GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
ریاستی سرکار کا میزانیہ2017-18پیش


 جموں//وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کرتے ہوئے مختلف محکمہ جات میں تعینات 60ہزار عارضی ملازمین کی ملازمت کو باقاعدہ بنانے کاسلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیاہے جبکہ ملازمین کو اب ساتواں پے کمیشن مارچ 2018سے ملنا شروع ہوگا۔سال 2017-18کے بجٹ میںوزیر خزانہ نے رقومات کی ادائیگی کے قدیم طریقہ کار کو ختم کرتے ہوئے ٹریجروں کی جگہ پے اینڈ اکائونٹس نظام متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا جو رواں سال یکم اکتوبر سے کام کرنا شروع کردے گا۔انہوںنے دہائیوںپرانے ریکروٹمنٹ رولز کا از سر نو جائزہ لیکر انہیں جدید تقاضوں اور نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت سے مربوط کرنے کا اعلان بھی کیا ۔ وزیر خزانہ نے 3لاکھ رجسٹرڈ کنسٹرکشن ورکروں، سرکاری عمارتوں اور فصلوں کے انشورنس کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومت جموں کشمیر بنک کو وہ 500کروڑ روپے واپس کررہی ہے جو سابق حکومت نے بطور قرض لئے تھے ۔درابو نے بجٹ میں منظور کی گئی رقم کا پچاس فیصد 20فروری سے محکمہ جات کے نام جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ تمام چھوٹے پروجیکٹوں کو 3سال کے اندراندر مکمل کرنے کا نشانہ رکھاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ امسال مارچ کے مہینے سے رمسا ، ایس ایس اے ، این ایچ ایم اور آنگن واڑی ورکروں کو ماہانہ بنیادوںپر تنخواہ دی جائے گی۔جموں کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو ریاست کا ایک باصلاحیت ادارہ قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے پیش گوئی کی کہ اگلے تین سال میں یہ ادارہ ریاستی سرکار کیلئے جموںکشمیر بنک کی طرح ایک منافع بخش ادارہ بن جائے گا۔ذرائع ابلاغ کے نمائند وں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈاکٹر درابو نے کہا کہ بجٹ میں اشتہار کے لئے اداکی جانے والے نرخوں کو بڑھانے کی تجویز ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ پولووو میں واقع عمار ت کو صحافتی برادری کی تحویل میں دیا جائے تاکہ یہاں ایوان صحافت کے نام سے کشمیر پریس سینٹر قائم کیا جاسکے۔
عارضی ملازمین کی مستقلی اور ساتواں پے کمیشن 
اپنی بجٹ کی تقریر اور پھر اسمبلی کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ میں نے گذشتہ سال اپنی بجٹ تقریر میں اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ سرکار کو ورثہ میں اندازً61 ہزاراین وائی سی ، عارضی، ایڈہاک ، سیزنل ، کیجول اور دیگر زمروں کے ملازمین جو بغیر کسی قاعدہ کے تعینات کئے گئے تھے ، ملے ۔تاہم دستیاب وسائل کے مدِ نظر مجھے ایک فیصلہ لینا ہے،یا ساتویں تنخواہ کمیشن کو لاگو کروں یا کسی بھی طرح اُن 61ہزار ملازمین کو، جو گذشتہ 10 بیس برسوں سے حاشیہ پر زندگی گذار رہے ہیں کومستقل کروں۔انہوںنے پہلے مرحلے میںاُن تمام افراد کی کنٹریکچول بنیادوں پرمستقلی کا اعلان کیا جنہوں نے اپنی زمین سرکار کواس وعدے پر دی تھی کہ انہیں اس کے عِوض نوکری فراہم کی جائے گی ۔وزیر خزانہ کاکہناتھاکہ باقی زمروں کے لئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی مختلف امکانات پر غور کرنے میں مصروف ہے ،اس سال کے دوران سرکار ایک پالیسی کا اعلان کر دے گی جس کے تحت طے شدہ مدت میں ان افراد کو مستقل کر دیا جائے گا۔ان کاکہناتھاکہ ان کی سال بھر ملازم طبقوںسے بات چیت ہوتی رہی جنہوںنے اس بات پر اتفاق کیاکہ اس سال عارضی ملازمین کو ہی مستقل کیاجائے جس کیلئے وہ ان کے شکر گزار ہیں ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو نہ کرنے کے ان کے نظریئے کی حمایت کی ۔انہوںنے کہاکہ وہ صرف اتنا کہیںگے کہ انہیں تمام ملازمین پر ناز ہے ۔وزیر خزانہ نے ملازمین کیلئے ساتویں پے کمیشن کی ادائیگی اگلے سال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا’’میری جیب سرکاری ملازمین کے حق میں ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کی ادائیگی نقدی کی صورت میں یکم اپریل 2018 ء سے کرنے پر بھی خالی ہو ئے گی تاہم ملازمین کے لئے نئے شرحوں پر تنخواہ اور مہنگائی بھتہ 30  اپریل 2018 ء سے ادا کیا جائے گا،اس ضمن میں مُفصل ہدایات فائنانس محکمہ کی جانب سے جاری کردی جائیں گی، ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کے عمل کے دوران ہی اُ ن ملا زمین کی تنخواہ کی تفاوت کو دور کر دیا جائے گا جن کا مسئلہ ابھی تک ٹھنڈے بستے میں پڑا ہے،میں اس تعلق سے پیشہ وارانہ دانشوروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں جو اپنی سفارشات چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تشکیل شدہ کمیٹی کے سامنے رکھے گی‘‘۔
ریکروٹمنٹ رولز 
سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے قوانین میں تمام سطحوں پر فوری نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ چونکہ ان قوانین میں سے بیشتر کئی دہائیوں پہلے1950اور1960میں مرتب کئے گئے ہیں جو موجودہ تناظر میں نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت اور روزگار کے نئے امکانات کے پیشِ نظر اپنی جوازیت کھو چکے ہیں،وہ اعلان کرتے ہیںکہ سرکار ایک مالی سال کے دوران ہی ان تمام قوانین میں فوری مکمل ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ موجودہ روزگار ضروریات کو موجودہ تعلیمی تقاضوں کے موافق بنایا جا سکے اور ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ان کاکہناتھا’’ نچلی سطح کے سرکاری ملازموں کے عہدوں کے نام تبدیل کرنے کے حوالے سے سرکار کاارادہ ظاہرکرتاہوں ،اس سے ملازمین کی عزت ِ نفس بحال ہو گی اور ان کی حوصلہ افزائی ہو گی،اس سے کام کی مہارت اورورک کلچرکو فروغ ملے گا، مرکزی حکومت کی تقلیدکرتے ہوئے میں سرکار کافیصلہ سُناتاہوں کہ ملازمین کی برتری کو ظاہر کرنے والی درجہ بندی کو اب حروف تہجی کی ترتیب سے رکھا جائے،جیسے کہ موجودہ وقت میں یہ ترتیب   I,II,IIIاور  IVہے ،اب یہ ترتیب  A,B,C  اور D   ہو گی ۔ میں اُمیدکرتاہوں کہ سرکاری ملازمین حکومت کی پالیسیوں اورپروگراموں کوصحیح سمت میں جامہ پہنانے کے لئے پوری دلجمعی ٔ اورجوش وخروش سے کام کریں گے ‘‘۔
ٹریجری نظام کا خاتمہ 
ٹریجری کے قدیم نظام کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ اس کی جگہ جدید نظام پے اینڈ اکائونٹس متعارف کرایاجارہاہے جو یکم اکتوبر سے اپنا کام کرنا شروع کرے گا اور اگلے سال مارچ تک سار ا کام اسی کے ذریعہ ہوگا۔ان کاکہناتھاکہ نیا نظام قائم کرنے کیلئے بہت بڑا اقدام ہے جس سے شفافیت بھی آئے گی ،ٹریجری نظام میں ٹھیکیدار حکومت کے ساتھ کام کرنے کیلئے راضی نہیں کیونکہ بل میں تاخیر ہوجاتی ہے جو اب نہیں ہوگا۔ان کاکہناتھا’’اس نظام کو کمپیوٹر پرمبنی مربوط مالی انتظام کے طریقہ کار IFMS سے بدلاجائے گا، IFMS میں ہرسطح پربلوں کی ادائیگی کاعمل آن لائن ہوگا ، اس میں مجازاتھارٹی کی طرف سے مالی منظوری ،DDO کی طرف سے بل کی تیاری اورPAO کی طرف سے منظوری اورادائیگی شامل ہے، اس کی بدولت ادائیگی میں سرعت پیداہونے کے ساتھ ساتھ شفافیت اورجوابدہی بھی بڑھے گی،میں ٹریجری طریقہ کار سے ، EAO طریقہ کار میں منتقلی کا عمل اس سال اکتوبر سے شروع کرنے کاارادہ رکھتاہوں اگلے سال مارچ کے آخرتک یہ مکمل ہوگا ،یہ عمل بتدریج آگے بڑھے گا اور اس میں کام کاج میں رخنہ نہیں پڑے گا‘‘۔
50فیصدبجٹ کی منظوری20فروری کو
وزیر خزانہ نے کہاکہ جموں وکشمیرریاست ملک میں بجٹ سے متعلق رکاوٹوں سے چھٹکارہ پانے والی پہلی ریاست ہے ،ریاستی بجٹ پہلے پیش کرنے کی واحد وجہ نسبتاً کام کے طویل سیزن کاحصول ہے ،اس سے توقع ہے کہ تمام محکموں کی طرف سے رقومات جاری کئے جانے اور انہیں خرچ کرنے کے سلسلے میں ایک اوقات نامہ تیارکیاجائے گا۔ان کاکہناتھا’’یہ نقطہ حاصل کرنے کے لئے قانون سازیہ کی طرف سے بجٹ منظورکئے جانے کے بعد فائنانس پلاننگ ڈیولپمنٹ اور مانیٹرنگ محکمہ دس فروری 2017 تک ریونیو اور کیپکیس بجٹ کا 50% جاری کرے گا تاکہ یکم اپریل 2017 سے یہ رقم تصرف میں لائی جاسکے،ایڈمنسٹریٹیو ڈیپارٹمنٹ 20 فروری 2017 تک سبھی محکموں کے سربراہوں اورعمل آوری ایجنسیوں کوبحث کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے گا، اگروہ ایسا نہیں کرے گا تویہ تصور کیاجائے گا کہ متعلقہ ایجنسیوں کوبجٹ میں مختص کی گئی رقومات خرچ کرنے کے بارے میں بتایاگیا ہے اور وہ اگلاقدم اٹھائیں گے،ایڈمنسٹریٹیو محکمے، محکمہ جاتی سربراہ اور عمل آوری ایجنسیاں فوری طور پرٹینڈرنگ کاعمل شروع کریں گی اوریہ عمل پندرہ مئی 2017 تک مکمل ہوجاناچاہیے، اس کامعنی یہ ہوئے کہ بجٹ میں جن کاموں کے لئے پیسہ رکھاگیا ہے وہ کام مقررہ وقت میں الاٹ کئے جانے چاہیے اور اُن پرطے شدہ اوقاتِ کار کے مطابق کام شروع ہوناچاہیے، پندرہ مئی 2017 کے بعد کوئی بھی ورک یاسپلائی آرڈر فائنانس محکمے کی اجازت کے بعدہی جاری کیاجاسکتا ہے اوراس کے لئے متعلقہ ادارے کوتاخیر کے لئے اطمینان بخش جوازفراہم کرناہوگا‘‘۔وزیرخزانہ نے کہاکہ محکموں کویہ بات یقینی بناناہوگی کہ ٹینڈرنگ عمل، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیارکئے جانے اور انتظامی منظوری نیز تکنیکی اوردیگرضروری لوازمات پوراکرنے پرہی شروع کیاجائے ،مالی سال 2018-19 کے لئے صرف ایسے کام ہی مشخص سرمایہ کاحصہ بنیں گے جن کے لئے درکار ڈی پی آر (Project Report) مکمل کی گئی ہو اوردیگرضروری منظوری حاصل کی گئی ہو۔ایسے پروجیکٹوں کوترجیح دی جائے گی جو تین سال کی مدت میں مکمل ہوں تاہم یہ شرط بڑے پن بجلی اور بڑے سڑک پروجیکٹوں پرلاگونہیں ہوگی۔انہوںنے کہاکہ اس بات کو یقینی بناناہوگا کہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے فائنانس یا پلاننگ ڈیولپمنٹ اور مانیٹرنگ محکمے سے جیسابھی معاملہ ہو ۔اس بات کی تصدیق کی جائے کہ کام مکمل کرنے کے لئے تین سال کے اندراندر رقومات دستیاب ہوں گی،2017-18 کے لئے بجٹ میں رکھی رقومات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی سوائے تنخواہ کے زمرے میں کسی کمی کوپوراکرنے کے لئے یاپھر گزشتہ واجب الادا رقومات اداکرنے کے لئے ۔یہ ضابطہ مالی سال 2016-17 کی باقی ماندہ مدت اور نظرثانی شدہ تخمینہ جات کے لئے بھی ہوگا،اب چونکہ منظور شدہ بجٹ کی آدھی رقم نیا مالی سال شروع ہونے سے دو ماہ قبل ہی واگذار کی جائے گی،لہٰذا سال کے دوران اخراجات کی مرحلہ وار نشاندہی   میں بھی بدلاؤ آنا چاہئے۔ابھی تک ہوتا یہ ہے کہ 70 سے 80  فیصد تک اخراجات مالی سال کی آخری سہ ماہی میں دکھائے جاتے ہیں،اس سے نہ صرف بجٹ اعداد و شمار کی تضحیک ہوتی ہے بلکہ رقومات کی نگرانی میں بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ آئندہ مالی برس سے اخراجات کو بجٹ میں فراہم رقوم کے 30  فیصد حصے تک محدود رکھا جانا چاہئے ۔اس کے علاوہ مارچ کے مہینے میں اخراجات بجٹ تخمینہ جات کے 15 فیصد حصے تک محدود رکھے جانے چاہئے۔
سرکاری کارخانوں اور اداروں میں مالی انتظام
ڈاکٹر حسیب درابو نے کہاکہ چاہے جموں وکشمیر پاؤر ڈیولپمنٹ کارپوریشن ہو،جموں وکشمیر SFC ہو، SIDCO,SICOP SRTC, یا JKTDC ہو ،جہاں تک ان کے کھاتوں پر نظر جاتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ ریاستی سرکار تقریباً سبھی اداروں میں،منصوبہ سازی اور نگرانی محکمہ کی وساطت سے رقومات ڈالتی رہی ہے،رقومات تو فراہم کی گئیں ہیں مگر اِن کا استعمال ان کمپنیوں کے سرمایہ کی بنیاد کو استوار اور گوشوارے کو بہتر بنانے کے لیے نہیں کیاگیاہے ۔ان کاکہناتھاکہ ہر کارپوریشن بلا امتیاز ان رقومات کو اپنے بہی کھاتوں میں غلط طریقے سے منصوبے کے فنڈوں کے طور پر پیش کرتی ہے، نتیجتاً چند کارپوریشنیں اُ ن جائز مراعات کا دعو یٰ بھی پیش نہیں کر پاتی ہیں جو گھساؤ اور گھٹاؤ کے لئے انہیں اثاثے قائم کرنے پر صرف کی گئی رقوم کی مدمیں مل جائے اورحساب کتاب رکھنے کا یہ عمل ناقص رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ باضابطہ طریقے سے بہتری لانے اور بہی کھاتوں کی مناسب منتظمی شروع کرنے کے لئے میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ اِن تمام کارپوریشنوں کو اب تک دیئے گئے منصوبے کے فنڈ واپس لا کر از سرِ نو واگذار کئے جائیں ۔ فنڈوں کی از سرِ نو الاٹمنٹ زر حصص کی صورت میں کی جائے گی تاکہ سرکاری شعبہ کی اِن کارپوریشنوں اور اداروں کے سرمایہ کی بنیاد کو مستحکم کیا جا سکے۔درابو نے کہاکہ جموں وکشمیر سٹیٹ پاؤر ڈیولپمنٹ کارپوریشن جس نے بجلی ترقیاتی محکمہ میں جموں وکشمیر SPDC سے توانائی خرید کر مجموعی قرضہ اکٹھا کر رکھا ہے،مالی انتظام کے ایک حصے کے طور پر  PDD جمو ں وکشمیر SPDC کو 2400 کروڑ روپے ادا کرے گاجبکہ جموں وکشمیر SPDC ،4300کروڑ روپے کی رقم واپس کرے گی جو اُس نے ریاستی سرکار سے وقتاً فوقتاً قرضے کے طور پر حاصل کئے ہیں جب یہ دونوں حساب کتاب  پورے ہو جائیں گے میں کمپنی میں تفاوت کی باقی ماندہ 1900 کروڑ روپے ڈال دوں گا،مزید اس کے اثاثے کی قیمت کی از سرِ نو تشخیص سے جموں وکشمیر SDPC کے بنیادی سرمایہ میں ہزار کروڑ روپے کا اضافہ ہو گا۔جموں وکشمیر SDPC  ایکدم سے قرضہ سے مستثنیٰ کمپنی بن جائے گی اور اس کے پاس 3000 کروڑ روپے کا بنیادی سرمایہ ہو گا۔میری تجویز ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد کمپنی کا ایک IPO   لایا جائے،اتنی مستحکم مالی بنیاد والی کمپنیاں پورے بھارت میں زیادہ نہیں ہوں گی ۔اس پس منظر کو یوں بھی واضع کیا جا سکتا ہے کہ جموں وکشمیر بنک کا بنیادی سرمایہ صرف 48 کروڑ روپے ہے۔ایک وقت تھا جب بنک کی بازار میں مالیت 5000کروڑ روپے تھی۔انہوںنے کہا’’میں نہایت دُکھ کے ساتھ ایوان کو یہ اطلاع دے رہا ہوں کہ ہمارے ایک اہم ادارے ،جموں وکشمیر بنک میں گذشتہ 5 برس کے دوران کارپوریٹ گورننس میں کچھ سنگین خامیاں رہی ہیں اور مینجمنٹ میں ناکامیاں رہی ہیں،بنک کے ایک فروغ کارکی حیثیت سے ہم نے گذشتہ دو سال میں کچھ کوشش کیں کہ اثاثے کی کوالٹی کے معاملے بنک کی خود مختاری کو اثر انداز کئے بغیر سلجھائے جا سکیں‘‘۔ ان کاکہناتھاکہ بنک کے بورڈ اور اعلیٰ مینجمنٹ میں کچھ تبدیلیاں لانے کے بعد اب حقیقت سامنے آئی ہے،بنک نے 6000کروڑ روپے کے NPA   اعلان کئے ہیں، متاثرہ اثاثوں کے لئے رکھی گئی گنجائش بھی بہت کم ہے،اس وجہ سے بنک کو ستمبر 2016-17  میں ختم ہوئی سہ ماہی کے دوران 600 کروڑ روپے کا بھاری نقصان دکھانا پڑا،اس سال مزید بری خبر آئے گی البتہ مجھے اُمید ہے کہ آئندہ مالی سال کی پہلی یا دوسری سہ ماہی میں بنک دوبارہ سے منافع کمانے لگے گا۔یہ بات کہنے کی شائد ضرورت نہیں کہ اس رقم کے ساتھ یہ سنگین شرائط بھی وابستہ ہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرس اُن سطحوں پہ جوابدہی قائم کرے گا جہاں کوتاہی برتی گئی ہے اور وہ تادیبی کاروائی بھی کرے گا۔
ناگہانی آفات اور غیریقینیت سے نبردآزمائی 
وزیر خزانہ نے کہاکہ انہیںیہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت ہوتی ہے کہ وہ فصلوں کے لئے جامع بیمہ سکیم مرتب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ،اِن فصلوں میں دھان،گندم،مکئی ،سیب،آم ،زعفران،دالیںاور تلہن شامل ہیں اور ان کا بیمہ بیشتر آفات ِسماوی سے ہونے والے نقصانات کے لئے کیا جائے گا،جس میں ژالہ باری ،سیلاب اور خشک سالی شامل ہیں۔علاوہ ازیں پولٹری شعبے کودرکارضروری جلابخشنے کے لیے میں پولٹری والوں کے مرغ مرغیوں کے بیمہ کے پریمیم پر سبسڈی دینے کاارادہ رکھتاہوں۔ان کاکہناتھا’’میں نے پریمیم سبسڈی کے مقصد سے بجٹ میں 75کروڑ روپے کا بندوبست کیا ہے،یہ آج تک فراہم کی گئی سب سے بڑی رقم ہے اور اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اگر کسانوں کو اپنے کنٹرول سے باہر کسی وجہ سے فصلوں کا نقصان ہوتا ہے تو انہیں صحیح معاوضہ مل سکے،مرکزی سرکار سے بھی 75  کروڑ روپے کی رقم حاصل ہو گی،کاشتکاروں کو بہت ہی کم پریمیم دینا ہو گاجوکُل  پریمیم کا  بہت کم حصہ ہوگا‘‘۔اس کے علاوہ انہوںنے کہاکہ اپنی بیش بہا وراثت ،فن پاروں ،نادر قلمی نسخوں ،پینٹنگوں اور توش خانہ اور فن،تمدن اور زبانوں سے متعلق اکادمی میں موجود  بیش قیمتی چیزوں کی باضابطہ فہرستیں تیار کرنے اور اُن کا مول متعین کرنے کے بعد اُ ن کا بھی بیمہ کرایا جائے گا۔اس مقصد کے لئے پانچ کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں۔
روزگار کے مواقعے
 بیروزگار ی کا مسئلہ کوشدید سماجی مسئلہ کانام دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ بیروزگاری کی شرح کو ریاست میں بہت زیادہ مانا جاتا ہے تاہم سرکار کے پاس بیروزگاری کے حقیقی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ان کاکہناتھاکہ فی الوقت ریاست میں  27روز گار ی سکیمیں لاگو ہیں جن میں سے 12 سکیموں کی 90 فیصد ی تک مالی امداد مرکز سے کی جا رہی ہے،ریاستی سرکار کی اپنی 9 خود روزگار سکیموں کو مختلف محکمہ جات کے ذرائع سے چلایا جا رہا ہے۔انہوںنے تجویز پیش کی کہ آدھار سے جڑی رجسٹریشن کا محکمہ روزگار کے ساتھ اندراج سرکاری نوکری حاصل کرنے اور متعلقہ سرکاری اسکیموں سے استفادہ کرنے کے لئے لازمی قرار دیا جائے،بے روزگاروں کے اعداد و شمار کو یکجا کرنے کی بنیادی ذمہ داری محکمہ روزگار کی ہو جو باقاعدگی کے ساتھ ان اعداد و شمار کواپ ڈیٹ بھی کرتا رہے ،ریاستی سرکار کی جانب سے چلائی جانے والی تمام ایسی سکیمیں جن میں رقومات دستیاب کرائی جاتی ہیں کو یکجا کر کے ایک نئی Sector Agnostic Credit linked Scheme لائی جائے گی جس کی عمل آوری محکمہ روزگار کے ذمے ہوگی، مذکورہ سکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لئے لازمی ہو گا کہ وہ تجارتی ادارہ قائم کرنے کے لئے ایک جامع تربیتی پروگرام میں تربیت حاصل کریں جو کہ J&K EDI  اور RSETIS کے ذریعے دی جائیں گی جس میں بنیادی انتظامی اور تجارتی مہارت کی جانکاری دی جائے گی اورنوجوانوں کی تجارتی ذہن سازی کی غرض سے محکمہ روزگار ایک منظم اور جامع جانکاری پروگرام مرتب کرے گا اور تعلیمی اداروں و پنچائت کی مدد سے اس کو زمینی سطح پر پہنچا پائے گا تاکہ عوام کو اس سکیم کے حوالے سے جانکاری مل سکے۔
سرکاری ملازمین کی بہبودی کے اقدامات
وزیر خزانہ نے کہاکہ چھ ماہ کے عرصے میں نہ صرف ملازمین کے مہنگائی بھتہ کے واجبات ادا کئے گئے بلکہ  Move Employess کے حق میں عارضی  Move Allowance اور Darbar Move  Allowance میں بھی اضافہ کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ آج سرکاری ملازمین صرف ایک دن میں ہی اپنے GPF کھاتے  سے رقم نکال سکتے ہیں جبکہ اس سے قبل اُ نہیں سرکار کے پاس جمع شدہ اپنے ہی پیسے کو نکلوانے کے لئے 6سے 8مہینے تک کا انتظار کرنا پڑتا تھا، ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ 80سال کی عمر کے Pensionersکے حق میں Full Pensionکو منظوری دی گئی ہے۔درابو نے کہاکہ گذشتہ تین برسو ں سے ریاستی حکومت کے گزیٹیڈملازمین کے لئے ایک جامع میڈیکل انسورنش پالیسی فراہم کی گئی ہے جس میں 5لاکھ تک کی رقم کا بیمہ رکھا گیا ہے ۔اس پالیسی کی معیاد  31 مارچ 2017ء کو ختم ہو رہی ہے۔ان کاکہناتھا’’ میں نے ہدایات جار ی کر دی ہیں کہ سبھی زمروں میں ملازمین کو  5 سال تک کی مدت کے لئے بیمہ کورفراہم کرایا جائے۔مزید اسے Pensioners کے لئے بھی اختیاری بنایا جائے کہ وہ بھی اپنے پورے کنبہ کے لئے 6لاکھ روپے تک کا بیمہ کور حاصل کر سکتے ہیں ۔Finance Department اس حوالے سے مختلف بیمہ کمپنیوں سے تمام ملازمین کے حق میں علاج پر آئے اخراجات کی واپسی کے حوالے سے تجاویز طلب کرے گا‘‘۔انہوںنے مزید کہا’’ ہمارے بہت سے افراد جو ریاستی سرکار کے ملازم ہیں مگر ان کی تنخواہیں مرکزی معاونت سے چلائی جا رہی سکیموں کے تحت مرکزی سرکار سے آتی ہیں چاہے یہ SSAیا RAMSA اساتذہ ہوں،آنگن واڑی ورکر ہوں یا National Health Mission کے تحت کام کرنے والے ہوں۔جن کی تنخواہیں بروقت ادا نہیں کی جاتیں اور اکثر اُنہیں مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔انہوںنے اعلان کیاکہ تنخواہوں کی ادائیگی کو فنڈس کے ذرائع سے الگ کیاجارہاہے ،ایسا کرنے سے  دیانت داری سے فرض ادائیگی کرنے والے افراد کی تکالیف ایک قصہ پارنیہ بن کر رہ جائیں گی ۔
ٹرانسپورٹ
وزیر خزانہ نے کہاکہ حالات کی وجہ سے اس شعبے کو بہت نقصان پہنچا۔اِ س ضمن میں یہ تجویز  پیش کر رہا ہوں جس کے تحت ایک عطیاتی اسکیم پیش کی جا رہی ہے جو باز ادائیگی کے لئے ایک فراخدلانہ مراعات کی اسکیم ہے،اس کے تحت 10 سال سے زیادہ مدت کی پرانی گاڑیوں اور آمدورفت کے وسائل کو ماحولیات کے موافق ،بہتر کارکردگی والی اور جمالیاتی اعتبار سے عمدہ اور نئی گاڑیوں سے تبدیل کیا جائے‘‘۔وزیر خزانہ نے کہاکہ اس حقیقت اک اعتراف کرتے ہوئے ہر بار جب بھی شورش کے حالات ہوئے ہیں تو ٹرانسپورٹ کا شعبہ متاثر ہوتا ہے،میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ یکم جولائی 2016 ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک ٹوکن ٹیکس اور سواری ٹیکس معاف کیا جائے۔
زراعت
زرعی اراضی کو دیگر مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ سرکار اِس ضمن میں ایک جامع پالیسی مرتب کر رہی ہے اوراگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس حوالے سے قانون بھی مرتب کیا جائے گا تاکہ زرعی زمین، زیر آبپاشی زمین، زعفران ،سبزی اور چاول اُگانے والی زمین کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کئے جانے پر پابندی لگائی جائے،سرکار عمارات کی تعمیر کے لئے یا بنیادی ڈھانچے کے بڑے پروجیکٹوں کی تعمیر کے لئے قابل ِکاشت زمین کا حصول نہیں کرے گی۔
جموں اور کشمیر میں چڑیا گھر کا قیام 
وزیر خزانہ نے کہاکہ مخصوص ماحولیاتی اقدامات کے علاوہ ہماری سرکار کی یہ پالیسی رہی ہے کہ ماحولیاتی اثرات کو مرکزی حیثیت یقینی طور حاصل ہو۔انہوںنے کہاکہ ریاست کی جنگلی جانوروں سے متعلق شاندار اوررنگارنگ وراثت کواُجاگر کرنے کیلئے وہ کشمیر اورجموں میں ایک ایک عدد چڑیا گھر قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں ۔
راجباغ ریشمی کارخانے کی تجدید
وزیر خزانہ نے کہاکہ ریاست کی ریشم کی پیداوار میںسالانہ 2.80 لاکھ میٹر سے 6.80 لاکھ میٹرتک بڑھانے کا ہدف ہے۔ان کاکہناتھا’’4لاکھ میٹر ہائی اینڈ کپڑے کے اضافہ سے مالیت میں 5 کروڑ سے 32 تک کا اضافہ ہو گا،یہ حصولیابی پہلے سے تشکیل شدہ Composit Market Centre for Whole Chain of Silk activity at Govt.Silk Factory Rajbagh پروجیکٹ کے تحت کی جائے گی جس کی مالی امداد بنک کر رہا ہے‘‘۔
بمنہ اونی کارخانے کی تجدید
وزیر خزانہ کاکہناتھاکہ اونی کپڑے کی پیدائش کو سالانہ 5 لاکھ میٹر سے بڑھا کر 8.75 لاکھ میٹر کرنے کا ہدف ہے۔ان کاکہناتھا’’اعلیٰ معیار کے 3.75 لاکھ اونی کپڑے کے اس اضافے سے مالیات 2.50کروڑ سے بڑھ کر 34 کروڑ روپے ہو جائے گی،یہ حصولیابی Composit  Market Centre for Whole Chain of Wool activity at Govt. Woolen Mills Bemina پروجیکٹ کے تحت کی جائے گی جس کی مالی امداد عالمی بنک کر رہا ہے‘‘۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By