تازہ ترین

بوسنیا خون آشام نسل کشی کے23 سال

گزشتہ  ہفتے بوسنیا ہرزیگوینا کے علاقے سربرنیستا کی نسل کشی کے تیئس سال مکمل ہوگئے- جولائی 1995 ء میں سرب فوج اور سرب وزارت داخلہ کے خصوصی دستوں نے کمانڈر راتکو میلادک کی سربراہی میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمانوں خاص کر مردوں اور نو عمر بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس کے ساتھ ہی تیس ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمان عورتوں، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو منصوبہ بندی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بناکر انہیں زبردستی علاقہ خالی کرانے پر مجبور کیا گیا اور یوں علاقے سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کرایا گیا جس کو سربوں نے اپنی الگ مملکت ریپبلیکا سربسکا کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے بہت ضروری سمجھا۔ قتل و غارت گری کا یہ اندوہناک کھیل یورپی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی آنکھوں کے سامنے کھیلا گیا۔ بوسنیا ہرزیگوینا کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد قتل کئے گئے جن میں دس ہزارکے قریب خواتین بھی

پوٹن ۔ ٹرمپ ملاقات: میدان کس نے مارا؟

فن لینڈ کے دارالحکومت میں امریکا اور روس کے صدور کی ملاقات بالآخرہوہی گئی۔ سولہ جولائی کو ہونے والی ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پوٹن سے بہ راہ راست پوچھا کہ آیا انہوں نے 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی؟ظاہر ہے کہ اس قسم کے سوال کا جواب کیا ہوسکتا تھا۔ صدرپوٹن نے صاف انکار کردیا۔اس قضیے کا پس منظر یہ ہے کہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ اور ان کی مخالف امیدوار ، ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن میں سخت مقابلہ تھا۔انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ بہت بے و قو فی کی باتیں کرتے رہے،لیکن ہیلری نے خاصی سمجھ داری سے مہم چلائی تھی اور آخر تک سب کو یقین تھا کہ وہ ٹرمپ کو شکست دے دیں گی مگر جب انتخابات کے نتائج آئے تو معلوم ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیت گئے ہیں۔جب ٹرمپ جیت کر آگئے تویہ الزامات لگناشروع ہو ئے کہ دراصل انہوں نے روسی مدد سے فتح حاصل کی ہے، کیوں

آسام کے مسلمان بے آرام

ملک  عزیز کی تقسیم سے سب سے زیادہ نقصان میں مسلمان ہی رہے۔وقفے وقفے سے اِس کا اعادہ ہوتا رہتا ہے۔ابھی حال ہی میں آسام میں ہوئے نیشنل رجسٹری آف سِٹیزن(این سی آر) سے یہ بات اور بھی زیادہ ثابت ہو گئی۔اِس قانونی سروے کے مطابق ۴۰؍لاکھ افراد کی شہریت مشکوک ہو گئی ہے۔حالانکہ یہ ابھی ڈرافٹ ہے جس میں گنجائش رکھی گئی ہے کہ متاثرہ افراد مزید کاغذات پیش کر کے اپنی شہریت کو بحال کروا سکتے ہیں۔اسے دسمبر ۲۰۱۸ء تک پورا ہونا ہے۔اس کے بعد حتمی فیصلہ سنا دیا جائے گا کہ کتنے افراد ہندوستان کے شہری نہیں، پھر اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔بی جے پی کی حکومت اگر پھر سے ۲۰۱۹ء میں آجاتی ہے تو سمجھئے انہیں دیش نکالا بھی کیا جا سکتا ہے۔کہنے کو تو یہ کہا جا رہا ہے کہ ایسے تمام لوگ بنگلہ دیشی ہیں جنہوں نے اچھی زندگی اور روزگار کیلئے ہندوستان میں در اندازی کی ہے۔ان میں زیادہ