GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
بھاری خرچہ کے باوجود بجلی کی صورتحال جوں کی توں


 جموں //بھاری رقوم خرچ کرنے کے باوجودسردیوں میں کشمیر اور گرمیوں میں جموں میں بجلی کی صورتحال میں بہتری نہ آنے کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست بجلی خریدنے کے مد پر 8000 کروڑ روپے کی مقروض ہے جس پر سالانہ 1260کروڑ روپے کی اضافی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔وزیر خزانہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میںتوانائی بچانے کے اقدامات کیلئے100کروڑ روپے ، سیاحتی،ثقافتی اور مذہبی مقامات پر زیر زمین لائنیں بچھانے کیلئے 25.47 کروڑ روپے مختص کرنے اور محکمہ بجلی میں کام کررہے عارضی ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے نئی پالیسی مرتب کرنے کا بھی اعلان کیا۔ریاستی اسمبلی میں مالی میزانیہ پیش کرتے ہوئے  وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے بجلی کے شعبے کے بارے میں بھی تفصیلات پیش کیںجن میں انہوں نے ریاست میں بجلی نظام اور سپلائی صورتحال کا احاطہ کیا۔
 بجلی خسارہ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سال 2016-17 کے دوران بجلی خریدنے اور اس مد پرپرانے قرضہ جات کی ادائیگی پر مجموعی طور12000کروڑ روپے صرف کئے گئے ۔تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بھاری رقومات خرچ کرنے کے باوجود سرمائی مہینوں کے دوران وادی جبکہ گرمائی مہینوں کے دوران جموں خطے میں بجلی سپلائی میں کوئی بہتری واقع نہیں ہوئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ساری رقوم ضائع ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کیلئے باعث اطمینان ہے کہ حکومت نے بجلی کے مد پر 4000کروڑ روپے کی سابقہ بقایا جات ادا کی ہیںجبکہ مالی سال کے آخر تک تمام بقایا جات ادا کی جائیں گی۔ڈاکٹر درابو نے بتایا کہ مارچ2016تک ریاست بجلی کے شعبے میں8000کروڑ روپے کی قرضدار تھی اور اس پر سالانہ1260کروڑ روپے کی اضافی رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
تقسیم کاری نقصان کی بھرپائی
ڈاکٹر حسیب درابو نے یہ بات دہرائی کہ ریاست کی مجموعی اقتصادی ترقی کیلئے بجلی کا شعبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ رقوم کے اعتبار سے سبسڈی اور تقسیم کاری کے دوران ہونے والے نقصان کی بھرپائی کرنے کے بعد ریاست کو2500کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے ، اگر اس خسارے کا خیال رکھا جائے تو بجٹ میں بھی خسارہ نہیں ہوگا۔
بجلی سسٹم میں گنجائش محدود
وزیر خزانہ کا کہنا تھا’’میں ایوان کو اس بات کا یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جہاں تک بجلی کے شعبے اور سپلائی کا تعلق ہے، فنڈس کی واگزاری کوئی مسئلہ نہیں ہے ، حکومت مزید بجلی خرید کر سپلائی کرسکتی ہے لیکن فی الوقت یہ مسئلے کا حل نہیں ہے، اگر ہم زیادہ بجلی خرید بھی لیتے ہیں تو بھی ٹرانسمیشن نظام اور گنجائش محدود ہونے کے باعث ہم اس بجلی کو صارفین تک نہیں پہنچاسکتے ‘‘۔
نامساعد حالات اور بجلی شعبہ
 انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس نامساعد حالات کی وجہ سے بجلی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کو وسعت نہیں دی جاسکی، اگر گزشتہ برس کے آخری چھ ماہ میں حالات خراب نہیں ہوتے تو اس سرما میں بجلی کی صورتحال بہتر ہوتی۔
3لاکھ گھرانوں کو بجلی نہیں
ڈاکٹر حسیب درابو نے بتایا کہ ریاست میں کل23لاکھ گھرانوں میں سے صرف3لاکھ گھرانے بجلی کی سپلائی سے اب بھی محروم ہیں جبکہ بقیہ20لاکھ گھرانے قومی اوسط کے مطابق روانہ تین یونٹ فی کنبہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ20لاکھ گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کیلئے3200میگا یونٹ بجلی خریدنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے برعکس ریاستی سرکار 6400میگا یونٹ بجلی خریدتی ہے اور اس طرح تقسیم کاری کے دوران ہونے والے نقصان کے بعد ہر گھرانہ یومیہ6یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے۔وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ یہ کسی بھی پہاڑی ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔
بجلی سستی
انہوں نے کہا’’سوال زیادہ یا کم بجلی خریدنے کا نہیں! بلکہ ہم قومی اوسط سے زیادہ بجلی خریدتے ہیں ،مسئلہ سپلائی اور استعمال میں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بجلی کی قیمتیں ملک میں کم ترین میں سے ایک ہیں، اس مد پر بجٹ میں جو آمدن مختص کی جاتی ہے، اس کا ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصہ ہی وصول ہوپاتا ہے۔ڈاکٹر درابو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’صارفین کی ایک بڑی تعداد استعمال کے مطابق بجلی فیس ادا ہی نہیں کرتی جبکہ دوسری جانب ہم موبائیل فون، انٹرنیٹ،کیبل اور ٹی وی بلوں کی ادائیگی قیمتوں کے بارے میں پرواہ کئے بغیر عمل میں لاتے ہیں،ہم کھانا پکانے، ہیٹنگ اور دیگر ضروریات کیلئے بجلی کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں اور اس بات کی فکر بھی نہیں کرتے کہ حکومت بجلی پر کس قدر خرچہ کرتی ہے‘‘۔
 بجلی چوری
وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے غلط استعمال اور چوری پر قابو پانے کیلئے حکومت نے 24x7بجلی سپلائی کا روڑ میپ مرتب کیا ہے جسے ریاستی اور مرکزی سرکار کے آپسی اشتراک سے عملی جامہ پہنایا جائے گا اور اسکے تحت چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ 2019مالی سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
 پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن
انہوں نے کہا کہ1995میں جب پائور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا تو ریاست کے سارے بجلی پروجیکٹوں کے مالکانہ حقوق 919.54کروڑ روپے کی قیمتوں کے بجائے محض ایک روپے کے ٹوکن کے عوض کارپوریشن کو سونپ دئے گئے ۔ان کا کہنا تھا’’میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ بجلی پروجیکٹوں کی مالیت از سر نو طے کرکے کاپوریشن میں حکومت کا حصہ بڑھا دیا جائے جس سے کارپوریشن میں حکومت کے حصے میں1000کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا۔وزیر خزانہ کے مطابق بجلی کے حوالے سے متذکرہ بالا اقدامات کے بعد ریاست کو سالانہ800کروڑ روپے کی بچت بھی ہوگی۔
بجلی کی قیمتیں
بجلی کی قیمتوں کے بارے میں ڈاکٹر حسیب درابو نے بتایا کہ 2013-14میں ریاست میں بجلی کی قیمتوں میں 8.5 فیصد ، 2011-12 میں15فیصد جبکہ2012-13میں19فیصد کا اضافہ کیا گیاجبکہ موجودہ سرکار نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کیا، حالانکہ بجلی سپلائی کی قیمتوں میں اوسطاً7فیصد اضافہ درج کیا گیا، اس صورتحال کے تناظر میں رواں مالی سال کے دوران اکتوبر2016سے بجلی فیس کی قیمتوں میں13.5فیصد کا اضافہ نافذ العمل کیا گیا، تاہم غریب صارفین ، زرعی اور صنعتی شعبے کیلئے یہ اضافہ اس سے بھی کم ہے۔
میٹروں کی تنصیب
انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے سو فیصد فیڈروں پر میٹر نصب کئے گئے ہیں جبکہ اگلے18ماہ کے دوران تمام صارفین کیلئے میٹر نصب کرنے کا عمل تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔بجٹ میں اس مد پراگلے مالی سال کیلئے200کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
زیر زمین لائنیں
 انہوں نے کہا کہ حضر ت بل،مخدوم صاحب،دستگیر صاحب،کھیر بھوانی،ماتا ویشنو دیوی،بابا ریشی،سکرالا ماتا،چنڈی ماتا مندر ،شاہدرہ شریف اور لیہہ و کرگل کی کئی گمپائیںاور مساجد جہاں لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔لیکن ان مقامات پر بجلی ڈھانچہ بہتری کا متقاضی ہے۔اسی کے پیش ِ نظر PMDP 2015کے تحت فیصلہ لیا گیا ہے کہ ریاست کے اہم سیاحتی مقامات جیسے پہلگام،سونہ مرگ،گلمرگ،پتنی ٹاپ اور کٹٹرہ میں زیر زمین بجلی کی رسائی کی غرض سے 33 KV   اور LT  تار بچھانے کا کام ہاتھ میں لیا گیا ہے۔تاکہ بجلی ڈھانچے کو استحکام بخشا جا سکے اور ان مقامات کو روشن رکھا جاسکے۔اور اس مقصد کے لئے 25.47 کروڑ روپے منظور کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ٹندرنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے، اور کام کو مالی سال 2017-18ء میں ہی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔  
پیداوار 
ریاست کی موجودہ نصب شدہ پن بجلی صلاحیت 1419.37 میگا واٹ ہے جس میں 1110 میگا واٹ آبی توانائی (Hydro Power) ۔198میگا واٹ (Thermal) بذریعہ ٹربائن اور 110.96 میگاواٹ SHPs کے ذریعے سے ہے۔JKSDPC اور CVPPL نے آبی شعبے میں بجلی کی پیداوار کے فروغ کے لئے ایک منظم لائحہ عمل مرتب کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ پن بجلی کی پیداوار کی اہمیت کومحسوس کرتے ہوئے سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی نے تین اہم منصوبوں ساولا کوٹ،کیرواور کرتھائی کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔
چھوٹے پن بجلی منصوبے
وزیر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ریاست کے مجموعی توانائی منظر نامے کے سدھار میں عموماً اور دور افتادہ اور پچھڑے ہوئے علاقہ جات میں خصوصاً 25 میگاواٹ تک کے چھوٹے پن بجلی منصوبے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ایسے منصوبے قلیل مدت میں مکمل ہوتے ہیں۔ماحول کو کم سے کم متاثر کرتے ہیں اور غیر مرکوز پیداواری صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔حکومت نے حال ہی میں 10میگا واٹ تک کے چھوٹے پن بجلی منصوبوں کے قیام کا اختیار محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو دینے کا فیصلہ لیا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اس سے چھوٹے اور انتہائی چھوٹے ہائیڈل پروجیکٹوں کو زیادہ توجہ ملے گی اور J&K SPDC بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر سکے گی۔ وزیر نے کہا کہ چھوٹے پن بجلی منصوبوں کی عمل آوری اور تخمینہ لاگت تیار کرنے کیلئے منظور شدہ 2000کروڑ روپوں کی مد میں سے JAKEDA اور J&K SPDC نے ریاست کے تینوں خطوں میں چھوٹے پن بجلی پروجیکٹس کی نشاندہی کر لی ہے اور اسے منظوری کے لئے حکومت ِ ہند کے سامنے پیش کر دیا ہے ۔
 ایل ای ڈی 
 وزیر نے کہا کہ یہ اجالا پروگرام بھارت سرکار کی وازارت توانائی کے تحت کام کرنے والی Energ efficiency Service LTD   کے اشترک سے روبہ عمل لایا گیا ۔ اس سکیم کے تحت 16لاکھ رجسٹرشدہ گھریلو صارفین کو 9وولٹ کے LEDلیمپ 20روپے فی لیمپ کے حساب سے دستیاب رکھے جارہے ہیں اور اب تک 46لاکھ LED لیمپ تقسیم کئے جا چکے ہیں اور گذشتہ 4 ماہ کے دوران ،جب سے یہ سکیم شروع ہوئی ہے ، 8لاکھ 50ہزار صارفین کو سکیم کے تحت لایا گیا ہے ۔
کیجول لیبرس 
کیجول اور عارضی طور پر کام کرنے والوں کی خدمات حاصل کی ہیں ۔یہ کارکن صارفین کیلئے بجلی کی بہم رسانی یقینی بنانے میں محکمے کے ملازمین کی مدد کر رہے ہیں ۔ بارہا یہ کارکن اپنی جان پر کھیل کر محکمے اور عوام کی خدمت کرتے رہے ہیں ۔ سرکار PDDمحکمہ میں کام کرنے والے ایسے عارضی کارکنوں سمیت تمام اس طرح کے کام کرنے والوں کے لئے ایک جامع پالیسی پر کام کر رہی ہے جس میں بطور خاص ایسے افراد کے کام کے دوران جھیلے جارہے خطرات کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا۔ 



 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By