GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
جموں و کشمیر کے تشخص کو مٹانے میں مفتی محمد سعید شریک رہے
پی ڈی پی قاتل بھی ،مقتول بھی اور مسیحا بھی

سید دلاور حسین // جموں //نیشنل کانفرنس کے سینئر رکن اور سابق وزیر آغاسید روح اللہ مہدی نے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید پر جموں و کشمیر کے تشخص کو مٹانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی پی خود ہی قاتل بھی ہے ، مقتول بھی اور مسیحا بھی ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اس بات پریشان ہیں کہ دلی کو خوش کروں یا کشمیریوں کو ، وہ کشمیریوں کو بولتی ہیں کہ شیخ صاحب نے غداری کی اور دلی میں جاکر کہتی ہیں کہ شیخ صاحب ملک دشمن تھے ۔گورنر کے خطبے پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے آغاسید روح اللہ نے کہاکہ وزیر اعلیٰ ہر چیز کا قصور دوسروں پر ٹھونسناچاہتی ہیں اور کسی کی ذمہ داری خود پر نہیں لیناچاہتی۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی پی نے 1987پر بات کی لیکن ہم کہتے ہیں کہ 1989،نوے اوراس سے پہلے 1947سے لیکر 1975تک کے حالات کوبھی دیکھاجائے ۔روح اللہ نے کہاکہ آپ نے سیاسی آوارہ گردی کی بات کی ،آپ کشمیر میں کہتی ہیں کہ شیخ صاحب نے غداری کی اور دہلی میں جاکر کہتی ہیں کہ انہوںنے ہندوستان کے خلاف کام کیا۔انہوںنے کہاکہ شیخ محمد عبداللہ کو 1953میںایک سازش کے تحت گرفتار کیاگیا تاکہ جموں کشمیر کو حاصل خصوصی تشخص کو مٹایاجاسکے اور پھر اسی منصوبے کے تحت 1953سے لیکر 1975تک یہ کام انجام دیاگیا، اٹانوی کو ختم کیاگیا ،وزیر اعظم کو وزیر اعلیٰ بنادیاگیا،اٹانوی کو زمین سے لیکر آسمان تک پٹخ دیاگیا۔تاہم انہوںنے کہا”جب شیخ صاحب جیل میں تھے تو اٹانومی کو ڈی گریڈ کرنے والے کون تھے ،اس ایوان میں بیٹھنے والے کون تھے،مرحوم مفتی محمد سعید اس کابینہ میں وزیر تھے جس نے اٹانوی کو ختم کیا،اس دوران سیاسی تبدیلیاں ہوئیں اور ریاست کے تشخص کو جوتوں تلے روند اگیا“۔ان کاکہناتھا”جب شیخ صاحب قید میں تھے تو مفتی صاحب اپنایہاں کام کررہے تھے “۔وزیر اعلیٰ کو مخاطب ہوکر انہوںنے مزید کہا”87میں جو بھی ہوا چاہے صحیح ہوا یا غلط ،ایک طرف سے اگر نیشنل کانفرنس رکن تھی تو دوسری طرف سے آپ کے والد تھے ،کشمیر کی سیاست میں جو بھی ہوا ، آپ کے والد اس میں شریک تھے ،1987میں بھی وہ شریک تھے ،90میں تب شائد نیشنل کانفرنس شریک نہیں تھی لیکن تب آپ کے والد شریک تھے ،جمہوری حکومت نے دہلی سے گزارش کی کہ جگموہن کو ریاست کا گورنر نہ بھیجاجائے اور لوگوں کی خواہش کا احترام نہ کرتے ہوئے ان کو آپ کے والد صاحب نے بھیجاجس کے نتیجہ میں گاﺅ کدل میں قتل ہوا،بجبہاڑہ میں لوگوں کوماراگیا،میرواعظ مولوی محمدفاروق مرحوم کے جنازے پر گولیاں چلائیں،کشمیر کے ہر کونے کونے میں گولیاں چلیں،مارنے والا اگر گورنر تھا تو اس کو بھیجنے والے آپ کے والد صاحب تھے “۔انہوںنے مزید کہا”آپ یاد کریں 53 سے لیکر 75تک ،اٹانوی کو ختم کرنے کی مہر لگانے میں آپ کے والد شریک تھے ،96میں جب اٹانوی کی قرارداد پاس ہوئی تو دہلی نے یہاں ایک سازش کے تحت ایک تنظیم قائم کی اوروہ سازش پی ڈی پی ہے ،تب سے لیکر آج تک ریاست کے حالات دیکھو“۔انہوںنے کہاکہ 370بچاتھا جس کوبھی ختم کرنے کا ارادہ تھالیکن شیخ صاحب نے اس کو بچایا،1987میں تو ریاست کی پیٹ میں خنجر گھونپا گیا۔انہوںنے وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہوکر کہا”آپ سمجھ نہیں پاتی ہیں کہ آپ متاثرین کی طرفداری کریں یاان کی جنہوںنے ایسا کیا،کہیں پر آپ کے بیانات میں ان کارونا روتی ہیں جو مارے گئے اور کہیں پر جوایسا کرنے والے ہیں ان کا روناروتی ہیں“۔ان کاکہناتھاکہ آپ ایک دن برہان وانی پر رونا روتی ہیں ، دوسرے دن کہتی ہیں کہ وہ ملی ٹینٹ تھا اسے مرناہی تھا،آپ پریشان ہیں کہ دہلی کو خوش کروں کہ کشمیریوں کو خوش کروں۔این سی رکن کاکہناتھا” 2014کے چناﺅ میں کشمیر کے کونے کونے میں جاکر محبوبہ جی اور ان کی تنظیم نے جاکر کہاکہ وہ مودی آرہاہے جس نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام آیا،اگرمودی اور بھاجپا اور اس حملے کو کوئی روک سکتاہے تو وہ صرف اور صرف پی ڈی پی ہے ،پی ڈی پی کی عادت ہے کہ یہ کچھ بھی کرے وہ ثواب ہے ،دوسرے کچھ بھی کریں تو گناہ ہے ،پی ڈی پی نے ریاست کا بیڑہ غرق کردیاہے “۔انہوںنے کہاکہ ایک دن آئے گا جب لوگ انصاف کریںگے قتل کس نے کیا ،مقتول کون تھا اور قاتل کے ساتھ ہوکر بھی مقتول پر کس نے رونارویا۔انہوںنے کہا”ریاست کو تقسیم کرنے کیلئے جو سازش رچی گئی ،اس کا نام پی ڈی پی بنا،ریاست کے تشخص کو مٹانے میں آپ نے کلیدی رول ادا کیا،2008میں آپ کے وزراءنے امرناتھ شرائن بورڈ کیلئے زمین پر دستخط کئے اور پھر رونا بھی رویا ،اس کے نتیجہ میں جموں کشمیر کے خلاف اور کشمیر جموں کے خلاف ہوگیا جو پہلی بار دیکھاگیا،ماحول بھی خراب کیا اور پھر مسیحا بن کر ٹھیک کرنے بھی آئے “ ۔ان کاکہناتھا”2014میں بھاجپا جس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھاکہ جموں کشمیر کی ریاست میں حکومت کرے گی ، ان کا خواب پورا کیا، جھولی پھیلاکر آپ ناگپور آر ایس ایس کے سامنے چلے گئے ،کیا یہی ویژن تھاکہ ناگپور کو کشمیر لایاجائے ،آپ نے اپنے سیاسی نظریات اور موقف کو ایک کرسی کیلئے سرینڈر کیا،پہلے کہاکہ افسپا کو ہٹائیںگے ، ڈبل کرنسی ہوگی ، پاور پروجیکٹ واپس لائیںگے ،کہاکہ ہم افسپا ہٹانے کے بغیر حکومت بناہی نہیں سکتے ، ہم پاور پروجیکٹ واپس لانے کے بغیر حکومت بناہی نہیں سکتے لیکن حاصل کیا ہوا،پھر ملا کیا ، مودی صاحب سے ایک ملاقات ہوئی اور شائد وہی خواہش تھی اور ویژن بھی ،آج آپ کی دین سے ناگپور یہاں حکومت کررہی ہے “۔این سی رکن کاکہناتھاکہ 2010میں حالات خراب ہوئے جس دوران بدقسمتی سے لوگ مرے تاہم اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ذمہ داری لیکر مسئلہ عدالت یعنی تیسرے فریق کے سامنے رکھا،2016میں قتل بھی آپ نے کیا لیکن قصور وار ہر کوئی ماں ، باپ ، پولیس اور سیکورٹی فورس ہے ماسوائے آپ کے ۔انہوںنے مزید کہاکہ حالیہ کشیدہ حالات کے دوران کشمیر میں 76سالہ غلام محمد خان گولی کاشکار ہوکر جاں بحق ہوگیا،حکومت جواب میں بتارہی ہے کہ اس کی عمر پتہ نہیں،شرمناک بات ہے کہ دو ماہ سے اس کی عمر پتہ نہیں ، گھر والے چلاچلاکر کہہ رہے ہیں کہ عمر 76سال ہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By