GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
عثمان مجید اور نور محمد کی لڑائی تیسرے دن بھی جاری
ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی بوچھاڑکردی

جموں//کانگریس کے ممبر اسمبلی بانڈی پورہ عثمان مجید اور پی ڈی پی کے ممبراسمبلی بٹہ مالو نور محمد شیخ کے درمیان پیر کے روز سے شروع ہوئی لڑائی بدھ کو تیسرے دن بھی جاری رہی جس دوران دونوں ممبران نے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ۔حالانکہ منگل کے روز عثمان مجید نے اپنے اوپر لگے الزامات پر تحریک استحقاق پیش کی لیکن اس کے باوجود دونوں ممبران کے درمیان زبردست لفظی جنگ ہوئی جس میں دیگر ممبران نے بھی اپنی اپنی پارٹی کے کارکنان کی حمایت کی ۔وقفہ صفر کے دوران جب پوری اپوزیشن ایوان سے باہر تھی توپی ڈی پی رکن نور محمد شیخ نے اپنی نشست سے کھڑے ہوکر کہاکہ انہیں عثمان مجید نے قتل کرنے کی دھمکیاں دی ہیں ۔انہوںنے اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا’’مجھے عثمان نے قتل کی دھمکی دی کہ آپ باہر نکلو میں آپ کو قتل کروں گا،آپ اس ایوان کے سربراہ ہیں اس کا نوٹس لیں ‘‘۔نور محمد کی حمایت میں پی ڈی پی کے دیگر ارکان بھی اٹھ کھڑ ے ہوگئے ۔موصوف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا’’مجھے خدشہ ہے کہ یہ پہلے ملی ٹینٹ رہا، پھر اخوان کے ساتھ رہا ،پاکستان گیا ،وہاںسے بندوق لائی اور گرفتار بھی رہا ،یہ کوکہ پرے کے ساتھ مل گئے اوراخوان نے مجھے دوبار اغوا کیا،تب کوکہ پرے اخوان کے چیف اور عثمان مجید ڈپٹی چیف تھے‘‘۔انہوںنے مزید کہا’’ایک بار میر ے باپ سے ایک لاکھ روپے لیکر چھوڑا گیا،اگر میرے باپ کے پاس پیسہ نہیں ہوتاتو نہ جانے میں بھی میرا ہواہوتا‘‘۔انہوںنے کہاکہ ایک ایم ایل اے کی زبان سے یہ بات نہیں نکلنی چاہئے ،تین چار بار کہاکہ آپ باہر نکلو میں آپ کو قتل کروںگا۔نور محمد بات کررہی رہے تھے کہ عثمان مجیدجو اس وقت تک ایوان سے باہر تھے ، واپس ایوان میں آئے اور الزامات کا جواب دینے کیلئے اجازت مانگنے لگے ۔اس دوران اپوزیشن کے دیگر ممبران بھی ایوان میں پہنچ گئے اور کانگریس ارکان نے عثمان مجید کی حمایت میں بولتے ہوئے اسپیکر سے اپیل کی کہ ایک ممبر نے ان پر الزامات عائد کئے ہیں، اس لئے انہیں بھی اس کا جواب دینے کا وقت دیاجائے ۔پی ڈی پی اور کانگریس ارکان کے بیچ کافی دیر تک زبردست تلخ کلامی اور نوک جھوک کے بعد عثمان مجید کو بولنے کی اجازت دی گئی ۔انہوںنے اپنے اوپر لگے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے نور محمد شیخ سے مخاطب ہوکر کہا’’ہاں میں اخوان کا ڈپٹی چیف تھا ،اس میں کوئی دورائے نہیںلیکن آپ اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں ‘‘۔شورشرابے کے بیچ عثمان مجید نے اسپیکر سے کہا’’ آپ ملی ٹینٹوں کی بات سن رہے ہو،میری بات نہیںسنتے ،میری عدم موجودگی میں اس کو بولنے کا موقعہ دیا اور اب مجھے نہیں دے رہے ‘‘۔ان کامزید کہناتھاکہ انہوںنے ممبر موصوف کے خلاف تحریک استحقاق لائی ہے اور اب سب پتہ چل جائے گا کہ کس نے کیا بولاہے ۔تاہم انہوںنے کہاکہ اگر انہوںنے مارنے کا بولاہے تو وہ یہ الفاظ واپس لیںگے ۔انہوںنے نور محمد شیخ سے مخاطب ہوکر کہا’’یہ مجھے نہیںپتہ کہ یہ کہاں کارہنے والاہے ، میں اس کوآج تک نہیں جانتا،جب یہ ایم ایل اے بناتو ایک ماہ بعد مجھے پتہ چلاکہ یہ ایم ایل اے ہے ،شائد یہ ملی ٹینٹ ہوتااسی لئے اس کو کسی نے اٹھایا‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہاں۔میں پاکستان گیا میں نے بندوق لائی ‘‘۔تاہم انہوںنے کہاکہ وہ سوچ رہے تھے کہ کشمیریوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن جب دیکھاکہ یہاں سیاسی مسئلہ ہے تو انہوںنے وہ راستہ ترک کردیا ۔انہوں نے پی ڈی پی ارکان کو مکار کہتے ہوئے کہا’’ آپ لوگ مکار ہو ، آپ نے کشمیریوں کو پھر دلدل میں ڈال دیا‘‘۔انہوںنے کہاکہ انہیں سب پتہ ہے کہ کون کیا ہے ۔اس دوران نور محمد اور عثمان کے بیچ نوک جھونک کا سلسلہ چلتارہا اور دونوں ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات لگاتے رہے ۔بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئر عبدالرشید نے کہاکہ نور محمدصاحب کافی شریف النفس انسان ہیں جبکہ عثمان صاحب کا پتہ ہے کہ وہ ملی ٹینٹ تھے لیکن ان کا پی ڈی پی والوںسے یہ سوال ہے کہ انہوںنے 2002میں اخوانیوں کو وزیر بنایا اور ان کے ساتھ مل کر حکومت بنائی لہٰذ انہیں معافی مانگنی چاہئے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By