر ممکن ہو، اپنے مدمقابل کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کرو اورجتنا ہوسکے اسے نقصان پہنچاؤ۔خود کبھی یہ نہیں کہتے کہ ہم نے اِن ڈھائی برسوں میں کیا کیا بلکہ یہ گنواتے نہیں تھکتے کہ کانگریس نے ۷۰؍برسوں میں (ان کے حساب سے) کیا نہیں کیا۔ان کی سیاست تمام تر منفیانہ سوچ پر مبنی ہے۔اگر یہ ذرا سا غور کر لیں تو اس سوچ سے باہر نکل سکتے ہیں ۔جس مائک سے کانگریس کو یہ کوس رہے ہیں ،وہ مائک بھی کانگریس کی دین ہے۔جن ہوائی اڈوں اور ہوائی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے یہ جگہ جگہ پہنچ رہے ہیں وہ بھی کانگریس نے ہی دئے ہیں ،جن شاہراہوں پر ان کی’’ غریب پرور‘‘ سرکاری کار دوڑتی ہے تاکہ سبھاؤں میں’’ اپنی فقیری ‘‘کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے لئے یہ پہنچ سکیں ،وہ شاہراہیں اور کار بھی کانگریس کی مرہونِ منت ہیں ۔کس کس کا نام لیا جائے تمام چیزیں ہی کانگریس سے منسوب ہیں ۔ہم تو یہاں تک کہیں گے کہ جو سانس آں جناب لے رہے ہیں وہ بھی کانگریس کی وجہ سے لے رہے ہیں ۔اس کے بر خلاف یہ یاد کریں کہ آنجہانی راجیو گاندھی نے جب کمپیوٹر کو ہندوستان میں رائج کرانے کی بات کی تھی تو ان کے بھِشم پتامہ(شاید اب نہ مانتے ہوں)اٹل بہاری واجپائی اس کی مخالفت میں بیل گاڑی سے پارلیمنٹ گئے تھے کیونکہ ان کی اورپارٹی و پریوار کی دانست میں کمپیوٹر کے آجانے سے روزگار کے خاتمے کا اندیشہ تھا۔اُس وقت آں جناب کی عمر ۳۵؍ برس کے آس پاس رہی ہوگی اور پتہ نہیں مودی کا سیاسی شعور آر ایس ایس کے یونیفارم سے باہر نکلا تھا کہ نہیں۔اگرچہ رام مندر تحریک والی سوشل میڈیا پر وزیراعظم کی جوچند تصاویر گردش کرتی ہیں وہ ہمیں بہت کچھ بتا دیتی ہیں اور خاص طور پر یہ بتاتی ہیں کہ گذشتہ ۷۰؍ برسوں میں کیا ہونا چاہئے تھا !وزیر اعظم مودی جب یہ کہتے ہیں تو ان کا مطلب قطعی وکاس نہیں ہوتا۔جہالت و غربت کا خاتمہ بھی نہیں ہوتابلکہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کانگریس نے ان ۷۰؍برسوں میں ہندوستان کو ہندو راشٹر بننے نہیں دیا ، ہندوؤں کو فخر اور گرو سے رہنے نہیں دیا ،رام مندر کی تعمیر ہونے نہیںدی،مسلمانوں کے خلاف کھل کر کھیل کھیلنے نہیں دیا بلکہ مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنے ہی کیوں دیا ؟ ان کا دہلی سے ایک ممبر آف پارلیمنٹ پرویش ورما یوں ہی سر عام بیان نہیں دیتا کہ’ ’اس ملک کے مسلمان ایک دیش بھکت پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے‘‘۔یہ جملہ کیوں کر اچھالا گیا اور کس کی شہ پر اچھالا گیا اور بی جے پی کا کوئی اعلیٰ لیڈر یا صدر یا وزیراعظم نے اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟ اس ڈائیلاگ کا مطلب کیا ہوتا ہے،یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں !
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں۔
9833999883

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By