تازہ ترین

جنوبی ایشیاء کا معاشی اتحاد

جنگ  عظیم کے بعد معاشیات کو عالمی حیثیت میسر آ سکی نہ عالمی معاشی نظام مربوط ہو سکا۔ روس جو کبھی اشتراکی نظام معیشت کا دعویدار تھا، مغرب سے معیشت کی بقا کا طلبگار ہے۔ لاطینی امریکہ کو امریکہ کا سہارا لینا پڑا۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک جس کی معیشت کبھی قابل رشک تھی اور ’’ایشیائی شیر‘‘ کہلاتے تھے، منہ کے بل گرے۔ یورپی ممالک کی یونین نے ایک نئی کرنسی یعنی ’’یورو‘‘ کا نظام نافذ کر لیا اور امریکہ نے NAFTA میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس پورے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ ایک بار پھر قومیت نہیں تو علاقائیت سراٹھا رہی ہے۔ امریکی سابق صدر ولیم جے کلنٹن، نے عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے ایک گزشتہ اجلاس میں کہا تھا ’’یورپ کو چاہیے کہ وہ ایسی اقتصادی پالیسیاں اپنائے جو معاشی ترقی میں معاون ہوں اور وہ اپنی مارکیٹ کو بھی آزا

عمران کا وعدہ

تحریک  انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی نتائج آنے کے فوراًبعد ایک وزیر اعظم کی طرح قوم سے خطاب فرمالیا۔ الفاظ کی حد تک تو یہ بڑا ’’مومنانہ‘‘ خطاب تھا جسے سراہا جارہاہے۔ خدا کرے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ اس پر قائم بھی رہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ ’’ پاکستان کو مدینے جیسی فلاحی ریاست بناؤں گا ‘‘۔ خوش گمانی سے کام لیتے ہوئے ان کے اس عزم کی تحسین کی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قادر و قیوم ہے وہ کسی سے بھی اچھا کام لے سکتا ہے لیکن لامذہب عناصر اور بعض بیرونی طاقتوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی اور ایک تبصرہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر وہ منتخب ہونے سے پہلے ایسی باتیں کرتے تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتی تھیں۔ امریکا جیسی طاقت کسی بھی مسلم ملک میں یہ گوارہ نہیں کرسکتی کہ کوئی اپنے ملک کو نہ صرف اسلامی شناخت دے بلکہ مدینہ منورہ جیسی

اسرائیل اور فلسطین

بعض  اوقات مقامی میڈیا میں ایسی خبروں کو کوئی جگہ یا اہمیت حاصل نہیں ہوتی جو ہر اعتبار سے بہت ہی اہم ہوتی ہیں اور دنیا میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بھی بن سکتی ہیں ۔ حالانکہ مشرق وسطیٰ کے حالات کشمیر میں ہمیشہ ہی گہری دلچسپی اور توجہ کا باعث رہے ہیں لیکن میڈیا کا فوکس عام طورپر روزمرہ کے واقعات پر ہوتا ہے ۔گزشتہ مہینے ایک ایسا سانحہ بھی ہوا جو مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور تقدیر دونوں کو تبدیل کرنے کا باعث ہوگا لیکن یہ خبر ایسی توجہ کا باعث نہیں رہی جیسی کہ ہونا چاہئے تھا ۔اسرائیلی پارلیمنٹ جسے کنیسہ کہا جاتا ہے ،نے اسرائیل کو یہودی مملکت قرار دینے کا قانون منظور کرلیا ۔ اس واقع کی دنیا بھر میں شدید مذمت ہوئی اور اسے نسل پرستی کی معراج قرار دیا گیا ۔ اس قانون کے تحت اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن (قومی مملکت ) قرار دیا گیا جس میں اسرائیل میں آباد عرب اقلیت کو قطعی کوئی حق حاصل نہیں ہوگا ۔

سیلفی جنون

ذرائع  ابلاغ میں چند سالوں میں اس قدرر ترقی ہوئی ہے کہ اب لمحہ بہ لمحہ دنیا سے جڑے رہتے ہوئے ہم اتنے مصروف ہوگئے ہیں کہ دن کی روشنی میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیںدیتا- لوگ اب اپنی ذات میں اتنے محو ہوتے جارہے ہیں کہ وہ اپنے ماحول سے یکسر عاری ہوتے دکھائی دیتے ہیں- ہر کوئی اسمارٹ فون کے ساتھ چمٹے ہوئے گلی محلے، گھر، دفتر ، بازار حتیٰ کہ دسترخوان تک سیلفی بنارہے ہیں. ایسا لگتا ہے جیسے پوری دنیا ایک سیلفستان بن کر رہ گئی ہے-کچھ عرصہ پہلے ایک المناک حادثے میں آسٹریلیا میں ایک بھارتی طالب علم سیلفی لیتے وقت ہلاک ہو گیا۔انکت نامی یہ لڑکا اپنے ہم جماعتیوں کے سا تھ سیر کے دوران البانی کے مقام پر اپنی تصویر لیتے وقت اچانک ایک عمودی ڈھلوان سے پھسل کر 40فٹ نیچے گر گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اسی طرح جرمنی کے مغرب میں واقع ایک گاؤں میں دو خواتین اس وقت بجلی گرنے سے شدید زخمی ہو گئیں جب وہ س

پریم چند۔۔۔ کہانی کار ی کا بے تاج بادشاہ

پریم چند کی تخلیقی دنیا اس قدر وسیع اور متنوع ہے کہ ان کی تقریباً سبھی تخلیقات انسانی جذبات کو چھو جاتی ہیں۔ کچھ لوگ ان کے ناقد ہو سکتے ہیں لیکن وہ بھی ان کی تحریری سادگی کے شیدائی ہیں۔پریم چند ہمارے ملک کی مٹی میں اس قدر رچے بسے ہوئے ہیں کہ ملک کے کسی بھی گوشے میں کسی بھی تھوڑے بہت پڑھے لکھے شخص سے، چاہے وہ کسی بھی عمر کا ہو، پوچھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو ضرور بتائے گا کہ پریم چند کی لکھی کون سی کہانی اس کی پسندیدہ ہے۔ زیادہ تر بچے ’’عیدگاہ‘‘ کو اپنا پسندیدہ افسانہ بتاتے ہیں تو کچھ ’’دو بیلوں کی کتھا‘‘ کو۔بالغ اشخاص کی پسند کچھ الگ ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ’’گودان‘ ‘کا نام لیں یا ’’کفن‘ ‘یا پھر ’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘ کا۔ ان کی تخلیقی دنیا اس قدر وسیع اور متنوع ہے کہ تقری