تازہ ترین

حج : مسلمانوں کی عالمگیر اجتماعیت

جب  عالم کی فضاء موسم بہار حج سے پرکیف و معطر ہوجاتی ہے تو ان دو عظیم المرتبت انبیاء کرامؑ (یعنی حضرت سیدنا ابراہیمؑ اور حضرت سیدنا اسماعیلؑ ) کے جذبۂ ایثار و قرانی کی یاد شدت سے آنے لگتی ہے جن کو بنی نوع انسانی بالترتیب ’’خلیل اللہ ‘‘ اور ’’ذبیح اللہ‘‘ جیسے جلیل القدر القاب سے یاد کرتی ہے۔ اگر ہم بہ نظر غائر دیکھیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ کائنات کی نشو و نما میں قربانی کا بڑا عمل دخل ہے۔ قربانی کا دستور قدیم ہے۔ ایران، ہندوستان، یونان، روم، عرب، افریقہ اور امریکہ وغیرہ میں قربانی کا رواج عام تھا، لوگ کفارہ ٔمعاصی اور ازالہ غضب اصنام کے لیے قربانیاں دیا کرتے تھے۔ لغت عربی میں قربانی ہر اس عمل کو کہتے ہیں جس سے کسی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش و سعی کی جائے اور اصطلاح شریعت میں اس ذبیحہ کو کہتے ہیں جو اللہ تعالی کی خوشنودی اور

مناسک حج ومقامات حج

حج   اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج لازمی قرار دیا گیا ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید اس فریضے کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ پہنچتے ہیں۔ حج کیا ہے؟  حج دراصل 8 ذوالحجہ سے 12 ذوالحجہ تک مکہ مکرمہ میں کی جانے والی مخصوص عبادات ومناجات کے مجموعے کا نام ہے جس میں احرام باندھنا، طواف کعبہ، سعی کرنا، شیطان کو کنکریاں مارنا ، منٰی میں خطبہ سننا، عرفات میں قیام شامل ہے ۔ مزیدبرآں مدینہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر باادب حاضری ایک اتنی بڑی سعادت ہے جس سے کوئی اُمتی محروم ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حج کی فرضیت  قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿ اس میں کھلی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس

نفع کون کماتا؟

 ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’زمانے کی قسم…  انسان نقصان میں ہے…مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے‘‘… (سورۂ عصر آیت ۱تا۳)…رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ’’ قیامت کے روز بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سےہٹ نہ سکیں گے، جب تک کہ اس سے ان چار باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے:۱… عمر کن کاموں میں گزاری؟۲… جوانی کی توانائی کن کاموں میں لگائی؟۳… مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟۴… علم پر کس حدتک عمل کیا؟ (جامع ترمذی )… وقت اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، لہٰذا بندے پر نعمت کا شکر ادا کرنا ضروری ہے، ورنہ نعمت کو چھین لیا جاتا ہے اور وقت کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و