GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
انمول تحفہ بیش قیمت اثاثہ
ماں باپ کے سائے کا کوئی مول نہیں ہے

والدین کے متعلق اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔جنت حاصل کرنے کے لئے صرف ماں کی خدمت ہی درکار نہیں بلکہ باپ کی خدمت بھی لازم وملزوم ہے۔ اللہ کی وحدانیت کے فوراً بعد والدین کی خدمت کا حکم اور ان کی نا فرمانی کرنے والوں کے لئے سخت وعیدیں آئی ہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے :’’ ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے ایک یا دو نوںتمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اِن کو اُف تک نہ کہو۔ اور نہ انھیںکبھی جھڑکنا، ان کے ساتھ بات ادب کے ساتھ کرنا اور عاجزی و انکساری سے ان کے آگے جھکے رہنا اور ان کے حق میں دعا کر و کہ  اے پرور دگار کہ جیسا انھوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کی تو بھی ان کے حال پر اسی طرح رحم فرما‘‘۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب حضرت علقمہؓ کا وقت ِوصال آیاتو ان کی زبان سے کلمہ نکل نہیں رہا تھا ۔ یہ واقعہ رسولِ پاک ؐ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ؐنے علقمہؓ کی والدہ کو بلایا اور فرمایا کہ علقمہؓ کو معاف کر دے۔ علقمہؓ کی والدہ ان سے ناراض تھیں۔ رسولِ پاک ؐ کا علقمہؓ کی والدہ سے اصرار کے باوجود بعد جب وہ معاف کرنے سے انکار کر گئیں توآپ ؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ لکڑیاں اکٹھی کی جائیں اور علقمہؓ کو اسی میں جلا دیا جائے۔ یہ سن کر علقمہؓ کی والدہ کی ممتا جاگ اٹھی اور بے ساختہ پکار اُٹھیں میں نے علقمہؓ کو معاف کر دیااور بخش دیا ۔ دفعتاًعلقمہؓ کی زبان سے کلمہ جاری ہو گیا۔جان کنی کے سخت ترین عالم سے نجات مل گئی اور روح پرواز کر گئی۔اللہ کے بعد جتنی بھی واجب التعظیم شخصیات ہیں تو والد کا رتبہ پہلا ہے۔ والد ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے جو اپنی ذات میں ایک انجمن ہو تا ہے۔ یہ اپنے اندر ہزار خواہشوں اور آرزوؤں کو دبا کر اپنی اولاد کے چراغِ آرزو کو روشن کردیتا ہے اور عمر بھر اسے روشن  تررکھنے کے لئے تگ و دو محنت مشقت کر تا ہے تا کہ یہ ہمیشہ فروزاں رہیں۔واقع یہ ہے کہ جب تک جب اولاد پر والدین کادست ِشفقت ہوتا ہے ،اولاد پر کسی بھی قسم کے غم اور فکر کا سایہ دور دور تک نہیں منڈلاتا   ؎
میری امی نے مجھے بانہوں میں جھولا جھولا یا ہے
مجھے ابو نے انگلی تھام کر چلنا سکھایا ہے 
میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ والد ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو اپنی اولاد کے لئے جوئے شیر لانے والا فرہاد ہوتا ہے۔ والد گھر میں ایک وسطی ستون کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ وقت کے خوفناک زلزلوں کو سہہ کر بھی جا مد کھڑا رہ کر اپنے گھر کی ایک اینٹ تک کو بھی ہلنے نہیں دیتا۔ گھر کی تمام ذمہ داریوں سے کبھی خود کو سبک دوش نہیں ہونے دیتا۔ غیرت کی تپش اُسے کسی سے مدد کا طلب گارنہیں ہو نے دیتا۔ اور اگر کسی طرف سے کوئی امید ہو تی بھی ہے تو اپنی اولا د سے ہوتی ہے ، خصوصاً اولاد ِ نرینہ یعنی بیٹے کو والد بڑھاپے میں لاٹھی کے سہارے کے طور دیکھتا ہے ۔یہ بیٹا ہی اس کا نو ر نظر نور چشم ہو تا ہے، جب کہ والد اپنے نورِ چشم کی خوشیوں کی خاطر دن رات ایک کرکے اپنے فرض کو بحسن وخوبی انجام دیتا ہے   ؎
مجھ کوتھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا ہونے نہیں دیتے
 والد گھر کے ایک وسطی ستون کی حیثیت سے جب تک یہ قائم ودائم رہتا ہے اس وقت تک اولاد زندگی کی تمام تر مشکلات اور غم و پریشانیوں سے نا واقف ہو تی ہے لیکن جب قدرت کا خوفناک اور بے رحم زلزلہ آکر اس ستون کو گر ا دیتا ہے تو اس کے گرنے سے گھر کی دیواریں تو متاثر ہوتی ہی ہیں،خاص کر اولاد ِ نرینہ اپنے ایک مخلص دوست ، رہنما، مددگار اور ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہو جاتی ہے۔زندگی کے سفر میںایک باپ اپنے بیٹے کے لئے سب سے بڑارہنما اور مدد گار ہو تا ہے جو اسے بغیر کسی معاوضے اور بنا تلخیوں اور پریشانیوں کے زندگی کی راہ پر اسے ڈالنے کے لئے اپنی کھٹنا ئیاں اور آسائشیں فراموش کرتا جاتا ہے۔اسی لئے شاعر نے خوب کہا ہے   ؎
اے ضیاءؔ ماں باپ کے سائے کی نا قدری نہ کر
دھوپ کھائے گی بہت جب یہ شجر کٹ جائیں گے
والد کی عظمت و رفعت اور بلند مرتبے کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا پیڑ ہے جو ہر موسم میں سر سبز رہتا ہے اور اپنی اولاد کو ثمر اور سایہ فراہم کرتا ہے۔ چاہے موسم کیسا بھی ہو یہ ہمیشہ پھل دار اور سایہ دار شجر کی طرح رہتا ہے اور ہو تا ہے۔ اپنی اولاد کے واسطے اس پر کبھی خزاں اور پت جڑ وارد ہی نہیں ہوتا۔یہ اپنے چمن کو خونِ جگر سے سینچتاہے اور اپنی اولاد کو کسی اونچے منصب پر دیکھنے کا خواہاں ہو تا ہے جس کے لئے یہ کئی کوہ وپہاڑکا ٹ کراپنی اولاد کی ہر خواہش اور ہر فرمائش پوری کرتا ہے، اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے   ؎
جڑی تھی اس کی ہر اک ہاں میری ہاں سے
یہ بات سچ ہے کہ میرا باپ کم نہ تھا میری ماں سے
عزیر تر وہ مجھے  رکھتا  تھا   دل  و  جاں  سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا میری ماں سے
اور میرے بغیر خواب اس کے ویراں تھے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا میری ماں سے
 یہ مضمون خاکسار خامہ ٔ اشک بار سے اپنے والد محترم مر حوم محمد اقبال قاضی کے وصال کے پس منظر میں لکھ رہا ہے تاکہ قارئین کو بتا سکوںکہ والدین خاص کر والد کتنی محنت و مشقت اور عرق ریزی سے اپنی اولاد کو تیار کرتے ہیں، ان کی محنت بے لوث ہوتی ہے ،ا س میں کسی قسم کا حر ص و طمع نہیں ہوتا، صرف ایک آرزو ہوتی ہے کہ اس کی اولاد کو بہتر طور طور طریقے سے جینے کا سلیقہ آ جائے ، وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے کسی اونچے منصب پر فا ئز ہو کر اپنا نام روشن کرلے اور خالق کائنات کو راضی کرے۔ ناچیز کے والدین خاص کر ابّا نے اپنی تمام تر خواہشات اور تمنائیں میری تعلیم پر نثار کئے ۔ میں خالقِ کا ئنات کا جتنا شکر بجا لاؤں کم ہے جو اس نے مجھ پر ایسے شفیق والد کا سایہ بنائے رکھا تھا۔والد محترم کے بارے میں جب میں نے اپنی امی جان سے ان کی وفات کے بعد ایک روز دریافت کیا امی جان! کیا ابو نے اپنی پوری عمر میں کبھی اپنے لئے کوئی نیا جوڑا سلوایا ؟ امی جان گویا ہوئیں کہ بیٹا تیرے ابّا کا اور میرا ساتھ کم و بیش تیس برس کو محیط رہا لیکن میں نے کبھی ان کو نیا جوڑا یا نیا کپڑا سلواتے نہیں دیکھا ۔ حتیٰ کہ وہ عید کے روز بھی پرانے کپڑے ہی دھوکرپہنا کرتے ، بیٹا انھوں نے اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹ کر ہم سب کی پرورش اور آبیاری کی ،وہ نہایت قناعت پسند اور کفایت شعار انسان تھے۔ دوسرے لفظوں میں میرے ہوش سنبھالنے سے لے کرتا دمِ ِمرگ ابّا نے کوئی نئی پو شاک اپنے لئے نہیں خریدی یا سلوائی۔ مجھ پر یہ تمامراز کھل گیا کہ میرے والد مرحوم نے میری اور میری تعلیم کی خاطر کتنے ارمانوں کو تیاگ دیا تھا۔میری اول جماعت سے لے کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تک کا سفر میں نے اسی مردِ مومن کی محنتوں اور شفقتوں کے سائے میں طے ہو ا۔ افسوس کہ میں بد نصیب اس قرض کی ایک آدھ پائی بھی نہ چکا سکا ۔ میں سو چتا ہوں کہ اگر وہ کچھ پل ہمارے ساتھ اور رہے ہوتے تو میں اللہ کے حضور بصد شوق سجدۂ شکر بجا لاتا کہ مجھ نا چیز کو ایسے خوش خصال والد کی خدمت کرنے کا مو قع نصیب کیا۔اس سے زیادہ میری بد نصیبی کیا ہو سکتی کہ میری ڈاکڑیٹ مکمل ہونے کے بعد ہی والد صاحب کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور ہمیں سب ڈسٹرک اہسپتال بھدرواہ کے ڈاکٹروں نے انہیں مزید علاج و معالجہ کے لئے کشمیر لے جانے کا مشورہ دیا ۔ تمام دوست و احباب و رشتہ دار اس پریشانی کے وقت ہمارے ساتھ رہے اور خصوصاً میرے ماموںجان انجینٔر غلام محمد قاضی نے اس مشکل گھڑی میںنہ صرف میری ڈھارس بندھائی بلکہ ہمارے ہمراہ کشمیر بھی آئے ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بُرے وقتوں پر خاص رشتہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے لیکن انھوں نے نہ صرف اس مشکل گھڑی میں ہماری ہمت بڑھائی بلکہ  سخنے دامے درمے جہاں تک ممکن ہو سکا ہمارا خیال رکھا ۔ ہم والد صاحب کو لے کر صورہ سری نگرانسٹی چیوٹ پہنچے ، یہاں ڈاکٹروں سے پتہ چلا کہ والد صاحب کو پھیپھڑے کے کینسر کاچوتھا اسٹیج ہے اور Metastasis  پھیلا ہوا ہے۔ میری ڈیوٹی اس وقت ضلع کشٹواڑ گورنمنٹ ڈگری کا لج مڑواہ میںتھی۔ والد صاحب کی اس جان لیوابیماری کے انکشاف کے بعد میں نے مڑواہ سے تبادلہ کروا کے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھدرواہ میں جوائن کیا ہی تھا کہ چند ہی دنوں میں موصوف ہمیں ہمیشہ کے لئے داغِ مفارقت دے گئے اور ہم کف ِ افسوس ملنے  کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ اللہ کی مرضی کے سامنے کس کی چلتی ہے ۔
مجھے فخر ہے کہ میرے والد محترم اوصافِ حمیدہ اور حق گوئی کے پیکر تھے۔ انہی اعلیٰ اقدار کی تبلیغ اور تاکید ابّاہمیشہ خاص کر میرے سامنے کیاکرتے تھے، خود داری اور خود اعتمادی کی تعلیم دیتے تھے۔ حق گوئی کا درس دینے والے کبھی مرتے نہیں اور چوں کہ میرے والد صاحب درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ معلم ہونے کے ناطے ہمیں ہمیشہ حق گوئی وبے باکی کی تعلیم دیتے رہتے۔ اپنے طالب علموں کو بھی اس کا درس دیتے ، لہٰذا یہ خوش اخلاق لوگ ہمیشہ نہ صرف اپنی اولاد بلکہ اپنے طالب علموں اور شاگردوں کی عمدہ عادات و اطوار سے چھلکتے رہتے ہیں اور انہیں اچھے کاموں اور اچھی پہچان کی بدولت یا د کرتے ہیں ۔ والد محترم شاعر مشرق علامہ اقبالؒ سے بہت زیادہ متاثر تھیْ ان کی موت پر ہم سب غم زدہ اور سوگوار ہیں مگر شاعرِ مشرق کا یہ شعر ہمیں دلاسہ دیتا ہے  ؎
موت کو سمجھے ہے غافل اختتام ِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوامِ زندگی
مجھے یا د ہے کہ ایک بار مجھے مرحوم والد محترم نے اس شعر کی شرح یوں سمجھائی کہ کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں  بلکہ ایک شام ہے اور شام کے بعد صبح دوام ضرور طلوع ہوتی ہے جس کی روشنی میں انسان اپنے اعمال کا ابدی پھل پاتاہے ۔اقبال ؔ نے اس سلسلے کو صبحِ دوام یعنی حیاتِ جاودانی سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ خیال موت کے بارے میں اسلامی عقائد کی روح میں پیوست ہے۔ دعاہے کہ اللہ میرے والد صاحب کے تمام گناہوں، خطاؤں ، لغزشوں کو معاف کرے اور ان کی مغفرت کرکے جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ نصیب کرے ، مجھے ان کے نقش ِقدم پر چلنے کی توفیق دے رکھے اور جو ذمے داریاں وہ مجھے سونپ گئے ہیں ان کو بخوبی نبھانے کی توفیق نصیب کرے اور مجھے ان کے ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنائے (آمین)۔ جتنا میں ان لمحات میںکھوئے جاتا ہوں جو اپنے والد مرحوم کے ساتھ گزارے ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ یہ ان کی شفقت ومحبت تھی کہ ہیچ مندمیںگھر میں ایک  شہزادے کی مانند زندگی کی صبحیں اور شامیں گزارتا ۔ انسان زندگی کے ا بتدائی حصے میں ماں کے آنچل اور باپ کے سائے میں پلتا بڑھتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز سے بے بہرہ ہو تا ہے ، پھر جب اس کا واسطہ دنیا والوں سے پڑتا ہے تب دنیا کی تلخ سچائیوںکا پتہ چلتاہے ، بالخصوص جب اس آنچل اور محروم تنہاہوکر شاہراہِ حیات پر سفر کو چل نکلتا ہے۔ آج میں زندگی کے سفر میں اپنے والد  کے سائے سے محروم ہوں مگر اُن کی یادیں ، اُن کی نصیحتیں ، اُن کی محبوب قدریں ، ا ُن کی سیکھ اور ان کی نیک نامی میرے ہمقدم ہیں ، اگرچہ ان کی دائمی جدائی کا زخم بھی ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ اس زخم کو جتنا کریدا جائے اتنا ہی دل وجگر زیادہ دُکھتا ہے۔ ایک اولاد پروالدین کا سایہ سر سے اٹھ جانا دنیا کا سب سے بڑا نقصان ہے جس کی بھرپائی کسی صورت ممکن نہیں۔  اب یہ اس اولاد کا فرض بنتا ہے کہ زندگی میں اپنے ماں باپ کی دل سے قدر کرے ، جب وہ دنیا چھوڑ جائیں تو ان کے لئے ہمیشہ دست بدعا رہے اور ان کی نیک نامیوں میں اپنے اچھے قول فعل کی متاع سے اضافے کا باعث بنے ۔
9419260267
9797355458

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By