GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
منصوبہ بندی بڑے ایوانوں میںہوئی، یہاں نہیں:مشترکہ قیادت
۔ 2021مسلمانوں اور عیسائیوں کو ختم کرنے کیلئے سنگھ پریوار کی ڈیڈ لائن

سرینگر//مشترکہ مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے وزیر اعلیٰ کے ریاستی اسمبلی میں دئے گئے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سرکار کے ان گماشتوں کی سیاست اپنے آقاؤں کی طرح جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ لوگ بڑی ڈھٹائی سے ٹھوس حقائق کو مسخ کرنے کی مجرمانہ کوشش کرتے ہیں۔ بیان میں قائدین نے وزیر اعلیٰ سے پوچھا ہے کہ اونچے ایوان یا تو آپ کے پاس ہیں یا پھر آپ کے آقاؤں کے پاس، اسلئے حالیہ قتل وغارت گری اور آگ وآہن کی تیاری آپ کے ان ہی ایوانوں میں بڑے منصوبہ بند طریقے پر ترتیب دی گئی ، جس کو عملا کر معصوموں کو قبرستانوں میں ابدی نیند سلادیا گیا، بچوں کو بینائی سے محروم کیا گیا، عام لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر عمر بھر کے لئے اپاہج بنادیا گیا اور ہزاروں لوگوں کو پی ایس اے کے اندھے اور کالے قانون کے تحت جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا’’ کیا محبوبہ مفتی اس خون ناحق کے لئے ذمہ دار نہیں ہے؟ جان ومال کے تحفظ کی بات کرنے والی وزیر اعلیٰ اس ظلم وبربریت کا کون سا جواز پیش کررہی ہے؟‘‘ 2010 اور 2016کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مزاحتمی قائدین نے کہا یہ سیاسی چرواہے اپنے ہی ریوڑ کا شکار کرنے کی مہارت پر ایک دوسرے سے سبقت لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں، لاشوں کے یہ سوداگر قیامت صغریٰ برپا کرنے کے بعد اشک شوئی کے لیے تحقیقات کا ڈھونگ رچاکر عوام کو بیوقوف بنانے کی سازشیں کرتے ہیں، ورنہ ان کو معلوم ہے کہ آج تک کے سینکڑوں خونین واقعات کی تحقیقات کا جو ڈھونگ رچایا گیا، اب تک کسی بھی ملوث اہلکار کو کوئی سزا نہیں دی گئی، بلکہ اُلٹا قاتلوں کو بری کرکے اُن کو انعامات اور ترقیوں سے نوازا گیا‘‘۔ ’’بند دروازوں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے آزادی پسند قیادت نے کہا کہ یہ شاطرانہ اور عیارانہ ڈھکوسلے اس کے اپنے حواریوں اور چاپلوسوں کو ہضم ہوسکتے ہیں، لیکن یہاں کا باشعور طبقہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہ غاصب طاقتوں کے ان دم چھلوں کی پرانی روایت ہے کہ مکروفریب اور سفید جھوٹ کے سہارے یہ لوگ اقتدار کی کرسیوں تک پہنچتے ہیں، ورنہ کس کو معلوم نہیں کہ پارلیمانی ڈیلی گیشن کے چند ممبر ذاتی طور پر ملاقات کی غرض سے آئے تھے، لیکن چانکیائی سیاست کے یہ پیروکار اس کو ایسے پیش کررہے ہیں جیسے کہ آزادی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی تھی، لیکن ہم نے جان بوجھ کر دروازہ نہیں کھولا۔انہوں نے کہا’’ مذاکرات اور بات چیت کی بھول بھلیوں میں عوام کو گم کرنے میں ماہر یہ مقامی دلال خود اعتراف کرتے ہیں کہ یہ عسکریت پسندوں کی رہائی کے لیے فوجی کیمپوں میں جایا کرتی تھی، اگر وہ اُس وقت اس کے لیے عزیز تھے تو اب ان کا خون اس کے لیے آب حیات کیوں ہے؟ ۔عوام کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسے ڈرامے رچائے گئے اور اب چونکہ مسلمانوں کے قاتلوں سے بھیک میں ملی کرسی پر براجمان ہے تو اس کے لیے ہمارا خون، ہماری عصمت اور ہماری جائیداد سب کچھ حلال ہوگیا اور یہ پوری قوم کو خون میں نہلا سکتی ہے جس طرح اس کے آقاؤں نے اپنے سنگھاسن کو مسلمانوں کے خون سے رنگین بنادیا‘‘۔ آزادی پسند قائدین نے اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے’ بے ہنگم اور مکارانہ‘ شوروغل کو سیاسی شعبدہ بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے باہر ہر کوئی لوگوں کے جذبات کا استحصال کرکے عوامی تندور میں اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قیادت نے خبردار کیا کہ سنگھ پریوار نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو ختم کرنے کے لیے 2021 کی ڈیڈ لائن دی ہے تو ان کے یہ حاشیہ بردار شاید اس سے پہلے ہی ریاست جموں کشمیر میں مسلمانوں کی شناخت اور پہچان ختم کرنے کے منصوبے عملا رہے ہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By