GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
بور کا دیّا
چلتے چلتے

دنیا میں آئے دن عجیب عجیب باتیں اور واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ کبھی تھمتا بھی نہیں ۔اب اسی بات کو لے لیجئے کہ نائجیریا میں مینڈکی کو زُکام ہوجاتا ہے تو ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا کو چھینکیں آنے لگتی ہیں۔آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ کیسا محاورہ ہے ،ایسا تو اُردو ادب میں نہ مستعمل ہے اور نہ آج تک سنا گیا ہے ۔بجا ہے! مان لیجئے، یہ بھی معمول کی ایک عجیب بات ہے کہ اُردو زبان کے لئے ایک تکا ہی صحیح مگر نیا محاورہ معرض ِوجود میں آگیا ۔بات دراصل یہ ہے کہ آج سے لگ بھگ دس برس قبل راجستھان سے ایک ہندو نوجوان اپنے والدین کی اکیلی اولاد روزگار کے سلسلہ میں بنگلورو جاتا ہے ،وہاں پر سال دو سال رہنے کے بعد وہ اسلامی معاشرے اور تعلیم سے متاثر ہوکر دایرۂ اسلام میں آکر اسلام قبول کرتا ہے ۔ایک دن حسب معمول والدین کے ساتھ فون پر باتوں کے دوران وہ اُن کو بھی اسلام قبول کرنے کی صلاح دیتا ہے بلکہ حتمی طور پر یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ جلد ہی چھٹیوں پر گھر آئے گا تو والدین کو اسلام کے بارے میں پوری واقفیت فراہم کرکے اسلام قبول کروائے گا۔
نوجوان کے ماں باپ یہ بات سن کر بہت پریشان ہوجاتے ہیں اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ مشورہ کرکے اور باقاعدہ پلان بناکر پھر اُس کو گھر بلاتے ہیں ،اُسے آنا تو تھا ہی مگر اس امید و خوشی میں کہ اُس کے والدین بھی اسلام قبول کریں گے ،وہ مقررہ تاریخ سے قبل ہی گھر پہنچ جاتا ہے ۔گھر میں معاملہ مختلف ہوتا ہے ،اُس کے والدین رونا دھونا شروع کردیتے ہیں اور اُس سے یہ گلہ کرتے ہیں کہ وہ اسے بڑھاپے کا سہارا سمجھتے تھے مگر اُلٹے بانس بریلی کی طرف ہوگئے ۔ہم برباد ہوگئے اب بڑھاپے میں ہماری ذمہ داری کون اُٹھائے گا؟بیٹا اُن کو سمجھاتا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں سے وہ کب عہدہ برآ ہونے سے انکار کرتا ہے۔رشتے ایسے ہی بنے رہیں گے جیسے آگے تھے اور بحیثیت اولاد کے میری ذمہ داریوں میں بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ ہمارا صرف بنیادی خیال (Basic conception)اور اعتقاد بدل جائے گا اور عبادت کے طریقے بھی تبدیل ہوجائیں گے۔
نوجوان کے والدین چونکہ لوک لاج اور سماج کے خلاف نہ جا سکے ،ویسے بھی ذہنی طور پر اُن کے من میں ایمان کی شمعیں روشن نہیں ہوئی تھیں ،اس لئے وہ اس مشورے کو ٹھنڈے پیٹوں نہ قبول کرسکے اور نہ ہی برداشت کرسکے۔انہوں نے اسلام دشمن جماعتوں اور قوتوں کے ذریعے بیٹے پر دبائو ڈالنا شروع کیا اور دبائو اس حد تک بڑھ گیا کہ مجبور ہوکر نوجوان نے ایک حلف نامہ (Affeidavit)اس ضمن میں لکھ کر دیا کہ وہ اپنے دھرم پر کاربند ہے اور اسلام سے اُس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔اس عمل سے بہر حال اس بات کا عندیہ مل جاتا ہے کہ اس پر دبائو کتنا ،کس حد تک اور کس نوعیت کا ڈالا گیا ہوگا کہ وہ ایک دم سے بظاہر مرتد ہوگیا۔موقعے کا فائدہ اٹھاکر اُس کے والدین نے اُس کے لئے چٹ منگنی پٹ بیاہ کا بندوبست کردیا اور اس طرح سے اُس کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا گیا مگر کچھ دنوں کے بعد ہی اُس نے دلہن کو سمجھانا شروع کیا ،نرک کی آگ میں جلنے سے بہتر ہے کہ ایک شاندار دائمی زندگی اور راحت و سکون کو حاصل کرنے کے لئے مناسب ہے کہ اسلام کو گلے لگایا جائے ۔اس طرح سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اُس نے وہ بیان حلفی انتہائی مجبوری کی حالت میں دیا ہوگا جب کہ حقیقی معنوں میں وہ ایمان کی لذتوں سے بدستور سرشار تھا ۔دُلہن اُس کی بات سے سہمت نہیں ہوئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ اُس نے بیوی کو اپنے مائیکے بھیج دیا اور خود پھر سے بنگلورو چلا گیا ۔
کچھ عرصہ کے بعد اُس نے بنگلورو میں ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ نکاح کیا ،داڑھی بڑھائی اور اپنے شب و روز میں منہمک ہوگیا ،اُس کو اللہ تعالیٰ نے دوا ولاد نرینہ سے بھی سرفراز کیا ۔اس وقت اُس کا پہلو ٹھا بیٹا پانچ سال کا اور اولاد ثانی تین سال کے ہوچکے ہیں۔معاملہ کب کا آیا گیا ہوگیا ہے ۔ اُس کے والدین اپنی جگہ اور بیٹا (اسلامی نام عبدالرحمان)اپنی جگہ پر ۔ وقت گذرتا گیا ۔۔۔گذرتا جارہا ہے ، سمے کا پنچھی آگے کو اُڑتا جارہا ہے ،وہ پیچھے مُڑکر نہیں دیکھتا اور نہ اُسے پیچھے مُڑکر دیکھنے کی ضرورت ہے مگر اسی دوران مینڈکی کو کہیں اور زکام ہوگیا اور بھارتی الیکٹرانک میڈیا کو چھینکیں یہاں آنے لگیں۔میڈیا نے اس معاملے کو بھی ڈاکٹر ذاکر نائک کے ساتھ جو ڑ دیا ۔لڑکے کے والدین سے بھی اس بارے میں ایک بیان دلوایا گیا کہ اُن کے لڑکے نے ڈاکٹر ذاکر نایک کے ویڈیو سے متاثر ہوکر ہی ایسا’’ انتہائی قدم‘‘ اٹھایا ہے۔اب اندازہ لگا یئے کہ اتنے برس قبل پیس ٹی وی معرض وجود میں آیا ہی نہیں تھا اور ڈاکٹر صاحب بھی اس طرح کے کھلے عام اجتماعات نہیں کرتے تھے اور اگر کرتے بھی تھے تو سامعین کی تعداد ایسی ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کی طرح نہیں ہوتی تھی۔چلئے مان لیتے ہیں کہ عبدالرحمان صاحب ڈاکٹر صاحب کی تقریر سے ہی متاثر ہوئے مگر دس سال قبل یہ قضیہ پیدا نہیں ہوا مگر ان ایامِ خود ستائش اور فخر و مباہات میں چونکہ چابک کی پکڑ اُن کے ہاتھ میں آچکی ہے ،اس لئے وہ چابک کو جس طرف بھی گھمائیں ،مطلب ایک ماتر وہی بغض و عناد ،مسلم دشمنی اور نفرت کا پرچار ہے۔متعصب میڈیا نے ملک بھر میں ایک ایسی آگ سلگائی ہے جس کی آنچ بہت اندرون تک بلکہ بہت دو ر دور تک پہنچ رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس طرح کے ناروا سلوک سے اقلیتوں میں دل برداشتگی اس حد تک بڑھ جائے گی کہ ملک کا کَن کَن ایک نئے انقلاب (upheaval)سے دوچار ہوجائے گا ۔اس لئے اُن کے لئے یہی مشورہ ہے کہ وہ نفرت ،کینہ،حسد ،غرووتکبر اور فخر و مباہات پر تکیہ کرکے دوسروں کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ نفرت کی بیل آج تک نہ منڈھے چڑھی ہے اور نہ آگے کبھی چڑھے گی،بلکہ اس کے برعکس بور کا دیّا ہی ثابت ہوگی۔اس لئے ہم اُن راہ بھٹکے لوگوں سے اتنا ہی کہیں گے کہ    ؎
مطمئن بیٹھے ہو تم نے یہ بھی سوچا ہے کبھی 
جس کا سایہ سر پہ ہے وہ ریت کی دیوار ہے
فاروق انجمؔ
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر
-190001،کشمیر ،  موبائل نمبر:-9419475995 

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By