GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
ہریا چک……ایک خطرناک روایت کا عندیہ!


چند روز قبل ضلع کٹھوعہ کے ہریا چک علاقہ کی ایک گوجر بستی پر منظم حملہ جموں خطہ میں ہر دم بگڑتی فرقہ وارانہ صورتحال کی عکاسی کرتاہے اور اگر ایسے واقعات کے پس پشت عناصر کو وقت پر نبے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو مستقبل میں کسی بڑے اندیشے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ انتظامیہ کی ناک کے نیچے ایک مشتعل ہجوم کی جانب سے اقلیتی طبقہ کی بستی پر دھاوا بول کر مکانات کو نذر آتش کرنے کی کارروائی ریاست کے اندر اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جو ایک خطرناک روایت کو جنم دے سکتی ہے۔ مقامی آبادی کی جانب سے اس کارروائی کے پس پردہ ایسے فرقہ پرست عناصر کے ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے، جو حکمران اتحاد کے نزدیک ہی نہیں بلکہ اسکا حصہ ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ یہ معاملہ گزشتہ تین دنوں سے اسمبلی اجلاس پر چھایا ہوا ہے اور حکومت کی جانب سے کسی تسلی بخش رد عمل کی عدم موجودگی میں اپوزیشن اراکین نے دو مرتبہ قانون سازیہ سے واک آئوٹ بھی کیا۔اس سے قبل گزشتہ برس جموں کے سرحدی ضلع سانبہ کے بڑی براہمناں علاقہ میں 40برسوں سے رہائش پذیر خانہ بدوش گوجروں کو تجاوزات کے خلاف کاروائی کے نام پر بے دخل کرنے کے لئے انتظامیہ نے جس انداز میںمشینی اور افرادی قوت کے علاوہ ایک مخصوص سوچ کی انتقامی جبلت کو عمل میں لایا وہ ایک مخصوص سوچ کا حصہ ہے، جو جموں صوبہ میں پنپ رہی ہے۔کشمیر عظمیٰ اپنے انہی صفحات میں قبل ازیں بارہا اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ فرقہ وارانہ عناصرنے انتظامی صفوںکی چھتر چھا یا میں جموں خطہ کے امن و امان کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور اس خطہ میں میں جو بیج بویا گیا ہے وہ انتہائی تیزی سے پھل پھول رہا ہے اور اسے شر پسند وں کی جانب سے باضابطہ اور متواتر سیراب کیا جا رہا ہے تاکہ زہرانگیز اہداف جلد حاصل ہو سکیں۔ چند ماہ قبل کی ہی بات ہے کہ ایک کاروائی میں سانبہ کے درجنوں خانہ بدوش افراد ،جو سرور کے مقام پر گزشتہ چالیس برسوں سے آباد ہیں اور مویشی پال کر دودھ کی فروخت کرکے گزر بسر کرتے ہیں ، پر اچانک اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی(جے ڈی اے) کے اہلکار بھاری مشینری اور اسلحہ بردار فورسز کے ہمراہ علاقہ میں وارد ہوئے اور پہلے انہیں گھر خالی کرنے کیلئے کہا اور بعدازاں ان خانہ بدوش گوجروں کے خس ، مٹی اور ٹہنیوں سے بنے آشیانوں کو مشینری کے زور پر مسمار کرنا شروع کردیا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان گوجروںکو گزشتہ چالیس برسوں میں پہلی بار اس بات کا بھی علم ہوا کہ انہیں قابض تصور کیا جا رہا ہے۔ باوجود اس کے کہ نہ صرف مقامی علاقہ کی بڑی آبادی بلکہ جموں شہر کی دودھ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ اس صنعت کے فروغ میں ان کا نمایاں کردار ہے۔درجنوں افراد کو بے گھر کرنے کی اس کاروائی کے دوران احتجاج اور مزاحمت کے جواب میں جو سلوک ان کے ساتھ کیا گیا وہ جمہوریت میں تو کیا کسی مطلع العنان آمریت اور ننگی سامراجیت میں بھی نہیں دیکھا گیا۔سرور علاقہ کے درجنوں کنبوں کو پولیس اور فورسز نے بے رحمی سے گولیوں کا نشانہ بنایاجس میں محمد یعقوب نامی ایک نوجوان اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہاں بزرگوں ، بچوں، خواتین کا امتیاز کئے بغیر انتہائی ان لوگوں کو انتہائی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔مذکورہ اور ایسے واقعات ان کے لئے چشم کشا ہیں جن کے ہاتھوں میں ریاست کی زمام ِ کار ہے اور جنہوں نے اقتدار کے حصول کے لئے ایسے عناصر نہ صرف قبول کیا بلکہ ماضی قریب میں ان کی ریشہ دوانیوں سے آنکھیں بند رکھیں۔ ۔ اس سے قبل سنجواں علاقہ میں بھی ایک مسلمان شہری کے مکان کو تجاوزات کے خلاف کاروائی کی آڑ میںنشانہ بنایا جا چکا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سنگھ پریوار اور اس کی حاشیہ بردار جماعتوں کے اغراض و مقاصد کیا ہیں لیکن یہ بات اقتدار کے گلیاروں میں بیٹھے، یا بیٹھنے کے خواہاں لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی، یہ سوال بار بار کیا جاتا ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ گزرے مہینوں میں معمولی بہانوں پر لوگوں کو زیر عتاب کرنے کی کوششیں کی گئیں، جن میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آئے جب مال مویشی اپنے ساتھ لے جانے والے افراد پر بے بنیاد الزامات لگا کر انکی مارپیٹ کی گئی۔ کٹھوعہ واقع میں اگر کوئی شخص گائوکشی ، جیسا کہ کہا جا رہا ہے کا مرکتب ہوا ہے تو اسکے خلاف قرار واقعی قانونی کارروائی کی جانی چاہئے ، لیکن جن عناصر نے منظم طریقے پر ا قلیتی بستی پر دھاوا بول کر نہ صرف مکانات کو نذر آتش کر دیا بلکہ کئی شہریوں کو زخمی کرنے کا ارتکاب بھی کیاہے، انکے خلاف سنگین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ ریاست کے اندر ایک خطرناک اور خونی روایت کو جنم دینے کا سبب بن سکتاہے، جس کیلئے موجودہ حکمران اتحاد ذمہ دار قرار پا سکتا ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By