GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
واہ! کیا اسمبلی شو ہے
کچھ تو اپنی عزت رکھیں حضور!!!

 یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت بننے کے بعدعوام کی نظریں یا تو کا بینہ میٹنگ پر مرکوز ہوتی ہے یا پھر اسمبلی اجلاس پر کیوں کہ عوام کی ڈھیر ساری اُمیدیں ریاستی کابینہ یا پھر قانون ساز اسمبلی اجلاس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں کیا ایسے اجلاس یا میٹنگیں عوام کی اُمنگوں پر کھرا اُترتی ہیں ،اس کا جواب نفی میں ہی ملتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کیبنٹ میٹنگ بلانے کے پیچھے یہی مقصد کارفر ماہوتا ہے کہ لوگوں کے آرام و راحت کے کسی فلاحی اسکیم کا اعلان کیا جائے، بجلی فیس میں کمی کی جائے، راشن کوٹا میں اضافہ کیا جائے یا عارضی ملازمین کی مستقلی کو یقینی بنایا جائے وغیرہ وغیرہ لیکن جب سے ریاست جموں وکشمیر میں سیاست نے کولیشن کا مزاج اختیار کیا، تب سے یہاں کی ہر کیبنٹ میٹنگ شرارت سے شروع ہوتی ہے اور واک آوٹ پر ختم ہوتی ہے۔
اسی طرح کوئی بھی اسمبلی اجلاس بلانے کے پیچھے یہ مقصد مضمر ہوتا ہے کہ ہر ایک ایم ایل اے یا ایم ایل سی اپنے اپنے حلقہ ٔانتخاب کے حوالے سے اپنی آرا وزراء کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے تاکہ عوامی مسائل کا مداوا ہوسکے لیکن اس حوالے سے بھی یہاں کے حالات کچھ اس کے برعکس ہی نظر آتے ہیں۔ ریاست کا  ہرفرد بشر اس بات سے واقف ہوگا کہ ہمارے ایم ایل اے صاحبان کو اردو میں اس نام سے بھی پکارا جا تا ہے ـ: ممبرانِ قانون سازیہ، مطلب یہ کہ ہر ایم ایل اے ایک قانون ساز یعنی قانون بنانے والے کی حیثیت رکھتا ہے تو بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسمبلی کا وقار کسی ہائی کورٹ یا سُپریم کورٹ سے کچھ کم نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ جہاں اسمبلی کو قانون بنانے کی حیثیت حاصل ہے تو وہاں ہائی کورٹ یا سُپریم کورٹ کو قانون کا دفاع کرنے کا کام سونپا جاتا ہے۔ ایک بات راقم اپنے قابل قدر ایم ایل اے صاحبان سے پوچھنا چاہتا ہے کہ کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی جج صاحب نے دوسرے جج صاحب کا گریبان پکڑا؟ کسی وکیل نے اپنے مخالف وکیل پر ہاتھ اُٹھایا ؟ اگر ایسا ہونا کسی بھی طرح ناممکن ہے تو ممبرانِ اسمبلی کی حالت مچھلی فروشوں جیسی کیوں ؟  وہا سمبلی اجالس کو مچھلی باز ار بنا کر سرخیوں میں رہنے کے شوقین کیوں بنے ہوئے ہیں ۔۲ جنوری ۲۰۱۷ء کو جب ریاستی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جموں میں طلب کیا گیا تو پہلے ہی دِن اسمبلی میں ایسا منظر دیکھنے کو ملا کہ مناظر سے یہ اخذہورہا تھا کہ کسی گھنی بستی میں اچانک آگ نمودار ہوئی اور لوگ ہر سُو مدد کیلئے چلاتے ہوں،حتیٰ کہ گورنر صاحب کو بھی اپنی تقریر مختصر کرنا پڑی ۔ شام کو جب دن بھر کے حالات پر مختلف ٹی وی چنلوں پر مختلف سیاسی لیڈران نے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تو راقم کو موجودہ حکومت کے ترجمان سید نعیم اختر اندرابی صاحب کی زبان سے یہ الفاظ سننے کو ملے ’’اپوزشن نے آج اسمبلی کے تقدس کو پامال کرکے رکھ دیا‘‘۔ ان الفاظ کوسنتے ہی راقم کی نظروں میں ۲۰۰۸ء کی اسمبلی کا وہ منظر سامنے آیا جب پی ڈی پی اپوزیشن میں تھی اور ممبران پی ڈی پی نے کرسیوں کے بجائے میزوں پر چڑھ کر اُس وقت کے اسپیکر کی مائک توڑ ڈالی ۔ اگر وہ حرکت پی ڈی پی کے’’ بالغ نظری ‘‘کو پیش کرتی تھی، تو آج کا شور مچانے والا مجرم اور غلط کار کیوں؟ایک اور بات کی طرف میں اپنے معزز ممبران اسمبلی کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ دورِ جدید میں اسمبلی کی ساری کاروائی ٹی وی اور انٹر نیٹ کے ذریعے ہر فرد بشر تک براہ راست پہنچتی ہے تو جب سماج کے مختلف طبقات اپنے منتخب شدہ ممبرانِ اسمبلی کو گالی گلوچ اور طوفان ِبدتمیزی مچانے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی پگڑی اُتارتے ہوئے دیکھتے ہیں ، اُن کے دل میں آپ حضرات کی کیسی چھاپ پڑتی ہے؟ بہت ہی گندی اور غیر معیاری !!! اس امر پر آپ سب حضرات کو ایک بار غور وخوض کرنا ہوگا۔ حیرانگی کا مقام یہ ہے کہ بیشتر ایم ایل اے صاحبان کے نام کے ساتھ کئی پروفیسر تو کئی ڈاکٹر کے علاوہ ایڈوکیٹ کا لفظ بھی ضرور لاحقہ ہوتا ہے ،تو پھر ان جیسے لیڈران سے کسی اور کردار و گفتار، عادات و اطوار کی امید ہوتی ہے، جو تاحال اسمبلی اجلاسوں اورا یم ایل اے صاحبان کی کارکر دگی سے کہیں دور دور بھی نظر نہیں آتی۔ بقولِ علامہ اقبالؒ 
وہ کل کے غم و عیش پر کچھ حق نہیں رکھتا     
  جو آج خود افروز جگر سوز نہیں ہے
وہ قوم نہیں لائق ہنگامۂ فردا
جس قوم کے تقدید میں امروز نہیں ہے
رابطہ :کنہ گنڈ بیروہ9797143603



 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By