GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
قانون ساز کونسل میں بھی ہنگامہ
وزیر اعلیٰ کے بیان پر ناراضگی کا اظہار، اراکین کا واک آوٹ

جموں //وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں کشمیرکی موجودہ صورتحال پر سوموار کو دیئے گے بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’’کشمیر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات کو خراب کیا گیا ‘‘ پر قانون ساز کونسل میں اپوزیشن ممبران نے زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے سازش میں ملوث افراد کے خلاف عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے 50منٹ کے احتجاج کے بعد ایوان سے واک اوٹ کیا ۔منگل کوجیسے ہی کونسل کی کارروائی شروع ہوئی تو اس دوران ڈاکٹر بشیر احمدویری اپوزیشن کے دیگر ممبران کے ساتھ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور گریٹر کشمیرکی کاپی کو ہاتھ میں لہراتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا جو بیان کل قانون ساز اسمبلی میں آیا ہے کہ کشمیر میں سوچی سمجھی ساز ش کے تحت خالات کو خراب کیا گیا ہے ’’اگر یہ سچ ہے تو ایسے افراد کی نشاندہی کرنے کیلئے عدالتی تحقیقات کرائی جائے ۔ کانگرس کے غلام نبی مونگا جموں کے کٹھوعہ علاقے میں گوجروں پر قاتلانہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ایم ایل سی بشیر احمد ویری نے کہا کہ کشمیر میں 6ماہ میں جو حالات پیدا ہوئے وزیر اعلیٰ نے اسے سوچی سمجھی سازش قرار دیاہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر میں حالات سوچی سمجھی سازش کے تحت خراب کئے گئے تو پھر کیوں ایسے لوگوں کی نشاندہی نہیں کی جاتی ۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے ۔اپوزیشن ممبران نے اس دوران زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکار سچ کو چھپا رہی ہے ،اور اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو ایسے چہروں کو بے نقاب کیا جانا چاہئے ۔ ممبران اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ہم کیا چاہئے عدالتی تحقیقات ، بے گناہوں کا قتل عام بند کرو بند کرو ،کے نعرے لگا رہے تھے ۔ قیصر جمشید لون نے کہا کہ اس معاملے میں تحقیقات کرانے کی ضررت ہے کیونکہ 6ماہ کے دوران وادی میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔قیصر جمشید نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ سچ کہتی ہیں تو پھر کیوں ایسے لوگوں کو ڈھونڈھ کر سزا نہیں ملی ۔ اپوزیشن ممبران کا کہنا تھا کہ اگروزیر اعلیٰ سچ کہتی ہیں تو اُس سے ریاست کی فضا مزید خراب ہو سکتی ہے اور اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے ۔اس دوران نریش گپتا نے کہا کہ اگر یہ سوچی سمجھی سازش ہے تو اس سے آگ جموں اور کٹھوعہ کے دیگر علاقوں میں بھی بھڑک سکتی ہے ۔ممبران نے کہا کہ ا یک طرف سرکار کا ایک بڑا لیڈر کہتا ہے کہ کشمیر میں حالات خراب کرنے کے پیچھے پولیس کے کچھ افسر ہیں اور وزیر اعلیٰ کہتی ہیں کہ یہ سازش بہت پہلے سے رچائی گئی تھی تو اگر وزیر اعلیٰ کو کچھ پتہ ہے تو پھر اُن چہروں کو بے نقاب کر کے لوگوں کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا ہے ۔ سجاد احمد کچلو نے کہا کہ بے گناہوں کو مارا گیا اور سرکار اب ایسے لوگوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ اور ایک نوکری کی بات کرتی ہے لیکن اس سازش میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے ، اس دوران اگرچہ فردوس احمد ٹاک نے بیچ میں مداخلت کی اور کہا کہ شور شرابہ کرنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ہے جس کے بعد ممبران میںسخت لفظی جنگ بھی ہو ئی۔ چیئرمین نے اگرچہ وقفہ سوالات جاری رکھا لیکن اُس کے باوجود بھی کونسل میں ممبران زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے جھوٹی سرکار ہائے ہائے ، محبوبہ سرکار ہائے ہائے ، قاتل سرکار ہائے ہائے کے نعرے لگا رہے تھے۔غلام نبی مونگا نے کٹھوعہ علاقے میں گوجروں پر ہوئے حملے پر سرکار سے جواب طلب کیا ۔سرکار کی جانب سے جواب نہ ملنے کے نتیجے میں 50 منٹ تک شدید شور شرابہ کے بعد ممبران نے ایوان سے واک اوٹ کیا ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By