GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
کھٹوعہ میںگوجربستی پر حملہ، اسمبلی میں اُبال
ملوثین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ،اپوزیشن کی جم کر ہنگامہ آرائی،نعرے بازی اور واک آوٹ

جموں//ہریا چک گوجر بستی کٹھوعہ میں گوجروں پر حملے اوراسپیکر کے ریمارکس پرقانون ساز اسمبلی میں منگل کو بھی شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ اس دوران اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس، کانگریس ،محمد یوسف تاریگامی ، حکیم محمد یاسین اور انجینئر رشید نے زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان سے واک اوٹ کیا ۔اپوزیشن ممبران کٹھوعہ میں مبینہ طور گوجروں کی پٹائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔قانون ساز اسمبلی میں صبح دس بجے جوں ہی کارروائی شروع ہوئی تو نوانگ ریگزن جورا نے دیگر ساتھوں کے ساتھ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر آر ایس ایس ہائے ہائے اسپیکر ہائے ہائے کے نعرے بلندے کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے کل اُن پر الزام لگایا کہ انہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دیا جس کے بعد اپوزیشن نے ہنگامہ کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے کشمیر بنے گا قبرستان کا نعرہ دیا نہ کہ کشمیر بنے گا پاکستان اور اس کیلئے اسپیکر کو معافی مانگنی چاہیے ۔ احتجاج کے دوران محمد یوسف تارگامی نے اپنی نشست سے کھڑے ہوکر کہا کہ کسی بھی ممبر نے ہاوس میںپاکستان زندہ باد اورکشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے نہیں دئے ۔ کا نگریس ارکان سپیکر کو اپنے ریمارکس واپس لینے کا مطا لبہ کررہے تھے۔ کافی شور شرابے کے بعد اسپیکر کیوندر گپتا نے اپنے ریمارکس واپس لیتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے ہی سننے میں غلطی ہوئی ہے تو میں اپنے ریمارکس واپس لیتاہوں۔اس دوران ایم ایل اے کنگن میاں الطاف احمد، مبارک گل اور اپوزیشن کے تمام ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور’ کشمیر عظمیٰ‘ کی کاپی کو ہاتھوں میں لہراتے ہوئے کہا کہ کل سرکار نے کہا تھا کہ کٹھوعہ کی گوجر بستی کے کچھ لوگوں کی پٹائی ہوئی ہے اور سرکار نے ایوان میں بتایا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کے تمام افسران کو جائے واردات پر روانہ کیا گیاہے ۔احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح گوجروں پر پھر حملہ ہوا ہے ،اس دوران کچھ ایک ممبران احتجاج کرتے ہوئے میزوں پر بھی چڑھ کر احتجاج کرنے لگے ۔ کانگریس ممبران نے کہا کہ اگر جموں میں اس طرح گوجروں پر حملے کئے جائیں گے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں مسلمان محفوظ نہیں ہی اور ہم یہ پچھلے کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ مسلمان یہاں محفوظ نہیں ہیں ۔میاں الطاف کی طرف سے واقعہ بیان کئے جانے کے ساتھ ہی اپوزیشن کے تمام ممبران احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے تک آگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔اس دوران انجینئر رشید بھی چاہ ایوان میں پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ان افراد کو بندوق چلانے کا حق کس نے دیا ہے اگر ان کے پاس بندق کا لائنس ہے تو پھر ان کوجواب دہ بنایا جانا چاہئے ۔اس موقعہ پر اسپیکر نے یہ کہہ کر انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ایک گھنٹے کے بعد جواب دیاجائے گالیکن وہ احتجاج کرتے رہے۔ زور دار شورشرابے کے بیچ اپوزیشن ممبران اس واقعہ پر حکومت سے جواب طلب کرتے رہے ۔اپوزیشن ممبران اس دوران ’ شرم کرو۔شرم کرو ‘‘،’’آر ایس ایس۔ہائے ہائے ‘‘،’’بی جے پی۔ہائے ہائے مسلمان کش سرکار۔ہائے ہائے کے نعرے بلند کرتے رہے۔کانگریس کے وقار رسول کا کہنا تھا’’علاقے سے تعلق رکھنے والے کولیشن لیڈران کھلے عام یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ان کا تعلق آرا یس ایس کے ساتھ ہے اور وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کئی لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا جہاں وہ ایک طویل عرصے سے بودوباش کررہے تھے‘‘اس دوران چودھری لال سنگھ نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر معاملے پر بات کرنے کی بے سود کوشش کی۔ممبران مطالبہ کر رہے تھے کہ جموں میں گوجروں پر ہوئے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔سرکار کی جانب سے اس معاملے پر کوئی جواب نہ آنے کے بعد ممبران نے ایوان سے واک اوٹ کیا ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By