GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
سمجھ دار دُلہن
سسرالیوں کی چہیتی

 کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو کچھ اس طرح بنایا ہے کہ وہ باآسانی مختلف اقسام کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ یہ خوبی مردوں میں ذرا کم پائی جاتی ہے ،شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایک لڑکی کو ہی اپنے بابل کا در چھوڑ کر پیا کے گھر جانا ہوتا ہے ،جہاں ایک نئے ہم سفر کے ساتھ ساتھ نیا گھر ،نئے رشتے اور نئے رسم و رواج اس کے منتظر ہوتے ہیں۔گویا کہ ایک لڑکی اپنے ساجن کی خاطر سب کو چھوڑ کر اس نئی دنیا میں آبستی ہے ۔اس لئے ہر لڑکی، دلہن وہی جو پیا من بھائے کی تفسیر بننے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔خو دسجنا اور اپنے گھر کو سنوارنا، شوہر کی پسند و ناپسند کے مطابق اوڑھنا بچھونا غرض یہ کہ شوہر کو اپنا گرویدہ کرنے کے لئے ایک لڑکی اپنا سب کچھ وارد کرتی ہے ،جو کہ بلا شبہ ایک اچھی بیوی کی خصوصیت ہے۔
لیکن تصویر کا ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ نیک اطوار اور سمجھدار لڑکیاں محض اس پر اکتفا نہیں کرتیں،بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ وہ اپنے سسرالیوں کو بھی اپنا بنانے کی سعی میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ میاں بیوی کا یہ خوبصورت رشتہ دعائوں سے ہی پنپتا ہے ۔وہ اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہی اس کی گرہستی کو کامیابی سے چلانے میں معاون و مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔ایک لڑکی کو اپنے سسرال میں جس ہستی کی کمی سب سے زیادہ محسوس وتی ہے ،وہ یقیناً اس کی ماں ہوتی ہے ۔میکے میں ’امی،امی‘پکارنے والی زبان سسرال میں داخل ہوکر ’’امی جان‘‘کہہ کر اپنی ساس کو مخاطب کرتی ہے مگر صرف زبان سے ہی کہہ دینا کافی نہیں ۔ہم آپ سے یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اپنی ساس کو اپنی ماں سمجھیں کیونکہ در حقیقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی ساس کو اپنی ماں سے بڑھ کر سمجھیں کیونکہ ہر سسرالی رشتہ آپ سے یہی توقع کرتا ہے کہ آپ ا نہیںاپنے گھر والوں سے بڑھ کر چاہیں اور اہمیت دیں۔شوہر سے وابستہ ہر رشتے کو اس کی اہمیت کے مطابق عزت و احترام اور فوقیت دیں۔ساس ،سسر کی خدمت کریں ،نندوں ،جیٹھانیوں اور دیورانیوں سے بہنوں جیسا سلوک کریں ۔اپنے جیٹھ ،دیور اور نندئی کو بھائیوں جیسا احترام دیں ۔سسرال میں بڑوں کی خدمت اور چھوٹوں سے محبت و شفقت کو اپنا شعار بنائیں۔
میکے والوں کی طرح سسرالیوں کے ساتھ بھی اسی طرح مل بیٹھنے اور وقت گزارئے۔اپنے پیاکی مرضی کے مطابق قریبی سسرالیوں کے ساتھ گھومنے پھرنے اور خریداری وغیرہ کے پروگرام ترتیب دیجئے ،جس سے اپنائیت کے خو کی بو آئے ،اپنے سسرالی رشتے داروں کے بچوں پر بھی خصوصی توجہ دیجئے کہ بچے تو ہر حال میں اس کے حقدار ہیں۔سسرالیوں کی زندگیوں کے خوشگوار اور ناخوشگوار دنوں کو یاد رکھئے ۔ خوشی و غمی کے موقعوں پر اپنی شرکت یقینی بنائیں۔
سسرالی تقریبات میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیجئے ،پھر سسرال کے اچھے رنگ ڈھنگ اور طور اطوار جلد سیکھنے کی کوشش کریں اور انہیں توجہ اور محبت کے ساتھ اپنائے تاکہ پہلی نظر میں کوئی باہر والا آپ کو اس نئے گھر کی بہو نہیں بیٹی سمجھے۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ سسرالی رشتے داروں سے اپنے میکے والوں کی طر ح کا میل جول رکھیںگی۔اس کے ساتھ یہ خیال رکھیں کہ ایک دم سے بہت زیادہ آگے نہ بڑھ جائیں کیونکہ بہت سے گھرانوں میں بہوئوں کا اتنے جلدی آگے بڑھنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔اس لئے بہتر ہے کہ دھیرے دھیرے اور سامنے والے کے مزاج ،طبیعت اور دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھیں،جیسے فون پر خیر خبر رکھ رہی ہیں ،تو ایسا نہ ہو کہ آپ کی مخاطب یہ سمجھنے لگیں کہ آپ ہر وقت ان کی ٹوہ میں لگی ہوئی ہیں یا ان کے ذاتی معاملات یا گھر میں بے جا مداخلت کی مرتکب ہورہی ہیں ۔بس ان باتوں کا خیال رکھئے اور تھوڑی سی سمجھداری اور محبت و خلوص کے ساتھ چلئے ،پھر دیکھئے کہ جہاںپیا کے من پرآپ کا راج ہوگا وہیں آپ تمام سسرالیوں کی چہیتی بن جائے گی۔


 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By