تازہ ترین

حکمران ہو تو کیسا؟

بہرحال کسی بھی معاشرے کی صالحیت وطہارت وپاکیزگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے حکمران وعلماء بگڑنے سے خود کو بہ صد دل وجاںبچالیں کہ ان دوطبقوںکا بگاڑ اقوام میں پہلے ایک ہیجان پیداکردیتاہے اور پھر یہی ہیجان اسے عبرتناک تباہی کی جانب لے جاتاہے ۔ حضرت امام غزالیؒ عالمگیر فساد ، اخلاقی انحطاط اوردینی تنزل کا ذمہ دار اسی بگاڑ کو قرار دیتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن مبارکؒحضرت غزالی سے دو سوبرس قبل ان ہی دو موقر طبقوںکے بگڑنے کو دین کے بگاڑ سے تعبیر کرتے رہے ۔وھل افسد الدین الا الملوک ۔ و احبارسوء و ر ھبانھا والی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنی رعایاکی مادی ترقی کے لئے کوشاں رہیں، وہاں اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت اور کردار سازی ان کی پہلی ترجیح ہو ۔ معاشرے میں شراورگناہ کے پنپنے کے ہر راستے کو بند کرنے اور ہر اس بد کارانہ کاوش پر قدغن لگانے کی صلاحیت وقوت اُن میں بدرجۂ اتم موجود ہو جوانسانی سماج

توبہ و استغفار

بیماری ایک فطری ہے۔ بیماری انفرادی سطح پر بھی ہوتی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ انسان جسما نی بیما ری میں مبتلا ہو تا ہے تو کر ب و تکلیف اس کا وظیفہ ٔ حیات بن جاتا ہے۔ بعینٖہ انسانی معاشرہ بھی بیما ری میں مبتلا ہوجاتاہے ۔ اس صورت میں انسانی اور اخلاقی اقدار مغلوب اور اوصاف رذیلہ وخصائل خبیثہ غالب ہو کر انسانی معاشرے کو انسان نما درندوں کا معاشرہ بنا ڈالتا ہے کہ سلیم الفطرت انسانو ں اور اوصافِ حمیدہ سے مزین افراد کا جینا دوبھر کر کے رکھ دیتی ہیں۔اس کا نظا رہ آج کل ہر سوکیا جا رہا ہے۔ بہر کیف انسانی جسم اور انسانی معاشرہ کی طرح انسانی روح بھی بیما ری کا شکار ہو جا تی ہے جس کا سماج  میں برا اثر مر تب ہو نا طے ہوتا ہے۔ صغیرہ وکبیرہ گناہ یا اثم و عدوان انسانی روح کی بیماریاں ہیں۔ پیغمبر اعظم ؐ کے اس فرمان عالیہ کہ’’ ہر بیما ری کی دوا ہے‘‘ کے مطا بق کو ئی بھی بیما

سہ طلاق کا شور

کئی برس سے ملک میں تین طلاق کے نام پر بحث و مباحثے کا جوماحول بنا یا جا رہا ہے، اس کامقصود اصلاً شریعت کو نشانہ بنانا ، مسلم پرسنل لا کا مذاق اڑانا، مسلم خوتین کی مظلومیت کا رونا روکر ہمدردی کے لبادے میں مسلمانوں کو دینی وسماجی طور تتر بتر کرنا ہے۔ بظاہر بڑی معصومیت کے ساتھ تین طلاق کا مسئلہ اچھالاجا رہا ہے کہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ طلاق کے اختیار کو سلب کرکے مسلمانوں کے حوالے سے عدالت کو یہ پاور سونپ دینے کی منصوبہ بند کو شش کی جارہی ہے۔اگر ایسا ہوا تو مسلمان بھی غیر مسلم برادران وطن کی طرح تنسیخ نکا ح یا طلاق لینے کے لئے سالہاسال عدالتوں کے چکر کاٹنے اور مقدمے بازی میں اپنا جان و مال کھپا کر بھی ناکا م رہیں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بر سر اقتدار طبقہ کو اچانک مسلمانوں کے سہ طلاق سے’’ نفرت‘‘ اور مسلم خواتین سے ’’ہمدردی کیوںکر پیدا ہو گئی ؟ جب کہ یہ مس