GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
گمشدہ ستارے
محمد سبحان حجام

’تم بہترین امت ہو، تمہیں لوگوں میں سے چن کے نکالا گیا ہے تاکہ تم برائی سے روکو اور اچھائی کا حکم دو‘ (القران)۔محمد سبحان حجام کو شاید اس آیت کا مفہوم اچھی طرح سمجھ آیا تھا بلکہ قلب وجگر میں جاگزیںہو چکا تھا۔وہ فحاشی اور بردہ فروشی کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا اور اکیلے ہی اس قبیحہ ناسور کا قلع قمع کر کے دم لیا۔ 
سبحان صاحب نے اس وقت ہوش سنبھالا جب مہاراجی دور میں شخصی حکومت کی 25؍ فی صد آمدنی جسم فروشی سے حاصل ہوتی تھی۔ سبحان مائسمہ سرینگر کا رہنے والا تھا جس کے گردو نواح ان دنوں جسم فروشی کے کئی اڈے تھے۔ وہ صرف چند گھنٹے اپنی دوکان پر جاتا اور دوپہر کے بعد اپنے اصلاحی مشن میں مشغول ہو جاتا۔ ایک ڈھولک لے کر نکل کر سبحان جسم فروشی کے خلاف نعرے لگاتا اور تقریریں کرتا۔ کئی بار ان کو اس ’’جرم ‘‘ میںگرفتار کیا گیا لیکن اس مرد مجاہد نے کبھی ہار نہ مانی۔ پولیس اور دلالوں کی پوری فوج ان کی جان کے درپے تھی لیکن یہ سبحان موم کا نہ بنا تھا کہ دبا ؤ دھونس سے پگھل جاتا۔ انہوں نے جسم فروشی جیسی لعنت کے خلاف اپناجہاد جاری رکھا۔ ایک بار مایسومہ میں تقریر کرتے کرتے انہیں گرفتار کر کے پولیس ایکٹ کی دفعہ 36 کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔ استغا شہ میں پولیس نے لکھا کہ’’ سبحان حجام کو مایسومہ میں تقریر کرتے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ جسم فروشی کے اڈوں پر نہ جائیںـ۔ ان کے اس مجمعے سے ٹریفک میں خلل پڑا۔‘‘ سبحان صاحب نے اپنی وکالت آپ کرکے پنڈت بشمبر ناتھ جی کی عدالت میں کہا کہ’’ میں نے لوگوں کو سڑک کی ایک طرٖف جمع کیا تھا۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ فحاشی سے پرہیز کریں۔ کیا اس کی پادا ش میں مجھ پر دفعہ 36 کے تحت مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے؟‘‘فاضل جج نے سبحان صاحب کو باعزت بری کردیا۔ انہوں نے اپنا مشن شد ومد سے جاری رکھتے ہوئے کئی پمفلٹ شایع کرائے جن میں لوگوں کو راہ راست پر آنے کی تلقین درج تھی۔ ان کو’’ ہدایت نامہ‘‘ کہا جاتا تھا اور ان پر آنے والا خرچہ وہ خود برداشت کرتے۔ حجام کی فریاد ایک ایسا ہی ہدایت نامہ تھا جس میں انہوں نے کہا کہ حکام میرے مشن پر دھیان ہی نہیں دیتے۔،اگر میرے کام کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو اب تک کشمیر سے جسم فروشی کا جنازہ نکلا ہوتا۔’’میرے مشن میں روڈے اٹکائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ عدالتیں بھی دھنداکرنے والی عورتوں کو معمولی سزائیں دیتی ہیں ، اس سے ان کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔مجھ سے کہا گیا ہے کہ میرے نام پر کچھ لوگ پیسہ جمع کرتے ہیں۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں‘‘۔ مایسومہ میں اس وقت جشم فروشی کے تین اڈے تھے جو حجام کے لئے کافی تکلیف دہ تھے۔ چونکہ ایک دن انہوں نے اپنی تقریر میں کہا ’’کہ مایسومہ میں تین اڈے ہیں۔ ایک گائو کدل تکیہ کے پاس ہے، دوسرا ایک درزی کی دوکان میں ہے اور تیسرا شراب کی ایک دوکان کے نزدیک ہے۔ علاقے کے تمام غنڈے ان کی سرپرستی کرتے ہیں‘‘۔حجام صاحب نے اپنے مشن کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنا شروع کیا۔ تقریباً ایک سو لوگ جو مختلف مکا تب ِ خیال سے تعلق رکھتے تھے، نے حکام کو ایک یاداشت پیش کی جس میں کہا گیا کہ دلالوں کی ایک فہرست بنائی جائے کیونکہ یہ لوگ غریب اور لاچار عورتوں سے شادی کرکے ان سے دھندا کراتے ہیں۔ان کو لاہور ، کراچی، بمبئی اور دلی کی منڈیوں میں فروخت بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر دھندہ کرنے والی عورتیں بھنگن ہوتی ہیں، جشم فروشی کرکے وہ شہر کی غلاظت صاف کرنے سے بچ جاتی ہیں۔ یاداشت میں دھندا کرنے والی عورتوں کو برقعہ پہننے سے منع کرنے کی بات کی گئی۔ اس سے برقعے کا تقدس برقرار ر کھنا مطلوب تھا۔‘‘  یاداشت میں واضح کیا گیا کہ سبحان صاحب کا مشن غیر سیاسی ہے ۔ جب یہ یاداشت پیش کی گئی تو حکام نے ناچ گانے والی عورتوں کو ٹیکس سے بری کردیا۔ حجام صاحب نے اس پر زبردست احتجاج کیا۔ان کی دانست میں گانے بجانے کی آڑ میں بردہ فروشی کو فروغ دینے کی سعی کی جارہی تھی۔ سبحان کا مشن کئی سال چلا اور پھر ایک دن جسم فروشی کو ممنوع قراردیا گیا۔ حجام نے حکام کا شکریہ ادا کیا لیکن کچھ ہی دنوں میں ان کو پتہ چلا کہ لالچوک میں دو ہوٹلوں میں جسم فروشی ہورہی ہے۔ سبحا ن صاحب نے ان کو خط لکھا جس میں ان سے کہا گیا کہ اس حرکت سے باز آجائیں نہیں تو ان کے نام پوسٹر میں ظاہر کر کے انہیں شہر میں چسپاں کیا جائے گا۔ اس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ 
اسی طرح ڈلگیٹ بچھوارہ میں جسم فروشی کے اڈوں کے بارے میں ان کو اطلاع ملی تو انہوں نے اس میں ملوث افراد کے نام ایک پمفلٹ کے ذریعے منظر عام پہر لائے۔ انہوں نے ایک سیاسی پمفلٹ بھی چھپوایا جس کا عنوان’’ ملکی حالات اور منافقین کی امن سوز حرکات‘‘ تھا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ’’ میں نے کبھی یہ نہ کہا کہ سیاست کرنا جرم ہے۔ میں اپنے ملک کے حالات سے بخوبی واقف ہوں اور لوگوں کے حقوق کے لئے سیاست کرنے میں کوئی قباحت نہیں‘‘۔ انہوں نے قا لین بافوں اور ریشم خانے میں کام کرنے والوں کے حق میں بھی بات کی۔ سبحان صاحب  25 ؍ نومبر 1962ء کو دمہ کے عارضے میں مبتلا ہوکر فوت ہوئے۔ افسوس کہ ان کو قوم نے یکسر فراموش کردیا لیکن کئی سال پہلے جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی نے ان کی اصلاحی وسماجی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں رابرٹ تھارپ کے ایوارڈ سے پس از مر نوازا۔ یہ ایوارڈ ان کے لائق فرزند نے حاصل کیا۔ 
...................................
نوٹ : کالم نگار ’’گریٹر کشمیر‘‘ کے  سینئر ایڈ یٹر ہیں ۔
فون نمبر9419009648

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By