GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
مسلم اکثریتی کردار پر ایک اوریلغار
آگے خنجر پیچھے نشتر ہم کدھر جائیں

کشمیرکی سیاسی صورت حال دیکھ کردل خون کے آنسورونے پرمجبورہے ۔ یہاںشش جہت زہرناک سازشیں بام عروج پرہیں۔ ایک طرف بھارت کے سابق وزیرخارجہ اوربی جے پی کے رکن یشونت سنہااور سابق مرکزی وزیر کمل مراروادی میں اپنے دوروں کے حوالے سے میڈیاکے سامنے لوریاں سنا کر اورلولی پاپ دکھادکھاکرتھک نہیں رہے ہیںتو دوسری طرف بھارتی عدلیہ اور انتظامیہ کی طرف سے اہل کشمیرکی پیٹھ میں خنجرگھونپاجارہاہے۔ ایک طرف وردی پوشوںکے ہاتھوں نوجوانان ِ کشمیرکی فصل بے دریغ کاٹی جارہی ہے اورنئی نسل کے خلاف خونین وارداتیں جاری ہیں ،دوسری طرف زغفرانی بریگیڈپی ڈی پی کے کندھوں پرپوری طرح سوارہوکرریاست جموں و کشمیر سے مسلم شناخت وانفرادیت کا ایک ایک پہلو چھین رہی ہے ۔یہ سارا گورکھ دھندا ایک ایسا زہر ناک منصوبہ نظرآرہاہے جو کشمیر پر سترسال سے حملہ آور اغیار کا آخری داؤ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف کشمیریوںکے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے ان کی جانیں لی جا رہی ہیں، معصوم بچوں کو پیلٹ گن سے اندھا کیاجارہا ہے ، نوجوانوں پربدنام زمانہ ایکٹ نافذکرکے انہیںعقوبت خانوں اور جیلوں میںٹھونساجارہاہے ، گھروں کو لوٹا جارہاہے ، بستیاں اجاڑی جارہی ہیں اور دوسری طرف کشمیر کی مسلم شناخت پر سنگھ پریوار کی چومکھی جنگ جاری ہے ۔ پانچ مہینوں میں ہوئے جا ںگسل واقعات اوردل دہلانے والے سانحات کی خوفناک تاریخ کاورق ورق پھر یہ گواہی دے رہاہے کہ دلی نے کشمیریوں کو کبھی اپنا اٹوٹ نہیں جانا بلکہ کشمیر کی بربادی اوراُ سے وسیع وعریض قبرستان میں تبدیل کر نے کو اپنا اٹوٹ ایجنڈا ماناہے۔ کشمیر کی بنیادیں مٹانے ، اسے نیست ونابوداور تہس نہس کرنے کا کام شدومدسے جاری ہے جس کی پشت پناہی میں پی ڈی پی دلی کو اپنے شانے پیش کر رہی ہے ۔
ابھی حال ہی میں ایوانِ عدل کی طرف سے کشمیر کو مستقل طورپر غلامی اور محکومی میں دینے کا فتویٰ منظر عام پر آیا ہے جو انڈین آئین اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے ۔ اس فیصلے کی سیاہی پوری طرح خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ ریاستی سرکارکی طرف سے جموںمیں قیام پذیرغیرریاستی باشندگان کوریاست کاباشندہ قراردینے کاجبری اورناجائزفیصلہ اقدام بے نقاب ہوا۔اس طرح زعفرانی حکومت پی ڈی پی کے سہارے ریاست جموںو کشمیرکی بنیادوں پر تیشہ چلاکرپتہ نہیں کہاں سے لائے گئے ہندومائیگرینٹس ،جنہیں ریاست کشمیرسے کوئی تعلق یاواسطہ نہیں، کو شناختی حقو ق اور اقامتی اجازت نامے  دے کر  سرکاری سطح پر انہیں فی الحال جموں میں بسا رہی ہے ۔ متنازعہ ریاست میںا ن کی باز آباد کاری کے قابل اعتراض عمل سے ریاست کی غالب مسلم اکثریت کوپیچ وتاب میںہے۔ اس ناقابل بیان صورتحال سے صاف دکھائی دے رہاہے کہ وہ ناپاک ،شرمناک اورمذموم منصوبہ جس پرمدت سے اندر ہی ا ندر مخلوط حکومت کام کررہی تھی وہ کتنا گھناؤنا ہے ۔ یہ منصوبہ حکو مت کی جانب سے اگست کے مہینے میں ا ُس وقت شروع زیرعمل لایا گیا تھا جب سارا کشمیر عوامی ایجی ٹیشن کی آگ میں جل رہا تھا ۔ غرض آج تک جس دلی کو یہ متنازعہ کام کرانے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی وہ آج بی جے پی نے پی ڈی پی کومدہوشی کی دوائی کھلا کروایا۔ ریاستی حکومت کا ترجمان اور وزیرخزانہ دونو مل کر لاکھ تو جیہات اور معذرت خواہیاں کر کے اس زہر کو کشمیر یوں کو حلق کے نیچے اتارنے کے لئے کو ئی بھی لن ترانیاں کریں مگر حقیقتیں کسی کی کذب بیانی یا خیالی جنتوں سے بدل نہیں سکتیں۔ نئی دلی اپنے کشمیر مخالف ایجنڈے جس میں ریاست کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنااورریاست کی مسلم اکثریت کی شناخت کوختم کرنا ہمیشہ سرفہرست رہا ہے،نافذکرنے میں عدالت، سیاست، صحافت، دھونس، دباؤ اور ظلم وجبر کے علاوہ کرسی کا وقتی لالچ دے کرا پنا کام کروارہی ہے ۔ اب مغربی پاکستان کے لاکھوں ہندوپناہ گزینوں اور انڈیا کے دوسرے علاقوں غیر قانونی طور بسائے گئے ہندوؤں کو ریاست جموں وکشمیرکی شہریت بتدریج دئے جانے کا اقدام اسی پلاننگ کاعکاس ہے ۔  ثبوت وشواہدکے ساتھ یہ اس سازش کوطشت از بام کرتاہے کہ جس کے ذریعے سے فرقہ پرست زعفرانی اورترشولی پریوار اپناسارازورلگاتی چلی آرہی تھی مگر اسے تب کامیابی ملی جب اسے ’’وژن رکھنے والے کشمیر کی امن ، خوشحالی، وقار ‘‘ کے متوالوں کی کرسی غلام ٹولی کے ہاتھ کا ساتھ ملا۔
 دسمبر21؍بدھ 2016کوسری نگرکے اخبارات نے ریاستی سرکارکی اس ناپاک سازش کو طشت از بام کردیاکہ ریاستی سرکارنے چوری چھپے ایک انتہائی متنازعہ ترین فیصلے کے تحت پاکستان سے آئے ہوئے ہندومائیگرینٹس کے حق میں اقامتی اسناد(Domicilie certificate) جاری کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ،جن میں لکھا جاتاہے کہ یہ لوگ جموں وکشمیر میں رہتے ہیں ۔ اگرچہ پی ڈی پی کے ترجمان نے آئیں بائیں شائیںاور زبان کااُلٹ پھیرکرکے اس کی تردیدکی لیکن اس کاٹریک ریکارڈ درست نہ ہونے کے باعث بات کی تردیدکرناہی بتلارہاہے کہ کن کے ہاتھوں یہ کام انجام پاچکاہے۔کشمیرکی بھارت نوازحکمران جماعتیں جس طرح مسلم اکثر یتی کشمیرکے مستقبل سے ایک سے بڑھ کرایک وارکررہی ہیں،وہ ناقابل برداشت اور ناقابل یقین بھی ہے ۔ ہندومائیگرینٹس کے حق میں تازہ اقدام اسی جنگ کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔بھارت نوازجماعتوں میں سے کل حکمران پارٹی نے پہلگام میں امرناتھ نگر کے نام پر غیرریاستی باشندوںاور افواجِ ہند کو کشمیرکی اراضی کی فروختگی کے گل کھلائے اورآج یہ لاکھوں ہندومائیگرینٹس کوریاست کا سٹیٹ سبجیکٹ سند الفاظ کا ہیر پھیر کر کے اجراء کرکے نئے گل کھلارہی ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو غبی اور ناسمجھ کر جان ببانگ ِ دہل کہہ رہی ہے کوئی فکر وتشویش کی کوئی ضرورت نہیں ، ان اسناد سے شر نارتھیوں کا اسٹیٹس بدلتا نہیں ، بالفاظ دیگر چوری اور اس پر سینہ زوری کر کے یہ لوگ اس نامرادسازش کوعملی جامہ پہنانے کے لئے شاطرانہ چالیں چل ر ہے ہیں جس کا خواب جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھر جی نے دیکھا تھا ، مر حبا ہو بھاجپا کے ریاستی صدر کا کہ انہوں نے راست گوئی کی اور کہا شرنارتھیوں کو دئے جانے والے اسناد کو شروعات سمجھئے اور آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا ۔ اس کے علی الرغم پی ڈی پی کو یہ اخلاقی جرأت  نہیں کہ یہ کہہ دے اصل بات یہ ہے کہ ہم کرسی کے لئے دلی کا ڈکٹیشن ماننے پر مجبور ہیں ۔ اس کھلی سازش کے تحت جموں خطہ کی غیرمسلم ڈوگرہ آبادی کو بھی وقتی فائدہ پہنچانے کی کوششیں ہورہی ہیں ، حالانکہ اس پالیسی کا طویل المدتی ناکارہ اثر اہل کشمیر کے علاوہ جموی آبادی پر اور لداخیوں پر بھی پڑنے و الا ہے ۔ بہرحال پہلے کے المیوں کی طرح یہ المیہ بھی ریاست جموںوکشمیرمیں مسلمانوںکی شرح آبادی  بتدریج کم کرنے پر منتج ہوگا مگر پہلے ہی کی مانند اس کے لئے  کشمیری وظیفہ خواروں کے ہاتھ ہی  دلی کی کلہاڑی کادستہ دستیاب بن رہاہے ۔پی ڈی پی سے غیر ریاستی ہندومائیگرینٹس کو Domicilie certificate   جواز دینے اورجاری کئے جانے کے عمل سے دانستہ طور اپنے’’  اقتداری وژن ‘ ‘ کے عین مطابق ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت کے خلاف ایک سازشی مہرے کا کردا رادا کرنے کا بین ثبوت پیش کررہی ہے اور اپنے بیس کیمپ کشمیرہی کی شناخت پر تیغ و تبر چلارہی ہے۔ سری نگرسے شائع ہونے والے اخبارات کے ذریعے اس حوالے سے جواطلاعات اور معلومات اب تک سامنے آئی ہیں ، ان کے مطابق دلی کے حکم نامے پر ریاستی سرکار نے جموں ریجن میںمحکمہ مال سے وابستہ نائب تحصیلداروں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جموں میں عارضی طورپرقیام کرنے والے ان مائیگرنٹس کے حق میں مستقل اقامتی اسناد جاری کریں اور ان پر یہ لکھا جائے کہ یہ لوگ پاکستان سے آئے ہیں اور فی الوقت جموں وکشمیر میں فلاں پتہ پر رہ بس رہے ہیں۔اس سلسلے میں صوبائی کمشنر جموںڈاکٹر پون کوتوال نے ذرائع ابلاغ کو ایسی اسناد جاری کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہندومائیگرینٹس کو مر کزی حکومت کی نوکریوں کیلئے درخواستیں دینے میںکافی مشکلات کا سامنا تھا۔ڈاکٹر کوتوال کا مزید کہناتھاحکومت ہند نے ایک طریقہ کھوج لیا اور ریاستی حکومت کے نام ایک ہدایت نامہ جاری کردیا کہ وہ ان مائیگرینٹس کے حق میں ایک مخصوص فارمیٹ پر اسناد جاری کریں جس میں یہ لکھا گیا ہو کہ یہ جموں وکشمیر میں رہتے ہیں۔بی جے پی جو جموں میں قیام پذیر ہندومائیگرینٹس کو ریاست کی شہریت اور حق رائے دہندگی دلانے کے لئے سیاسی دلالی اور مکروفریب چلاتی رہی ہے،کاکہناہے کہ متذکرہ بالا اسناد کی اجرائی محض شروعات ہے اور ان رفیوجیوں کے تمام مسائل جس میں ریاست کی مستقل شہریت اور ووٹ دینے کا اختیار وغیرہ شامل ہیں، مرحلہ وار ڈھنگ سے حل کر لئے جائیں گے۔ قارئین کرام کواچھی طرح سے یادہوگاکہ بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران ہیرا نگر جموںمیں منعقدہ عوامی ریلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگالی ہندومائیگرینٹس کا مسئلہ انسانی بنیادوں پرحل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے انہیں ووٹ کا حق اور شہریت دئیے جانے پر زور دیا تھا۔ مودی جی کے اس خاکے میں اب جب رنگ بھردیاگیاتواسے جائزقراردینے کے لئے بھاجپا کے ریاستی صدر ست شرما نے بتایا کہ یہ قدم رفیوجیوں کی بقاء کے لئے ضروری تھا۔ہندومائیگرینٹس کو سرکار کی طرف سے مستقل اقامتی اسناد کی فراہمی ان خدشات پرمہر تصدیق ہے جو مسلمانانِ کشمیرکومودی کی ہیرانگرکی تقریرکے وقت سے ہی سے لاحق تھے۔سوال یہ ہے کہ اگر بھارت ہندومائیگرینٹس کو بسانا ہی چاہتا ہے تو اس کے پاس تو27سے زائد ریاستیں ہیں وہ ان کو کہیں اور بسا سکتا ہے ۔ جموں کشمیرکی متنازعہ ریاست سے ان ہندومائیگرینٹس کاکیالینادینا؟دراصل ریاست جموں و کشمیر میں ان کو بسا کر بھاجپا ایجنڈامزید عریاں ہوچکا ہے۔ جموں وکشمیر ایک متناز ریاست ہے اور جب تک اس کے سیاسی مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوتا ،یہاں کسی بھی قسم کی غیر ملکی شہریوں کی باز آبادکاری ہو ہی نہیں سکتی ۔ اس لئے حکومتی فیصلے کے خلاف جموں و کشمیر کے عوام ایک ہوکرمزاحمت کرنے پر مجبور کئے گئے ہیں۔کیونکہ یہ ر است طور ریاست مسلم اکثریتی کردار پر حملہ ہے۔ کشمیر قوم دہلی اور ریاستی حکمرانوں کی اس شرارت کامطلب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔وہ ٹھیک طورپراس بات کوجانتے ہیں کہ ان لاکھوں غیرریاستی باشندگان کو عبوری شہریت دینا اور ملازمتوں میں بھرتی کرناریاست جموں وکشمیرکی مسلم شناخت کیلئے سم قاتل ہے ۔ اس لئے وہ اپنے سروں پر مسلط پانی ، نالی ، سڑک اور نوکری کے نام پر بر سر اقتدار آنے والے حکمرانوںکو واضح پیغام دینے پرکمربستہ ہیں کہ کسی بھارت نواز لیڈر یا اس کی جماعت کے ذاتی اور خاندانی مراعات دے کر چپ تو کرایا جاسکتا ہے، لیکن ایسی دھوکہ دہی ،مکاری اورفریب کاری سے پوری قوم کو زیادہ دیر تک ورغلایا نہیںجاسکتا۔بہرکیف!دردنہاں سے جوٹیسیں اٹھ رہی ہیںانہیں کن الفاظ میںبیان کیاجائے بڑامشکل ہے ،مختصر عرض ہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر مسلمہ ایک دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے اورکسی عدلیہ یا مقننہ وانتظامیہ کو یہ حق یا اختیارہرگزحاصل نہیں کہ وہ اس پر کوئی ایسا عمل یا فیصلہ کر ے جومسئلہ کی روح سے صریحاََمتصادم اورمتخاصم ہو۔ اس مسئلہ کی پشت پر کوئی ایجنڈا آف الائنس کا نمائشی وژن نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہیں، انڈین اورعالمی لیڈوں کی کمٹمنٹ ہے اور سب سے بڑھ کر 70سال سے کشمیریوںکابہتا ہوا لہو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ خطہ ارض پرکسی بھی قسم کی زبردستی، مکاری اور فریب کاری سے ہڑپ نہیں کی جا سکتی ۔ واضح رہے کہ ریاستی عوام کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مہاراجہ ہر ی سنگھ نے 1927میں سٹیٹ سبجیکٹ قوانین متعارف کروائے تھے ۔حالانکہ اس وقت ان قوانین کا مطالبہ ریاست کے مسلمانوںنے نہیں کیا تھا بلکہ جموں کے ڈوگروں کو غیر ریاستی پنجابی مسلموں سے اندیشہ تھا کہ وہ یہاں کی انتظامی مشنری اور معیشت پر قابض ہو جائیں گے۔ مہاراجہ نے 90؍سال قبل جس قانون کومحض ڈوگرہ خواہش پربنایاتھا،آج   فرقہ پرست تلوار یںاور ترشول لے کر ریاست کے اکثریتی کردار کی تکا بوٹی کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن انہیں جان لیناچاہئے کہ خوف ودہشت کی بنیاد پر اور اقتداری لالچوں کے عوض مکرو فریب کے حربوں کو عملانے والوں کے مکروہ عزائم کوکشمیرکے مسلمان پنپنے نہیں دیںگے، چاہے انہیں قربانیوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر پاٹنے پڑیں ۔ 

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By