GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
’’افکارملّی‘‘ کاخصوصی شمارہ
ملت کی تعمیرنو.....کیوںاورکیسے

ماہنامہ’’ افکارملّی‘‘ کاخصوصی شمارہ ’’ملت کی تعمیرنو....کیوںاورکیسے‘‘کافی انتظار کے بعدملا، افکارملی کی جاندار روایت رہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اہم موضوعات پرخصوصی شمارے منظرعام پرلاتارہاہے جن میں’ کشمیرنمبر‘،’فلسطین نمبر‘،’سیرت نمبر‘، ’ملت اسلامیہ کے مسائل‘،’بیسویںصدی کی شخصیات نمبر‘، قابل ذکرہیں۔ہرخصوصی شمارہ دستاویزی حیثیت کاحامل رہاہے۔غیر روایتی مضامین سے آراستہ، شعورکے دَرپردستک دیتے ہوئے یہ شمارہ امت مسلمہ کے لئے روڑمیپ کاکام کرسکتاہے۔۲۵۴کے بڑے صفحات پرمشتمل زیرنظرخصوصی شمارے میں۳۶مضامین ہیں ،جن کو۷ابواب کے تحت تقسیم کیاگیاہے۔عناوین یہ ہیں:(۱) تعمیر ملت کی نظریاتی اساس(۲) ملت کی فکری،عقائدی وعملی اصلاح(۳) ملت کے تعلیمی مسائل(۴) مسلم خواتین کے حقوق اورمسلم معاشرہ(۵) اقتصادی مسائل اورتعمیر ملت(۶) سیاسی واجتماعی مسائل(۷) متفرق مسائل۔
 ملت کوآج بہت سے مسائل درپیش ہیں ،ان میں بہت سے مسائل کااحاطہ اس شمارے میںکیاگیاہے۔عقیدہ وافکار،تعلیمی،معاشرتی،اقتصادی،سیاسی، ماحولیاتی، ثقافتی اورصحت کے مسائل پرجہاںامت مسلمہ کے مسائل کواجاگرکیاگیاہے ،وہیںامت مسلمہ کوان مسائل کاحل بھی بتایاگیا ۔اُمت مسلمہ خیراُمت ہے، اسی سے انسانی سماج کی بہتری اور فلاح یابی کی امیدہے۔ اس اُمت کافرض منصبی ہی لوگوں کوانفرادی اوراجتماعی ترقی کے لئے جدوجہد کرناہے۔ ترقی چاہے دنیاوی ہویااخروی،لیکن اس منصبی ذمہ داری سے غفلت کی روش نے اُمت کودنیابھر میںزوال سے آشناکردیاہے۔تکثیری سماج میںاُمت کی ذمہ داریاں دوچندہوجاتی ہیں۔ ایک طرف سماجی ترقی میںاس کامثبت کردارتودوسری طرف شہادت علی الناس کی دینی ذمہ داری۔زیرنظر شمارہ جدید دنیا میں اُمت کے اسی رول کوعملاً نبھانے کاایک روڑ میپ ہے۔
’’افکارملّی ‘‘کے ایڈیٹر اورعالم اسلام کے معروف دانشورڈاکٹرسیدقاسم رسول الیاس ،اپنے ادارتی مضمون میںرقمطرازہیں:
’’ہندوستان کے تناظر میںجب ہم امت کے مطلوبہ کردار کی طرف نظرڈالتے ہیں توہمیںمحسوس ہوتاہے کہ امت کواپنے نصب العین اوراس کے تقاضوں کاشعور نہیںہے۔ وہ خود کودیگر اقوام کی طرح ایک قوم سمجھتی ہے۔اس کی ساری تگ ودودستوری تحفظات اورمادی مطالبوں سے آگے نہیں بڑھ پاتی ہے۔ فریضہ شہادت حق کی ادائیگی سے کنارہ کشی نے اسے اپنے اردگرد کے سماج سے الگ تھلگ کردیاہے۔ مسلمانوں کی زندگی کاایک اورقابل تشویش پہلویہ ہے کہ وہ دین کاایک محدودتصوررکھتے ہیں۔ وہ انفرادی واجتماعی سطحوںپراسلام کی تعلیمات اوراس کے تقاضوں سے غافل ہیں۔ کسی اعلیٰ وارفع مقصد کی عدم موجودگی اوراپنے نصب العین سے غفلت کانتیجہ ہے کہ ان میںمسلکی اختلافات اورگروہی عصبیتوں نے گھرکرلیاہے۔ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی اُمت کے بجائے مختلف طبقوں اورگروہوں میںبٹ گئے ہیں۔مقصد کی عدم موجودگی نے ان میںمتعدداخلاقی کمزوریاں بھی پیداکردی ہیں۔ان کے اندربے سمتی اوربے راہ روی درآئی ہے۔ وہ انتشاراورتفرقہ بازی کاشکارہیں۔اسلام دشمن طاقتوں کی مخالفت اوردشمنی نے ان میںبھی ردعمل کے جذبات پیداکردئے ہیں۔مادہ پرستی اوردنیاوی آسائشوں کاحصول ان کابھی وطیرہ حیات بن گیاہے‘‘۔ 
مزیدفرماتے ہیں:’’اقامت دین ہمارانصب العین ہے جس کی آخری منزل ریاست کی تشکیل ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس آخری منزل کے حصول کی راہ میں جوبھی پڑاؤآئیں،ان کابھی ہمیں پوراپوراشعوروادراک ہواورہم واضح طورپراپنے درمیانی اہداف متعین کرسکیں۔حکمرانی سے شعوری پسپائی اورطاقت کے تمام مراکز سے ملت کے انحراف نے اسے تعمیر وطن اورسماج کی اصلاح کے اہم مناصب اوراداروں سے تقریباً دورکردیاہے۔لہٰذاضرورت اس بات کی ہے کہ مذکورہ بالامقصد کے لئے تنظیمیں اورادارے قائم کئے جائیں اوردوسری طرف اقدارپرمبنی سیاست اسلام اورمسلمانوں کے اہم مفادات کے تحفظ اورعدل وانصاف کے قیام کے لئے ایک منظم عوامی اورسیاسی جدوجہد کاآغازکردیاجائے۔ اس پہلو سے ایک انقلابی ،داعی اورپیہم برسرعمل اُمت کے سامنے تعمیرملت کاایک روڈمیپ پیش کرنے کی جسارت کی جارہی ہے۔گوکہ تمام ترجدوجہد اورکوشش کے باوجود کئی پہلوتشنہ رہ گئے ہیں۔تاہم آئندہ ان پہلوؤں کابھی احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ 
گرچہ پوراشمارہ بہترین مضامین کامجموعہ ہے ،بالخصوص ڈاکٹرنجات اللہ صدیقی ، ڈاکٹرغلام قادرلون،سیدسعادت اللہ حسینی، ڈاکٹرظفرالاسلام خان،مولانا رضی الاسلام ندوی،ڈاکٹر غطریف شہبازندوی اورڈاکٹر محی الدین غازی کے مضامین جوکہ خوب سے خوب ترہیں،تاہم کچھ مضامین روایتی لگے، اگران مضامین کی جگہ کچھ اورغیرروایتی مگر اہم مضامین شائع ہوتے توزیادہ بہتررہتا۔چندابتدائی مضامین میںپروف ریڈنگ کی کافی غلطیاں بھی ہیں۔ہندوستان کے مسلمانوں کابہت بڑا مسلٔہ ناخواندگی اور معاشی مسلٔہ ہے۔غربت،افلاس اوربھکمری ہندوستانی مسلمانوں کے فی الوقت گھمبیر مسائل ہیں۔سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی گواہ ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ملت اسلامیہ کے قائدین اورتنظیمیں آج تک اُمت کے ان کمزوریوں کے ازالے کے لئے کوئی خاطر خواہ خاص تعمیری کام نہیںکرسکی ہیں اورحکومتیں بھی مسلم اقلیت کے تئیںبیگانوں بلکہ معاندوںجیساکردار ابھی تک نبھاتی چلی آئی ہیں،ایسے میں اس شمارے میںاس پردوہی مضامین کاجگہ پانامناسب محسوس نہیںہوتا۔
’’افکارملّی‘‘ گذشتہ ۳۰سالوں سے اُمت کے سیاسی اورسماجی مسائل کواٹھارہاہے،افکارملّی اس لحاظ سے ملک میںایک منفردمقام رکھتاہے لیکن محدودوسائل کی وجہ سے افکار ابھی تک اپنامعیارزیادہ بلندنہیںکرسکا ہے۔اُمت ہمیشہ اس بات کاروناروتی ہے کہ ملت کے پاس اپنے مسائل کواجاگرکرنے اوراربابِ اقتداراورعوام کی رائے اپنے حق میںتبدیل کرنے کے لیے مناسب معیاری میڈیا(پرنٹ اورالیکٹرانک)نہیں ہے لیکن عملی طور پراس جانب توجہ اور مالی ایثار صفرکے برابرہے۔ملت میںہم ماشاء ا للہ صاحبان ِ ثروت افراد کولاکھوںکروڑوں کا سرمایہ بعض دینی امور کے تعلق سے خرچ کرتے دیکھتے ہیں،تاہم ملت کی اجتماعی اُٹھان اورملت کی سماجی قوت میںاضافے کی طرف ہمارے ان صاحب حیثیت لوگوںکی توجہ جاتی ہی نہیں.... وجہ نامعلوم ۔ اس بگڑے ہوئے ترجیحاتی نظام کوجب تک ہوش مندی سے دُرست نہیں کیاجاتا تب تک اُمت کی بیداری، پرا پرجائی ، سرخروئی جیسے مثبت نتائج کی امیدرکھناعبث ہے۔
  نوٹ:۔  قارئین خصوصی شمارہ اس پتہ سے حاصل کرسکتے ہیں:  
افکار ملّی ۔632/9ذاکرنگر،جامہ نگر،نئی دہلی110025-۔فون نمبر09718758710


 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By