تازہ ترین

عمران کا خواب

پاکستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج گر چہ عمران خان کے حق میں رہے لیکن اُن کی جیت کو ہمہ گیر نہیں کہا جا سکتا۔نیشنل اسمبلی میں اُن کی پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کے اُبھری البتہ ایک سادہ اکثریت کے حصول سے محروم رہی۔ چناںچہ حکومت سازی کیلئے اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو دوسری احزاب کی حمایت کی ضرورت پڑی۔ ظاہر ہے یہ حمایت شرائط کے بغیر حاصل نہیں ہوتی لہذا بحثیت وزیر اعظم عمران خان کو اپنے تعین کردہ پرگرام پہ عمل پذیر ہونے میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی صورت حال میں جہاں عمران خان کی تحریک انصاف ایک سادہ اکثریت سے محروم اور دوسرے احزاب کی حمایت کی متلاشی ہے وہاں عمران خان کا خواب یعنی ایک نئے پاکستان کا حصول شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے؟ ثانیاََ اگر پی ٹی آئی کو نیشنل اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو بھی جاتی اور وہ اپنے بل بوتے پہ فیڈرل حکومت تشکیل دے ب

کشمیر: کاش یہاں امن وانصاف کی پُر وائیاں چلیں

 مشہورمورخ کلہنؔ نے آج سے کئی صدیاں قبل کشمیری قوم سے متعلق اپنی کتاب راج ترنگنی میںرقم کیا تھا کہ ــ’’ کشمیری قوم کو ہتھیار سے نہیں بلکہ پیار سے حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کلہن ؔکا یہ دعویٰ مبنی برحقیقت تاریخی حقیقت ہے لیکن عصرِحاضر میں شاید یہ اپنی اہمیت ہی کھوبیٹھی ہے ۔ آج کشمیری قوم سے کسی کو پیار ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی ہمدردی بلکہ یہ قوم نفرت کی سیاست کی نذرہو گئی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو چیز سیاست کی نذر ہوجاتی ہے وہ اپنی قدرومنزلت کھوبیٹھتی ہے۔کشمیری آج بھی پیارومحبت اورہمدردی سے سرشار ہیں لیکن  نامساعدحالات کے آگے بے بس اور لاچار بھی ہیں ۔ بے شک کشمیرکا ہر باشندہ پیارومحبت اور ہمدردی کی مثال ہے لیکن پُرتشدد حالات وواقعات کے تسلسل نے اس سرزمین کو مختلف فتنوں میں ڈال رکھا ہے ۔ علامہ اقبال ؔکے بقول     ؎ آج وہ کشمیر ہے محکوم

شیلٹر ہوم کا شرم ناک سانحہ

بہار کے مظفرپور میں ایک شیلٹر ہوم کے زیر کفالت 34؍ یتیم ویسیربچیوں کی آبروریزی کا واقعہ بی جے پی اور جے ڈی یو کی حکمرانی میں لگنے والاایک اور کلنک ہے۔اس لئے کہ جب سے بہار میں نئی مخلوط  حکومت اقتدار سنبھال چکی ہے ،وہاں درندگی اورآبروریزی کے شرم ناک واقعات بڑھ گئے ہیں۔ دس پندرہ سال آ بروریزی کے واقعات کبھی کبھار ہی سننے میں آتے تھے لیکن مجرموں کی دلیری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ نہ اس گھناؤنا واقعہ کو انجام دے رہے ہیں بلکہ اس کا ویڈیو بھی ڈال کر وائرل کر رہے ہیں۔بی جے پی۔ جے ڈی یو کی حکمرانی والی ریاست حکمران پارٹی کے کئی لیڈر مبینہ طور چکلے چلانے،لڑکیوں کی سپلائی کرنے،چھیڑ خانیاں کرنے اورآبروریزی کے الزامات میں گرفتارکئے گئے ہیں۔ مظفر پور بالیکا گھر(شیلٹر ہوم)میں رہنے والی 44 لڑکیوں میںسے 42 کی میڈیکل جانچ کرائے جانے پر ان میں سے 34 کے جنسی استحصال کی تصدیق ہوئی ہے۔ دو لڑکیوں کے

ایران کامختصر دورہ

 راقم  الحروف کو ہندوستان میں ایران کے مذہبی سفیر آیت اللہ مہدوی پور نے ایران کلچر دہلی کی وساطت سے بذریعہ حیدر رضا ضابطہ سفر ایران کا دعوت نامہ موصول ہوا ۔میں نے دعوت نامے کو نیک شگون لیا کیونکہ محسن کشمیر حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ اسی خطہ کے شہر ہمدان سے تعلق رکھتے تھے۔۱۳؍جولائی کو راقم سفر دس افراد پر مشتمل وفد کے ہمراہ ایران روانہ ہوا ۔میں کشمیر سے واحد مدعو تھا جب ک کہ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی حیدر آباد کے دوا سکالر ڈاکٹر حلیم اشرف جالیسی اور ڈاکٹر سید محمد حسیب الدین چستی ،درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے خواجہ سید محمد نظامی، سید محمد رضوان پاشا، حیدر آباد ،علامہ شبیر وارثی ،سید بابر اشرف صدر صوفی فیڈریشن آف انڈیا، سید سمیع اللہ حسینی از خاندان گیسوئے دراز ؒ ، مولانا احمد نقشبندی مبلغ حیدر آباد، مولانا حسیب حسینی،صدر منہاج القرآن بنگلور بھی 

حلقہ ادب اسلامی قطر

 اگر ادب میں صحیح افکار و خیالات کے بجائے کفر و الحاد در آئے، ایمان و یقین کے بجائے شکوک و شبہات پروان چڑھیں، رحمت و امید کے بجائے مایوسی اور قنوطیت کا خناس جمع کیا جائے ، تواضع و انکساری کے بجائے فخر و مباہات ہو، عفو و درگزر کے بجائے انتقامی جذبات کو اُبھارا جائے تو ایسا ادب ہمارے معاشرے کے لئے ایک سم قاتل ثابت ہوگا۔ ادب اسلامی قطر روز اول ہی سے اس بات کے لئے کوشاں رہا ہے کہ ادب اسلامی کا فروغ معاشرہ کے اندر زیادہ سے زیادہ ہو جس کا مقصد یہ ہے کہ نیک جذبات پاکیزہ خیالات اور حقائق کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دین اسلام سے واقف کروایا جائے ،اس کی حقیقت سے روشناس کروایا جائے اور دین اسلام کے بارے میں پھیلائی گئیں بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے دین حق کی خوبیوں کو اُجاگرکیا جائے۔ اس ضمن میں حلقہ ادب اسلامی قطر کا ماہانہ اجلاس ہو اجس کی صدارت کرتے ہوئے سید مشتاق قادری عمری نے اپن

ظالم زمانہ!

 اخلاق ، پہلوخان، جنید، نجیب، افروزل، سراج، عمر، احمد، حافظ شیخ، ظفر، نعمان، زاہد، قاسم، علیم الدین، اکبرخان اور شعیب، ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں پر لگے وہ گہرے گھاؤ  جوجمہوریت اور گنگا جمنی تہذیب کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔ اس کے علاوہ سینکڑوں گمنام شہداء، لٹی ہوئی عصمتیں، تار تار ردائیں، جلتے گھر اور دکانیں، ملبے کا ڈھیر بنیں مساجد اور مدرسے،ہزاروں اشک بار آنکھیں، لاکھوں پاش پاش دل، ٹکڑوں میں بٹے جگر، آہ و بکا کی تانیں بکھیرتے قلم، فریاد کن زبانیں، زخم سے چور چور روحیں، روتی بلکتی آنکھیں ۔۔۔ یہ سب کسی مسیحا، ہمدرد، مخلص غم گسار کی تلاش میں سرگرداں ہیںمگر ناکامی اور نامرادی ہے کہ ان کا پیچھا چھوڑتی نہ انہیں منزل مراد پر پہنچا دیتی۔ کوئی تو ایسامسیحا ہو جو برستے آنسوؤں کو پونچھے، خائف دلوں کو تھامے، رِستے زخموں پر مرہم رکھے، بھیانک ظلمت ، گھٹا ٹوپ اندھیرے اور تاریک شب میں صب