GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
’ہم کیا چاہتے؟ جوڈیشل پروب‘
شہری ہلاکتوں پر دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کا احتجاج

سرینگر// شہری ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کے مطالبے کو دوہراتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے ایک مرتبہ پھر قانون ساز اسمبلی میں بدھ کو احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک اوٹ کیا ۔جبکہ کونسل میں دوسرے روز بھی اپوزیشن ممبران وزیر اعلیٰ کے اُس بیان، جس میں انہوں نے کشمیر کی ایجی ٹیشن کو منصوبہ بندی کہا تھا، کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے چلے گئے ۔اسمبلی کارروائی شروع ہوتے ہی جی ایم سروڑی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہا کہ کشمیر میں ہوئی شہری ہلاکتوں کی سپریم کورٹ کے سابق جج سے تحقیقات کرائی جائے۔ سروڑی نے کہاکہ اگر سرکار کہتی ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر سرکار کو عدالتی تحقیقات کرنے میں ڈر کس بات کا ہے ۔ اس دوران اپوزیشن ممبران نے زبردست ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے سرکار مخالف نعرے لگائے ۔ مبارک گل نے کہا کہ سرکار کیوں ڈرتی ہے عدالتی تحقیقات سے، اگر عدالتی تحقیقات ہو گئی تو اس سے صاف ہو جائے گا کہ غلطی کس کی ہے اور شہری ہلاکتوں میں کون ملوث ہیں۔ اس دوران شور شرابہ کی وجہ سے ایوان میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ،کیونکہ ممبران’’ ہم کیا چاہتے جوڈیشل پروب ‘‘بجرنگی سرکار ہائے ہائے‘‘ ،ہماری مانگیں پوری کرو کے نعرے لگا رہتے تھے۔شور شرابہ کے بیچ ہی اصغر علیٰ کربلائی، اشفاق جبار ، چودھری محمد اکرم ، عبدالمجید لارمی اورعثمان مجید نے سخت شور شرابہ کرتے ہوئے چاہ ایوان میں جا کر احتجاج کرنے کی کوشش کی جسے وہاں موجود مارشلوں نے روک کر آگے جانے نہیں دیا۔ اصغر اعلیٰ کربلائی نے زوردار آواز سے بجرنگی سرکار جس کا جواب اپوزیشن کے ممبران نے ہائے ہائے کے بطور دیا ۔ اس دوران دوندرسنگھ رانا نے سپیکر سے مخاطب ہو کر کہا ’ سپیکر صاحب آپ کہتے ہیں کہ سیاست میں دل بڑا ہونا چاہئے تو پھر کیا معاملہ ہے کہ آپ کا دل چھوٹا ہے، آج آپ کشمیر میں ہوئی شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دیں تو ریاست کی تاریخ میں آپ کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا ‘۔اس دوران ممبران نے نعرے لگاتے ہوئے چاہ ایوان میں داخل ہونے کی کوشش کی تو مارشلوں نے روکا ۔ایم ایل اے نگروٹہ دیوندر رانا نے پھر اسپیکر کوندر گپتا کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ جناب کبھی ہماری طرف بھی دیکھا کریںہماری طرف بھی آیا کریں ۔ چیخ چیخ کر عبدالمجید لامی نے کہا کہ یہ سرکار کیا جواب دے گی کیونکہ اس نے انسان تو انسان کبوتروں کو بھی نہیں بخشا۔ 20منٹ تک احتجاج کرنے کے بعد سرکار کی طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پراراکین نعرے بلند کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کر گئے ۔ قانون ساز اسمبلی کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی تو بشیر احمد ویری نے کہا کہ منگل کو اپوزیشن نے سرکار سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے اُس بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات کو خراب کیا گیا ہے، عدالتی تحقیقات کا حکم دینا چاہئے ۔ علیٰ محمد ڈار، سجاد احمد کچلو، شوکت احمد گنائی، شہناز گنائی، غلام نبی مونگا اور دیگر اپوزیشن ممبران نشستوں سے کھڑے ہو کر تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ۔اپوزیشن ممبران نے کونسل چیئرمین حاجی عنایت اللہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اُن کے مطالبات نہیں سنتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اپنی بات ایوان میں رکھنے کو موقعہ ملتا ہے ۔15منٹ کونسل میں ہنگامہ کرنے کے بعد سرکار کی جانب سے جواب نہ ملنے پر ممبران نے واک اوٹ کیا۔اپوزیشن ممبران واک آوٹ کرنے کے بعد جب واپس دوبارہ ایوان میں داخل ہوئے تو انہوں نے اس دوران کونسل میں بیٹھی وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہو کر پھر سے یہ مطالبہ دوہرایا اورکہا کہ ہم وزیر اعلیٰ کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے کہ کشمیر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات کوخراب کیا گیا تو پھر سرکار کو کیا مشکل پیش آتی ہیں اس سنگین معاملے میں عدالتی تحقیقات کرانے میں۔ تعلیم کے وزیر نعیم اختر نے ممبران سے کہا کہ اس معاملے پر بہت سی باتیں اسمبلی اور کونسل میں ہوئیںہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ہی شہری ہلاکتوں پر اسمبلی میں ایک تحریک التوا پیش کی تھی جس کے بعد یہاں سب نے بولا ۔انہوں نے کہا کہ کل وزیر اعلیٰ پھر سے ایوان میں تقریر کریں گی، وہ پھر کچھ بولیں گی تب تک آپ کو خاموش رہنا چاہئے ۔ جس کے بعد دونوں ایوانوں میں بجٹ پیش کیا گیا اور ساتھ ہی ممبران نے خاموشی بھی اختیار کی ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By