GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
ایجی ٹیشن حکومتی غلطیوں کی وجہ سے طول پکڑ گئی
وزیر اعلیٰ الزام تراشی کی بجائے اپنے بیانوں کا جائزہ لے: این سی

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی 2016کی بے چینی اور ہلاکتوں کیلئے پاکستان سے لیکر حریت ،نیشنل کانفرنس سے لیکر عوام اور متاثرین سے لیکر والدین کو ذمہ دار قرار دے رہی ہیں لیکن محترمہ نے کبھی اپنی حکومت کی کوتاہیوں، ناکامیوں، نااہلی، غیر سنجیدگی،غیر ذمہ داری اور غیر انسانی رول کا ذکر تک اپنی زبان پر نہیں لایا بلکہ ہر بار اپنے عوام کش کارناموں پر پردہ ڈالنے کیلئے دوسروں پر الزامات عائد کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔این سی ترجمان جنید عظیم متو نے بیان میںکہا کہ محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ 2016ایجی ٹیشن کی منصوبہ بندی اونچی سطح پر ہوئی لیکن موصوفہ کو کوئی بتادے کہ یہ ایجی ٹیشن آپ کی حکومت کی اونچی سطح پر ہوئی غلطیوں کی وجہ سے طول پکڑ گئی اور آپ کے غیر ذمہ دارانہ اور عوام دشمن رویہ نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ایجی ٹیشن کے دوران پی ڈی پی وزیر اعلیٰ کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری بیانات سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ موصوفہ جان بوجھ کر حالات بگاڑنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے اُس وقت کشمیریوں کے زخموں کو کریدا جب موصوفہ نے کہا کہ جاں بحق ہوئے بچے کیمپوں پر دودھ اور ٹافی لینے نہیں جاتے ہیں اور خود کوئی ذمہ داری لئے بغیر ان ہلاکتوں کیلئے والدین کو ذمہ دار قرار دیا۔ترجمان نے کہا کہ محبوبہ مفتی ایک دن حریت اور پاکستان کیساتھ بات چیت کی وکالت کرتی ہیں اور اگلے ہی روز انہی کو امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور ریاست کے خراب حالات کیلئے موردِ الزام ٹھہراتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کی جھوٹ بولنے کی تمام حدیں پار کردیں ہیں، موصوفہ کہتی ہیں کہ 2016ایجی ٹیشن کے دوران صرف508افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ صرف370پر پی ایس اے کا اطلاق ہوا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 11000شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور 900کے قریب افراد پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا گیا جن میں متعدد بزرگ شہری اور نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو بتا دے کہ ریاست کے تمام تھانے اور جیل قیدیوں سے بھرے پڑے تھے اور مزید قیدیوں کیلئے جگہ نہیں تھی،صرف508افراد کو حراست میں لینے سے ریاست کے تمام تھانے اور جیل بھر نہیں سکتے۔این سی ترجمان نے کہاکہ پی ڈی پی وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی گزشتہ6ماہ کے دوران کشمیری قوم پر ڈھائے مظالم سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ اگر 2010 کے حالات کیلئے صرف اور صرف عمر عبداللہ کی حکومت ذمہ دار تھی تو 2016میں محبوبہ مفتی خود کو معصوم کیوں جتلاتی پھر رہی ہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By