GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
ہندو پاک میں بات چیت کے بغیر کوئی چارہ نہیں
’ایک مسئلہ ہے، تکلیف ہے‘

سید دلاور حسین 
//
جموں//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ ہندوپاک کے پاس بات چیت کے سواکوئی چارہ نہیں اور حالات ایسے نہیں رہنے والے بلکہ معمول پر لوٹ آئیںگے ۔انہوںنے کہاکہ جس طرح  1977میں نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا اسی طرح  پی ڈی پی نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا ۔انہوںنے ایجنڈا آف الائنس کو کئی مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں آپسی خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے ۔
مسئلہ کشمیر 
مسئلہ کشمیر کے حل پر زو ر دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہم سب لوگ یہی بات کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ ہے ، ایک تکلیف ہے جس کا حل ہوناچاہئے تاہم ایک دوسرے سے خدشات اور ڈر ہے ،انہیں (بی جے پی )اٹانوی اور سیلف رول سے اور ہمیں(این سی ،پی ڈی پی ) 370سے لیکن ہم سبھی جموں کشمیر کو متحد اور خوشحال دیکھناچاہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جب ہم اپنے آئین کی قسم کھاتے ہیںتو یہ خدشات نہیںہونے چاہئیں اور سوال یہ ہے کہ کیا ہم ذہنی اور جذباتی طور پر اس دھارے میں شامل ہوئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ اس میں دفعہ 370رکاوٹ نہیں بلکہ ایک پل ہے جو ہمیں ملاتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ جموں کشمیر کے آئین میں اتنی وسعت ہے جس سے نہ صرف جموں کشمیر کے لوگوں کے جذبات پورے ہوسکتے ہیں بلکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے خوابوں کو بھی پورا کرسکتے ہیں جن کیلئے ہم نے سیٹیں رکھی ہوئی ہیںلیکن پہلے ہمیں اپنے دل سے ڈر اور وہم دور کرناہوگا۔
ہندپاک تعلقات 
گورنر کے خطبے پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’میرایہ مانناہے کہ یہ ماحول ایسے رہنے والانہیں ہے ،آہستہ آہستہ حالات معمول پر لوٹ آئیںگے ،کیوںکہ ان (پاکستان)کے پاس اور ہمارے (ہندوستان )پاس بھی بات چیت کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ،خدا کا شکر ہے کہ آج سرحد پر امن ہے ‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہم دس سال انتظار کرتے رہے لیکن سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اپنے آبائی گھر لاہور نہیں جاپائے جو وہ دیکھناچاہتے تھے، وہ کچھ وجوہات کی بناپر نہیں جاسکے ،مگر ایک لیڈر اتنا بڑا منڈیٹ لیکر آیا ،ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ یہ نریندر مودی تھے جو دسمبر میں لاہور چلے گئے اور وہاں کے وزیر اعظم کے گھر ان کی نواسی کی شادی میں شریک ہوئے ،اس کے بعد بھی کوشش کی ،ہم جغرافیائی اور تاریخی طو ر ایک دوسرے ملک سے جڑے ہیں،جنگ کرکے رہیں یا دوست بن کر رہیں،کتنی بھی جنگیں لڑیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ رہناہے ‘‘۔ان کا مزید کہناتھاکہ پی ڈی پی بننے کے روز سے ہمارایہ موقف رہاہے کہ جموں کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ پل کا کردار ادا کرے ،اس کیلئے واجپائی جی نے کوشش کی ،وہاںنواز شریف جی نے ان کا والہانہ استقبال کیالیکن پھر کرگل ہوا،اس کے باوجود آگرہ آنے کی دعوت دی گئی لیکن پھر پارلیمنٹ پر حملہ ہواتاہم بات چیت کا عمل بحال ہوگیا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ واجپائی جی سمجھتے تھے کہ ہمارا بڑا ملک ہے ،اس کشیدگی سے نقصان ہمیں ہوتاہے اور سرحد کے لوگ متاثر ہوتے ہیں،ہمار اتب بھی یہی ماننا تھا اور اور اب بھی کہ ہمیں دونوں ممالک کے ساتھ اچھی طرح سے رہناہے ، میںمودی جی سے ملی توانہوںنے کہاکہ ہم ہر بارمبارکباد پیش کرتے ہیں،میں نے نواز شریف کو ان کے یوم پیدائش پر مبارکباد دی اور ان کی والدہ کا حال بھی پوچھا۔انہوںنے کہاکہ مودی جی لاہور خود چلے گئے، اس کے بعد اگر بدقسمتی سے پٹھانکوٹ ، پھر اوڑی اور نگروٹہ ہوتاہے تو پھر کیا کرسکتے ہیں ۔
بھاجپا کے ساتھ اتحاد 
انہوںنے بھاجپا کے ساتھ اتحاد پر کہا’’ منڈیٹ کی قدر کرتے ہوئے ہمیں ایسا فیصلہ لیناپڑا،نیشنل کانفرنس کے لوگ کانگریس کے خلا ف تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ 1953میں ان کے لیڈر کو جیل بھیج دیاگیا لیکن 1977میں حالات کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ سرکار بنائی ،ہم نے بھی اسی طرح سے حالات کی نزاکت کو سمجھااورسب سے بڑی بات جموں کشمیر کو دلدل سے نکالناتھا،اگر خالی سرکار بنانی ہوتی تو چوبیس گھنٹے کے اندر بنالیتے ،مفتی صاحب نے بہت مشکل راستہ چنا،جب کوئی فیصلہ کرتے تھے تو اس پر قائم دائم رہتے تھے ،اپنے فیصلے پر ان کے پاس دلیل تھی ،وزیر اعلیٰ تو ویسے بھی بن جاناتھا،لیکن جموں کشمیر کو اگر دلدل سے نکالناہے تو ضروری ہے اس جماعت کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا جو اکثریت میں ہے اور جو جرأت کے ساتھ کچھ کرسکے اوراسی وجہ سے اس وقت یہ اتحادہوا‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہاں یہ کہاگیاکہ جب سے یہ اتحاد بناہے تو جموں میں لوگ غیر محفوظ ہیں لیکن انہیںاس بات پر فخر ہے کہ جب کشمیر میں حالات خراب ہوئے تو کشمیر سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء جموں کو محفوظ سمجھ کر یہاں آگئے ۔تاہم ان کاکہناتھاکہ کچھ عناصر نے کوشش کی کہ راجوری پونچھ اور چناب میں حالات کو بگاڑاجائے اوراسی طرح سے جموں میں بھی حالات بگاڑنے کی کوشش ہوئی لیکن وہ ان لوگوں کومبارکباد پیش کرتی ہیں جنہوںنے یہاں ماحول کو ٹھیک رکھا۔
ایجنڈ اآف الائنس 
محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ اسمبلی میں سبھی خیالات کے لوگ ہیں اور سب لوگ ایجنڈا آف الائنس کی بات کرتے ہیں،ایجنڈا آف الائنس میں شامل باتیں ہم نے آسمان سے نہیں لائیں بلکہ ورکنگ گروپس سے لائیں،پی ڈی پی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مزید راستے کھولے جائیں جس پر ورکنگ گروپس نے بھی اتفاق کیا ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ افسپا پربھی ان گروپس نے اتفاق کیا ،آج نہیں ، کل نہیں تو پرسوں ،ہمیں کہیںسے تو شروعات کرنی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی طرح سے رنگا رانجن کمیٹی میں پاور پروجیکٹس کی منتقلی کی بات ہے،ہم بھی چاہتے ہیں اورآپ بھی چاہتے ہیں کہ ایسا ہو۔انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک بار جموں میں آکرکہاکہ ہمیں میکانزم چاہئے جس سے جموں کشمیر کے دونوں اطراف ذرائع کو مل کر استعمال کیاجائے جس کی سفارش بھی ورکنگ گروپ میں ہے کہ آر پار تاجر ایک دوسرے سے تجارت کریں اور ملیں ۔ان کاکہناتھا’’جب بھی میں راجوری جاتی ہوں تو سردار بھائی آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نوشہرہ جھنگڑ کھول دو، ان کا آستان ہے اس پار‘‘۔انہوںنے کہاکہ ایجنڈا آف الائنس ایک دستاویز ی نچوڑ ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ دفعہ 370سے متعلق ڈر اور خدشات پیدا کئے گئے ہیں جبکہ پی ڈی پی اور بی جے پی کانظریہ ضرور مختلف ہے لیکن اس دفعہ کو برقرار رکھاجائے گا جس کی سفارش ورکنگ گروپس بھی سفارش کرتے ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ سیاسی قیادت کیلئے یہ سنہری موقعہ ہے کہ اس کو علمانے میں حکومت کی مدد کی جائے اور وہ امید کریںگی کہ ایجنڈا آف الائنس پر عمل کرکے ہم جموں و کشمیر کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے آپس میں مل بیٹھیںگے ،اس سے ریاست کا رشتہ مضبوط ہوگا۔
مغربی پاکستانی مہاجرین 
محبوبہ مفتی نے کہاکہ مغربی پاکستان سے آئے ہوئے مہاجرین کا اقامتی اسناد جاری کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ پاک ریفوجی ہمارے ایجنڈا آف الائنس میں ہیں تاکہ ان کی کل وقتی بازآبادکاری ہو۔ان کاکہناتھاکہ حکومت ہند چاہتی ہے کہ ان کے پاس کارڈ ہو جس میں لکھاہوکہ وہ کہاں کہاں رہتے تھے اور یہاں کہاں ٹھہرے ہیں ۔ان کاکہناتھا’’ایک شناختی کارڈ دیا اور اس پر بھی بولا کہ آبادیاتی تناسب تبدیل ہورہاہے ،یہ ایک انسانی مسئلہ ہے،اگر بڑی گتھی کو کھولناہے تو چھوٹی چھوٹی گتھیوں کو بھی سلجھانا ہوگا۔
مرحوم مفتی سعید کو خراج عقیدت 
اپنے والد مرحوم مفتی محمد سعید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ مفتی صاحب کا یہ ماننا تھاکہ جموں کشمیر کے مسئلہ کے حل کے حوالے سے سب سے اہم رول اس اسمبلی کا ہے ،وہ جمہوری نظام میں یقین رکھتے تھے اور مانتے تھے کہ یہ خیالات کی جنگ ہے ،اور شائد یہی وجہ تھی کہ وہ جب ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں ملک میں واپس آئے اور اس ملک کی جمہوریت سے متاثر ہوکر مین اسٹریم پارٹی کا دامن تھاما،یہی وجہ ہے کہ انہوںنے اپنی زندگی جمہوری نظام میں متبادل پیدا کرنے میں بہت کوشش کی ۔انہوںنے این سی اور کانگریس ارکان کو مخاطب ہوکر کہاکہ اگر آج آپ ہمارے اوپر تنقید کرتے ہیں تو یہ مفتی صاحب کی جدوجہد کا نتیجہ ہے ،اگر آپ ہی ہوتے اور ہم نہیں ہوتے تو پھر کیا فائدہ ،جموں کشمیر میں مقامی متبادل پیدا کرنے کیلئے بہت سال لگائے۔ 

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By