GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
بے لگام فضائی کمپنیاں…… مسافروں کا کوئی پُر سان حال نہیں !


وادیٔ کشمیر کیلئے موسم سرما جہاں قدرت کی ایک حسین دین ہے وہیں اسکے اثرات سے عام لوگوں کو مشکلات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ جہاں بجلی اور پانی کے ترسیلی نظام میں روکاوٹیں پید اہونے کے بہ سبب سرد اور کٹھن راتوں میں لوگوں کو تکالیف سہنا پڑتی ہیں، وہیں چھوٹے بڑے سڑک رابطے بھی درہم برہم ہو جاتے ہیں، جو عبور و مرور میں مشکلات پیدا ہونے کے سبب عام لوگوں پر نہایت ہی بھاری پڑتے ہیں ، تاہم انسانی کوششوں اور ہمدردانہ جذبات کو روبہ عمل لا کر سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ان مشکلات کا ازالہ کرنے کی کوششیں کرکے پیچیدہ حالات پر قابو پایا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جس طرح ہر مشکل کا حل انسانی کوششوں میں مضمر ہے اُسی طرح مشکلات میں اضافہ کے لئے بھی انسانی کوششیں ہی ذمہ دار ہو تی ہیں۔ یہ بات خصوصیت کے ساتھ کشمیر میں اُس وقت دیکھنے کو ملتی ہے ، جب بارش یا برفباری کی وجہ سے سرینگر جموں شاہراہ بند ہو جاتی ہے اور بیرونی دنیا کے ساتھ وادی کے رابطے کا سارا دار و مدار فضائی سروس تک محدد ہو کر رہ جاتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہوتاہے ، جہاں عام کشمیری کو خدمات کی فراہمی کے نام پر ناکون چنے چبوائے جاتے ہیں، کیونکہ صرف ایک دن پہلے کے شرح کرایہ میں راتوں رات کئی کئی گنا اضافہ کیا جاتا ہے اور مختلف ائر لائنز کمپنیاں اپنا من مانا شرح کرایہ مقرر کرکے عام لوگوں کے لئے مصائب کے پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ عین سہی صورتحال گزشتہ دنوں اُس وقت دیکھنے کو ملی جب ائر لائنز کمپنیوں نے راتوں رات دہلی سرینگر اور جموں سرینگر سفر کیلئے کرایہ میں چار گنا اضافہ کیا۔ دہلی سرینگر کیلئے کرایہ جو عام طور پر پانچ ہزار روپیکے آس پاس ہوتا ہے یکا یک 16ہزار روپے تک پہنچ گیا،جبکہ کئی اوقات پر یہ 25ہزار روپے تک بھی چلا گیا۔ اس کھلم کھلا دھاندلی پر اگر چہ عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اسکا نہ تو کوئی نوٹس لیا گیا اور نہ ہی کوئی ردعمل سامنے آیا۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ، جو اکثر معاملات پر ٹیوٹ کے ذریعہ اپنی رائے ظاہرکرتے رہتے ہیں ، نے اپنے ٹیوٹ میں اسے ’’ دن دہاڑے ڈاکہ ذنی‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ائر لائنز کی جانب سے من مانے کرائے مقرر کئے جانے کی وجہ سے کشمیر کو ہر وقت نقصانات کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ وہ موسم کی خرابی کے بہ سبب زمینی رابطے کا انقطاع ہو یا بہار و گرمی کے موسم میں سیاحتی سیزن کا عروج ۔ جب بھی کشمیر کیلئے ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ائر لائنز کمپنیاں من مانے کرائے مقرر کرکے مشکلات پیدا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ایک عام آدمی کا سوال ہے کہ سیاحتی سیزن کے عروج پر جو کرایہ کشمیر کیلئے مقرر ہوتاہے، اکثر بیرون ملک نزدیکی منزلوں کے لئے اس سے کم کرایہ وصول کیا جاتا ہے ،تو کیا ایسے حالات میں سیاحوں کی ترجیحات تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ وہ سستے داموں میں دوبئی وغیرہ جانا پسند نہ کریں۔ دوسر ی اہم بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں کو جانے والی ہوائی سروس کے کرایوں میں کس فیصد کے حساب سے اتار چڑھا ئو ہوتا ہے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ تین سو سے لیکر چار سو فیصد اضافہ کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ ماضی میں اگر چہ یہاں کی ٹورسٹ انڈسٹری سے وابستہ لوگوں او رکچھ سماجی گروپوں نے نئی دہلی میں حکام کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھانے کی کوشش کی تھی ، لیکن اسکا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ریاستی سرکار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر مشکل اوقات میں ایئر لائنز کمپنیوں کو کشمیری عوام کا خون چوسنے کی اجازت کیسے دی جاتی ہے، جبکہ انہیں اپنے آپریشن چلانے کے لئے ریاستی حکومت بھر پور تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ،جن کے پاس سیاحت کی وزارت کا پورٹ فولیو بھی ہے، اس سنجیدہ معاملے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرکے اس مشکل کا سدباب کرنے کی کوشش کریں، جس سے نہ صرف عام لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ ریاست کو سیاحتی سیزن کے دوران کافی اقتصادی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By