GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
اردوحروف تہجی۔ ایک جائزہ
لسانیات

ابتدائے آفر ینشں سے ہی انسان نے اپنے مافی الضمیر کو دوسروں تک پہچانے کے لئے زبان کا استعمال کیا ہے۔ یہ صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نظام ہے جس کے اپنے کچھ اصول و ضوابط ہیں۔ زبان کو عام طور پر تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 
(1)۔اشاروں کی زبان  (۲)۔آوازوں کی زبان   اور  (۳)۔ علامتوں کی زبان
ماہرین کا خیال ہے کہ اشاروں کی زبان تقریری اور تحریری زبان سے تقریباً دس لاکھ برس قدیم ہے۔ لیکن آج  تقریری اور تحریری زبان کا ہی عام طور پر چلن ہے۔تحریری زبان کی بنیاد حروف ہیں اور یہی حروف جب آپس میں جوڑ کھاتے ہیں تو الفاظ بنتے ہیں اور الفاظ دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر ہی جملے بنتے ہیں۔ حروف کی تعریف کرتے ہوئے مولوی عبدالحق رقمطراز ہیں:۔’’سادہ آوازوں کو تحریری علامات میں لانے کا نام حرف ہے۔‘‘
                                       (قواعد اُردو۔صفحہ۸۲)
حروف تہجی کی ایجاد کیسے ہوئی ،اس سلسلے میں کئی کہانیاں گھڑی گئی ہیں منجملہ ایک یہ ہے:ہر زبان کے اپنے بنیادی حروف کی تعداد مقرر ہے ۔ مثلاً عربی زبان کے حروف کی تعداد ۸۲ہے۔ انگریزی ۶۲،فارسی ۲۳،لیکن اردو واحد ایسی زبان ہے جس کے حروف تہجی کی تعداد میں اختلاف ہے۔ مولوی نذیر احمد کے نزدیک حروف تہجی کی تعداد انتالیس(۹۳)ہے انشاء اللہ خان انشاء کے نزدیک پچاسی ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔’’چونکہ اُردو کئی زبانوں کا عطر ہے اس لئے اس کے حروف تہجہی کی تعداد زیادہ ہے فصحااور محققوں کے نزدیک یہ تعداد پچاسی (۵۸) ہے ‘‘
                                (دریائے لطافت ۔صفحہ ۱۳)
سلیم عبداللہ کے نزدیک چھیالیس (۶۴)ہے (اُردو کیسے پڑھائیں۔ صفحہ۱۲)
زبیدہ حبیب کے نزدیک پچاس (۵۰)ہیں چنانچہ فرماتی ہیں:۔
’’کسی بھی زبان کی بنیاد اس کے حروف ہیں۔ اُردو زبان کے بھی اپنے حروف ہین جو تعداد میں پچاس ہیں (۵۳ بنیادی اور ۵۱ ہکاری حروف)‘‘ ( تدریس اُردو صفحہ ۳)مولوی عبد الحق نے اُردو حروف تہجی کی تعداد پچاس بتائی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں : ’’ اس حساب سے اُردو زبان میں کل حروف تہجی پچاس ہوتے ہیں‘‘(قواعد اُردو ۔ صفحہ ۹۲)
فداعلی خان صاحب نے پنتیس (۵۳) بتائے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں :’’ اردو میں کل حروف پنتئیس (۵۳) ہیں ‘‘ ( قواعد اُردو ۔ صفحہ ۱۵)ڈاکٹر شکیل الرحمٰن اور ڈاکٹر عبد الحق کے نزدیک چھتیس (۶۳) ہیں (نگار اُردو ۔ صفحہ ۵۱)
درسی کتابوں میں بھی اس طرح کا اختلاف دیکھنے میں ملتا ہے۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹرینگ (NCERT)نے ’’ ابتدائی اُردو‘‘ کے نام سے پہلی جماعت کے  لئے جو اُردو کی درسی کتاب فروری ۶۰۰۲ء میں شائع کی ہے اس کے سبق نمبر چوبیس پر حروف تہجی کی تعد اد چھتیس دے دی گئی ہے ۔ عبد ضنحم بن ارم بن سام بن نوح اور اس کی قوم نے سب سے پہلے عربی میں تحریر کا استعمال کیا اور ان حروف کو گڑھا۔ پروفیسر فدا علی خان اس سلسلے میں فرماتے ہیں: ’’تمام سامی قوموں میں ابتداء اہرام مصری کے کتبوں کی طرح چیزوں کی تصویروں سے تحریر کا کام لیا جاتا تھا۔ ہوتے ہوتے یہ تصویر یںبگڑ بگڑ کے موجودہ حرفوں کینڈے (نمونہ) پر آگئیں اور جن آوازوں سے چیزوںکا نام شروع ہوتا تھا ان کو بتانے لگیں۔ مثلاً ’’ب‘‘بیت یعنیٰ گھر کی ج جمل یعنیٰ اونٹ کی س سِن یعنیٰ دانت کی ع عینزیعنیٰ آنکھ کی اور ن نون یعنی مچھلی کی شکلیں رکھتے تھے۔ ہوتے ہوتے بگڑ بگڑا کے موجودہ صورتیں اختیار کر لیں اور ان چیزوں کے ناموں کے شروع میں جو آواز یں تھیں اُن کی علامات ہوگئیں‘‘(قواعد اُردو۔ صفحہ ۲۵)ڈاکٹر مرزا خلیل بیگ مشہور ماہر لسانیات ہیں۔ انہوں نے چھتیس (۶۳)حروف کی فہرست پیش کی ہے۔ (آئیے اُردو سیکھیں ۔ صفحہ ۴۷)
حروف کی تقسیم کئی اعتبار سے کی جاتی ہے۔ مثلاً (۱) بلحاظ حرکات (۲) بلحاظ نقاط (۳) شمسی و قمری کے لحاظ سے      (۴) بلحاظ مخارج وغیرہ
حروف کی تقسیم بلحاظ حرکات :۔ حرکات کے لحاظ سے حروف کی دو قسمیں ہیں (۱) متحرک (۲) ساکن ۔جس حرف پر زبر، زیر یا  پیش میں سے کوئی حرکت ہو اُس کو متحرک کہتے ہیں اور جس پر کوئی حرکت نہ ہو اس کو ساکن یا مجزوم کہتے ہیں۔ ایک سے زیادہ ساکن ملے ہوئے ہوں تو دوسرے ساکن کو ’’ موقوف‘‘ کہتے ہیں۔ جیسے ’’حور‘‘ اس لفظ میں ’’ح‘‘متحرک ۔ ’’و‘‘ ساکن اور ’’ر‘‘ موقوف ہے ۔ متحرک کی حسب ذیل تین قسمیں ہیں:(۱)۔جس حرف  پر پیش ہو ااُس مضموم یا مرفوع کہتے ہیں۔ (۲) ۔ جس حرف پر زبر ہو اُس کو منصوب یا مفتوح کہتے  ہیں۔(۳)۔ جس حرف کے نیچے زیر ہو اُس کو مکسور یا مجرور کہتے ہیں۔ 
بلحاظ نقاط:۔نقطوں کے اعتبار سے حرفوں کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) ۔ منقوطہ (۲) غیر منقوطہ
منقوطہ:۔ وہ حروف کہلاتے ہیں جن کے اوپر ، نیچے یا درمیان میں نقطے ہوں۔ تعداد کے لحاظ سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) موحدہ۔ ایک نقطے والے جیسے ۔ ب۔ ن ۔ ج ۔ وغیرہ(۲) مثناۃ۔ دو نقطے والے جیسے ۔ ت ۔ ق۔ وغیرہ
(۳) ۔ ثلاثہ:۔ تین نقطے والے جیسے ۔ ث۔ پ۔ وغیرہ۔موقع کے لحاظ اس کی دو قسمیں ہیں ۔(۱) ۔ فوقانی:۔ جس کے اوپر ایک یا ایک سے زیادہ نقطے ہوں مثلاً ۔ ت۔ ث ۔ ف۔ وغیرہ(۲) تحتانی:۔ جس کے نیچے ایک یا اس سے زائد نقطے  ہوں مثلاً ۔ ب ۔ پ۔ وغیرہ۔
جن حرفوں کے نقطے پیٹ میں ہوتے ہیں اُن کے فوقانی یا تحتانی ہونے کا فیصلہ اس طرح ہوتا ہے کہ ان کی ابتدائی و وسطی صورتوں میں نقطے اوپر لکھے جائیں تو فو قانی ہیں جیسے ’’ن‘‘ اور نیچے لکھے جائیں تو تحتانی جیسے’’ج‘‘
بلحاظ شمسی و قمری:۔شمسی وہ حرف کہلاتے ہیں جن کے آگے ’’ال‘‘ کا چراغ نہیں جلتا اور اپنے بعد آنے والے حرف کو مشددبنادیتا ہے۔ حروف شمسی کی تعداد چودہ ہیں جو حسب ذیل ہیں:۔ت۔ث۔د۔ذ۔ ر۔ز۔ س۔ ش۔ ص۔ ض۔ ط۔ظ۔ ل۔ ن۔قمری وہ حرو ف کہلاتے ہیں جن کے سامنے ’ال‘ آتا ہے اور ’’ل‘‘کا تلفظ ادا کیا جاتا ہے ۔حروفِ قمری کی تعداد بھی چودا ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:ا۔ ب۔ ج۔ ح۔ خ۔ ع۔ غ۔ ف۔ ق۔ ک۔ م ۔ و ۔ہ۔ ی
  بلحاظ مخارج۔ مختلف حرفوں کی آوازیں مُنہ کے مختلف حصوں کی حرکت کرنے سے ادا ہو جاتی ہیں۔ اس لئے جن حرفوں کی آوازیں منہ کے جس حصے سے نکلتی ہیں وہ اس حصے کی طرف منسوب کر دیے جاتے ہیں۔ فدا علی خان صاحب مرحوم نے مخارج حروف پانچ بتائے ہیں یعنی حلق، تالو، لسان ، دانت اور ہونٹ:(۱)۔ ا۔ہ۔ ع۔ ج۔ غ ۔ خ ۔ ق۔ (حلق)(۲)۔ ک۔ گ۔ ج۔ چ۔ ش۔ ی۔ ز۔ ض۔ ظ۔ ذ۔ (تالو)(۳)۔ ٹ ۔ ڑ۔ ژ۔ر ۔ڈ ۔(لسان)(۴)۔ ت۔ د۔ ن۔ ل۔ س۔ ث۔ ص ۔ط۔ (دانت)(۵)۔ پ۔ ب۔ ف۔ م ۔ و ۔(ہونٹ)
موصوف مرحوم کی تحقیق سر آنکھوں پر لیکن مخارج میں بہت اختلاف ہے۔ (تفصیل جاننے کے لئے صوتیات کی کتابوں سے رجوع کیا جائے۔)حروف تہجی کی ترتیب کی اگر بات کریں تو مختلف ماہرین نے ان کو صوری اور ترکیبی ترتیب  میں مختلف گروپوں میں تقسیم کیے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا خلیل بیگ نے صوری ترتیب میں حروف تہجی کو گیارہ (۱۱) گروپوں میں اور تر کیبی ترتیب میں سات گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔ پروفیسر نذیر احمد ملک نے پانچ گروپ بنا کر مزید ذیلی گیارہ گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔ (اردو رسم الخط کا جائزہ ۔ بک آف ماڈیولز۔ ڈائٹ سوپور۔ صفحہ ۷۱)علی رفاد فتیحی نے اُردو حروف کو ان شکلوں کے اعتبار سے چھ(۶) گروپوں میں تقسیم کیا ہے (اُردو لسانیات۔ صفحہ ۴۷)ڈاکٹر خلیل بیگ صاحب نے مذید حروف تہجی کو چھ پروٹو شکلوں میں تقسیم کیاہے۔ اُردو کے حروف کھڑی، پڑی اور ترچھی لکیر وں نیز دائروں اور نیم دائروں یا ان کے میل سے تشکیل پاتے ہیں۔ ان شکلوں کو اُردو حروف تہجی کی ماقبل پا پر وٹوشکلیںکہہ سکتے ہیں :۔
(۱) ۔ کھڑی لکیر۔ ا=ا م (۲) پڑی لکیر=۔ب پ ت ٹ ث ف (۳) ترچھی لکیر:۔/=ر ڑ ز ژ و (۴)دائرہ ۔=ج چ ح خ ع غ (۵) نیم دائرہ۔ (=د ڈ ذ)(۶)نیم دائرہ (دامن نما) ں=س ش ص ض ن ی ق
اُردو زبان اور اس کے حروف تہجی بیسوں خوبیوں کی مالک ہے۔ چند ایک کا ذکر اجمالاً کرتا ہوں۔ (۱) اُردو حروف میں ہر قسم کی آواز کے ادا کرنے کی گنجائش ہے۔(۲) یہ دائیں سے بائیں جانب لکھی جاتی ہے۔(۳) جسے اُردو زبان پر قدرت حا صل ہو اُسے مزید کم سے کم دوزبانیں عربی اور فارسی سیکھنی آسان ہو جاتی ہے۔ (۴) اُردو حروف لکھنے میں کم جگہ گھیرتے ہیں۔ (۵) لکھنے میں وقت کم صرف ہو تا ہے۔ 
(۶) صوری لحاظ سے کئی حروف ہم شکل ہیں اس لئے صرف نقطوں کے اوپر نیچے لگانے سے حروف میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ 
(۷) دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمونے کی طاقت رکھتی ہے۔ 
(۸) حروف تہجی کی ایک اہم خوبی اور خصوصیت  یہ بھی ہے کہ اس سے ہند سوں کا م لیا گیا ہے۔ 
ہندسوں سے کام لینا عربی اور فارسی میں ایک قدیم رسم ہے ۔ اگر کسی واقعے کی تاریخ، تاریخ پیدائش یا وفات وغیرہ کو کسی لفظ، جملے یا مصرے سے ظاہر کرنا مقصود ہو تو حرفوں سے ہندسوں کا کام لیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہندئوں نے صرف صفر سے نوتک  کے دس ہندسوں کے ذریعے دنیا بھر کے عددوں کے ظاہر کرنے کی عجیب ترکیب نکالی ہے۔ مسلمانوں نے بھی ان حرفوں کے ذریعے سے ہزاروں تک عددوں کو ظاہر کرنے کی کار آمد تدبیر نکالی ہے۔ یہ کل اٹھائیس حروف ہیں۔ جنہیں حروف ابجد کہا جاتا ہے۔ ان حروف کو آٹھ لفظوں میں لفظوں  میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن میں چار چو حرفی ہیں چار سہہ حرفی۔ ترتیب حسب ذیل ہے۔ ابجد۔ ہوز۔ حطی۔مکممن۔ سعفص۔ قرشت۔ثخذ۔ ضظغ۔اب ہم ان حروف کو اسی ترتیب سے علاحدہ لکھ کر ہر ایک کی قیمت اس کے نیچے لکھ دیتے ہیں۔ 
ہندی اور فارسی حروف کی عددی قیمت وہی ہوتی ہے جو ان کے ہم شکل اور ترتیب تہجی میں سے آنے والے حوفوں کی ہوتی ہے۔ اُردو حروف تہجی کی اتنی خوبیوں کے با وجود اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں جس کے سبب مبتدی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ایک آواز کے لئے کئی حروف ہیں۔ سب سے پہلے یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ دنیا کی کوئی ایسی زبان نہیں جو ہر طرح سے کامل ہو۔ ہر زبان میں کوئی نہ کوئی نقص پا یا جاتا ہے یعنی یا توہر آواز نکالنے کے لئے حروف موجود نہیں یا ایک ہی آواز کیلئے کئی حروف ہیں یا صوتی لحاظ سے ایک آواز کیلئے کئی حروف ہیں۔ آخر الذکر دشواریاں اُردو زبان میں بھی پائے جاتے ہیں۔آئے پہلی دشواری پر ایک سرسری نظر ڈال کر اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پندرہ حروف تہجی لکھتے وقت مکمل طور پر نہیں بدلتے بلکہ صرف مختصر ہو جاتی ہیںاور ان حروف کا سرا پورا پورا لکھا جاتا ہے۔ ج۔ چ۔ ح۔ خ۔ س۔ ش۔ص۔ض۔ع۔غ۔ف۔ق۔ک۔گ۔م
مندرجہ ذیل حروف کی شکلیں نہیں بدلتیں:ا۔ط۔ظ۔و۔ مندرجہ ذیل حروف کی شکلیں کبھی بدل جاتی ہیں اور کبھی نہیں بدلتیں:ب۔ پ۔ت۔ٹ۔ ث۔د۔ڈ۔ذ۔ ر۔ڑ۔ز۔ل۔ن۔ہ۔ی ۔یہ پندرہ حروف ہیں مگر ہم شکل ہونے کے لحاط سے صرف سات ہیں۔ یعنی ب۔د۔ر۔ل۔ن۔ہ۔ی ۔بس ان ساتھ حرفوں کی شکل کی پہچا ن کرنا یا کرانا کوئی مشکل بات نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اُردو مخلوط زبان ہے اس پر فارسی اور عربی کے زبردست اثرات ہیں۔ اس لئے کثرت سے خاص طور پر عربی زبان کے الفاظ اُردو زبان میں موجود ہیں۔ چنانچہ۔ ز۔ذ،ض،ظ، چار الگ الگ حروف ہیں لیکن ان کی آواز قریب قریب یکساں ہے اسی طرف ’ط‘ اور ’ت‘  ’س‘ اور ’ص‘  اور ’ث‘ کی آواز یں یکساں ہیں۔ مثلاً۔ طیار۔ تیار، سطر۔ ستر، صدا۔ سدا، سورت ۔ صورت ۔نذیر۔نظیر، حل ۔ ہل وغیرہ



 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By