GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
اگر ملکی مفاد عزیز ہے تو پاکستان سے بات کرو
تاریگامی کا بھاجپا کو مشورہ ،گورنر خطبے کو پندو نصیحت تک محدود قرار دیا

جموں//پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کی وکالت کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے بھاجپا کی قیادت والی مرکزی حکومت کومشورہ دیاکہ اگر وہ ملکی مفادکو عزیر رکھتی ہے تو اپنے پیشرﺅں سے سبق سیکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرے ۔گورنر خطبے پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ گورنر کے خطبے میں وعظ و نصیحت تو بہت ہے لیکن موجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے ایوان کے سامنے خاکہ پیش کیاجاناچاہئے تھاجو اس میں نہیں ۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر پورے برصغیر میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتاہے اور اس کی صورتحال بھی مختلف ہے ۔مسئلہ کشمیرکے تعلق سے بولتے ہوئے انہوںنے کہاکہ شیخ عبداللہ صاحب سے لیکر آج تک بار بار یہ کہا اور یاد دلایالیکن ہواکچھ نہیں ۔تاہم ان کاکہناتھاکہ لگ رہاہے کہ آج اس سرکار پر کچھ بوجھ ہے لیکن تنازعہ کو حل کرنے کیلئے جتنی ہمت چاہئے اور حوصلہ چاہئے ،وہ اس خطبے میں نظر نہیں آتی ۔ان کاکہناتھاکہ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو سماجی مسائل بھی درپیش ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کام بھی ٹھپ ہوکر رہ جاتے ہیں ۔انہوںنے اٹانوی کی پاس کردہ قرارداد پر کوئی پیشرفت نہ ہونے پر مرکز کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس ایوان اور پارلیمنٹ کی افادیت کو کو برقرار رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہاں سے پاس کی گئی اٹانوی کی قرارداد پر کارروائی ہو لیکن بدقسمتی سے اس کو دلی نے اس کو ردی کی ٹوکری کے لائق بھی نہیں سمجھاجبکہ ’سکائی از دا لمٹ ‘جیسے نعرے دیئے گئے ۔انہوںنے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ سے گزارش کی کہ ایوان سے متفقہ طور پر قرارداد پاس کرکے مرکزسے درخواست کی جائے کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے بات چیت کی جائے ۔انہوںنے پاکستان کے ساتھ بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ تنازعات کا حل ڈائیلاگ سے ہوسکتاہے ۔ تاریگامی نے بھاجپا ممبران کو مخاطب ہوکر کہا” نرمل سنگھ جی آپ میرے ساتھ پاکستان گئے ،اٹل جی وہاں گئے، ایڈوانی جی اور اب وزیر اعظم نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اس ملک کو تسلیم کیا ،اگر یہ حقیقت ہے تو یہ ایوان گزارش کرے کہ مذاکرات شروع کئے جائیں جس سے آپ کا اور سرکار کا وقار بڑھ جائے گا“۔انہوںنے کہاکہ چاہے پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا پھر کرگل جنگ ہو ،ہر بار پاکستان کے ساتھ بات چیت کاراستہ ہی اختیار کیاگیا ۔انہوںنے بھاجپا سے مخاطب ہوکر کہاکہ یاتو وہ جارحانہ رویہ رکھیںیاپھر بات چیت شروع کریں ، دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چلنے والی ہیں ۔ان کاکہناتھا” بندوق کی گولی کے بارے میں وہی جانتے ہیں جو سرحد کے دونوں اطراف رہتے ہیں ،اٹل جی نے باربار اشتعال انگیزیوں کے باوجود پہل کا مظاہرہ کیا اور بات چیت کی ،آپ اس سے سبق سیکھئے ،مذاکرات سے ہی آپ تنازعات کا خاتمہ کرسکتے ہیں،یہ جوش و جنون کی نہیں بلکہ عقل اور ملکی مفاد کی بات ہے ،اگر آپ کو ملک کے مفاد عزیز ہونگے تو آپ بھی پاکستان سے متعلق وہی راستہ اختیار کریںگے جو ہمارے بزرگوں نے اختیار کیا ۔“ان کاکہناتھاکہ کئی ورکنگ گروپس بنائے گئے لیکن بدقسمتی سے کسی ایک کی سفارشات پر عمل درآمد نہیںہوا۔ان کاکہناتھاکہ وہ وزیر اعلیٰ سے گزارش کریںگے کہ جس ورکنگ گروپ نے حکومت کے کام کاج میں بہتری سے متعلق تجاویز دیں ہیں ،کا جائزہ لیکر انہیں عملایاجائے کیونکہ یہ سرکار کے اختیار میں ہے ۔شہری ہلاکتوں پر اپنے عدالتی تحقیقات کے مطالبے کو دہراتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بے شک اب لوگوں کو تحقیقاتی عمل پر کوئی بھروسہ نہیں رہ گیالیکن وہ چاہتے ہیں کہ ایک جوڈیشل کمیشن مقرر کیاجائے تاکہ یہ پتہ چلے کہ گولی چلنا ضروری تھا یا نہیں ، پیلٹ گن کا استعمال ضروری تھا یا نہیں ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں میں پائی جارہی بداعتمادی کا علاج اگر یہ ایوان نہیں کرے گا تو پھر کون کرے گا۔تاریگامی کاکہناتھا”میںمحبوبہ جی کو یاد دلاناچاہتاہوں کہ جب آپ یہاں تھی تو سبھی کی مشترکہ آواز یہی تھی کہ اس سلسلے میں ٹرتھ اور ری کانسی لیشن کمیشن مقرر کیاجائے ۔کٹھوعہ واقعہ پر بولتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ پارلیمان میں باضابطہ ایک ایکٹ بنایاہواہے جس میں قبائلیوں کو حق دیاگیا،یہ ہندو اور مسلمان کا سوال مت بنایئے ،یہ سوال پارلیمنٹ اورقانون کاہے جس میں مسلمانوں ہندﺅں سبھی کو رہنے کا حق دیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ قبائلی طبقہ سے وابستہ لوگ آج سے نہیں بلکہ بخشی غلام محمد کے وقت سے وہاں رہ رہے ہیں اورآج کوئی فارسٹ افسر آئے اور ان سے یہ کہے کہ نہ چیف منسٹر کو مانتاہوں نہ قانون کو بلکہ آپ کو یہاںسے جاناہوگا۔انہوںنے وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہوکر کہاکہمحبوبہ جی میں نے آپ کے پاس وفد بھیجااور آُ پ نے یقین دلایاکہ ان کو تحفظ دیاجائے گالیکن آج بھی ڈی ایف او جاتاہے اور کہتاہے کہ آپ کو یہاں نہیں رہناہے ،ایسے افسر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے جو قانون اور آپ کی ہدایت کو نہیں مان رہا۔انہوںنے کہاکہ جموں کے بھائی چارے اور یہاں کے تانے بانے کوزندہ رکھاجائے ،کشمیر جموں کے بارے میں غلط نہ سوچے اور نہ ہی جموں کشمیر سے خوفزدہ ہو۔ان کاکہناتھاکہ اس ایوان کے اندر ہمیں آپس میں گفتگو کرنی چاہئے کہ تاکہ دونوں خطوں کے مفاد محفوظ رہیں ،یہ نہ سوچیں کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By